Ar-raheeq Al-makhtoom ...... Mushrikeen Ki Sitam-raniaN

الرحیق المختوم، مشرکین کی ستم رانیاں

مشرکین نے عمرو بن عاص اور عبداللہ بن ربیعہ کو اہم سفارتی مہم کے لیے منتخب کیا اور انہیں نجاشی اور بطریقوں کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے بہترین تحفے دے کر حبش روانہ کیا

Ar-raheeq al-makhtoom ...... mushrikeen ki sitam-raniaN

دارارقم:
مشرکین کی ستم رانیوں کے مقابل حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کو قولاً اور عملاً دونوں طرح اسلام کے اظہار سے روک دیں۔ اور ان کے ساتھ خفیہ طریقے پر اکٹھے ہوں کیونکہ اگر آپﷺ ان کے ساتھ کھلم کھلا اکٹھا ہوتے تو مشرکین آپﷺ کے تزکیہ نفس اور تعلیم کتاب و حکمت کے کام میں یقیناً رکاوٹ ڈالتے اور اس کے نتیجے می فریقین کے درمیان تصادم ہو سکتا تھا بلکہ عملاً سنہ 4 نبوت میں ہو بھی چکا تھا۔

جس کی تفصیل یہ ہے کہ صحابہ کرام گھاٹیوں میں اکٹھے ہو کر نماز پڑھا کرتے تھے۔ ایک بار کفار قریش کے کچھ لوگوں نے دیکھ لیا تو گالم گلوچ اور لڑائی جھگڑے پر اتر آئے، جواباً حضرت سعد بن ابی وقاص نے ایک شخص کو ایسی ضرب لگائی کہ اس کا خون بہہ پڑا اور یہ پہلا خون تھا جو اسلام میں بہایا گیا۔


یہ واضح ہی ہے کہ اگر اس طرح کا ٹکراؤ بار بار ہوتا اور طول پکڑ جاتا تو مسلمانوں کے خاتمے کی نوبت آسکتی تھی لہٰذا حکمت کا تقاضا یہی تھا کہ کام پس پردہ کیا جائے۔

چنانچہ عام صحابہ کرام اپنا اسلام، اپنی عبادت، اپنی تبلیغ اور اپنے باہمی اجتماعات سب کچھ پس پردہ کرتے تھے۔ البتہ رسول اللہﷺ تبلیغ کا کام بھی مشرکین کے رو برو کھلم کھلا انجام دیتے تھے اور عبادت کا کام بھی، کوئی چیز آپﷺ کو اس سے روک نہیں سکتی تھی، تاہم آپ بھی مسلمانوں کے ساتھ خود ان کی مصلحت کے پیش نظر خفیہ طور سے جمع ہوتے تھے، ادھر ارقم رضی اللہ عنہہ بن ابی الارقم مخزومی کا مکان کوہ صفا پر سرکشوں کی نگاہوں اور ان کی مجلسوں سے دور الگ تھلگ واقع تھا۔
اس لیے آپﷺ نے پانچویں سنہ نبوت سے اسی مکان کو اپنی دعوت اور مسلمان کے ساتھ اپنے اجتماع کا مرکز بنا لیا تھا۔
پہلی ہجرت حبشہ:
جور و ستم کا مذکورہ سلسلہ نبوت کے چوتھے سال کے درمیان یا آخر میں شروع ہوا تھا اور ابتداً معمولی تھا مگر دن بدن اور ماہ بماہ بڑھتا گیا یہاں تک کہ نبوت کے پانچویں سال کا وسط آتے آتے اپنے شباب کو پہنچ گیا حتیٰ کہ مسلمانوں کے لیے مکہ میں رہنا دوبھر ہوگیا۔
اور انہیں ان پیہم ستم رانیوں سے نجات کی تدبیر سوچنے کے لیے مجبور ہو جانا پڑا۔ ان ہی سنگین اور تاریک حالات میں سورة کہف نازل ہوئی۔ یہ اصلاً تو مشرکین کے پیش کردہ سوالات کے جواب میں تھی لیکن اس میں جو تین واقعات بیان کئے گئے ان واقعات میں اللہ تعالی کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے مستقبل کے بارے میں نہایت بلیغ اشارے تھے چنانچہ اصحاب کہف کے واقعے میں یہ درس موجود ہے کہ جب دین و ایمان خطرے میں ہو تو کفر و ظلم کے مراکز سے ہجرت کے لیے تن بہ تقدیر نکل پڑنا چاہیے، ارشاد ہے:
”اور جب تم ان سے اور اللہ کے سوا ان کے دوسروں معبودوں سے الگ ہوگئے تو غار میں پناہ گیر ہو جاﺅ، تمہارا رب تمہارے لیے اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے کام کے لیے تمہاری سہولت کی چیز تمہیں مہیا کرے گا۔

موسی اور خضر علیہ السلام کے واقعے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نتائج ہمیشہ ظاہری حالات کے مطابق نہیں ہوتے بلکہ بسا اوقات ظاہری حالات کے بالکل برعکس ہوتے ہیں لہٰذا اس واقعے میں اس بات کی طرف لطیف اشارہ پنہاں ہے کہ مسلمانوں کے خلاف اس وقت جو ظلم و تشدد برپا ہے اس کے نتائج بالکل برعکس نکلیں گے اور یہ سرکش مشرکین ایمان نہ لائے تو آئندہ ان ہی مقہور و مجبور مسلمانوں کے سامنے سرنگوں ہو کر اپنی قسمت کے فیصلے کے لیے پیش ہوں گے۔

ذوالقرنین کے واقعے میں چند خاص باتوں کی طرف اشارہ ہے۔
1۔ یہ کہ زمین اللہ کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے۔
2۔ یہ کہ فلاح و کامرانی ایمان ہی کی راہ میں ہے کفر کی راہ میں نہیں۔
3۔ یہ کہ اللہ تعالیٰ رہ رہ کر اپنے بندوں میں سے ایسے افراد کھڑے کرتا رہتا ہے جو مجبور و مقہور انسانوں کو اس دور کے یاجوج سے نجات دلاتے ہیں۔

4۔ یہ کہ اللہ کے صالح بندے ہی زمین کی وراثت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔
پھر سورہ کہف کے بعد سورہ زمر کا نزول ہوا اور اس میں ہجرت کی طرف اشارہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ اللہ کی زمین تنگ نہیں ہے:
"جن لوگوں نے اس دنیا میں اچھائی کی ان کے لیے اچھائی ہے اور ان کی زمین کشادہ ہے، صبر کرنے والوں کو ان کا اجر حساب دیا جائے گا۔"
ادھر رسول اللہ ﷺ کو معلوم تھا کہ اصحمہ نجاشی شاہ حبش ایک عادل بادشاہ ہے۔
وہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا۔ اس لیے آپﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ فتنوں سے اپنے دین کی حفاظت کے لیے حبشہ ہجرت کر جائیں۔ اس کے بعد ایک طے شدہ پروگرام کے مطابق رجب 5 نبوی میں صحابہ کرام کے پہلے گروہ نے حبشہ کی جانب ہجرت کی۔ اس گروہ میں بارہ مرد اور چار عورتیں تھیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان ان کے امیر تھے۔ اور ان کے ہمراہ رسول اللہﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔
رسول اللہﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ حضرت ابراہیم اور حضرت لوط علیہ السلام کے بعد یہ پہلا گھرانہ ہے جس نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی۔
یہ لوگ رات کی تاریکی میں چپکے سے نکل کر اپنی نئی منزل کی جانب روانہ ہوئے۔ رازداری کا مقصد یہ تھا کہ قریش کو اس کا علم نہ ہو سکے۔ رخ بحر احمر کی بندرگاہ شعیبہ کی جانب تھا۔ خوش قسمتی سے وہاں دو تجارتی کشتیاں موجود تھیں جو انہیں اپنے دامن عافیت میں لے کر سمندر پار حبشہ چلی گئیں۔
قریش کو کسی قدر بعد میں ان کی روانگی کا علم ہو سکا۔ تاہم انہوں نے پیچھا کیا اور ساحل تک پہنچے لیکن صحابہ کرام آگے جا چکے تھے‘ اس لیے نامراد واپس آئے۔ ادھر مسلمان نے حبشہ پہنچ کر بڑے چین کا سانس لیا۔ اسی سال رمضان شریف میں یہ واقعہ پیش آیا کہ نبیﷺ ایک بار حرم تشریف لے گئے۔ وہاں قریش کا بہت بڑا مجمع تھا۔ ان کے سردار اور بڑے بڑے لوگ جمع تھے۔
آپﷺ نے ایک دم اچانک کھڑے ہو کر سورہ نجم کی تلاوت شروع کر دی۔ ان کفار نے اس سے پہلے عموماً قرآن سنا نہ تھا کیونکہ ان کا دائمی وطیرہ قرآن کے الفاظ میں یہ تھا کہ:
ترجمہ:”اس قرآن کو مت سنو اور اس میں خلل ڈالو۔ (اور اودھم مچاﺅ) تاکہ تم غالب رہو۔“
لیکن جب نبیﷺ نے اچانک اس سورہ کی تلاوت شروع کر دی۔ اور ان کے کانوں میں ایک ناقابل بیان رعنائی و دلکشی اور عظمت لئے ہوئے کلام الہٰی کی آواز پڑی تو انہیں کچھ ہوش نہ رہا، سب کے سب گوش بر آواز ہو گئے، کسی دل میں کوئی اور خیال ہی نہ آیا۔
یہاں تک کہ جب آپﷺ نے سورہ کے اواخر میں دل ہلا دینے والی آیات تلاوت فرما کر اللہ کا یہ حکم سنایا کہ
ترجمہ:”اللہ کے لیے سجدہ کرو اور اس کی عبادت کرو۔“
اور اس کے ساتھ ہی سجدہ فرمایا تو کسی کو اپنے آپ پر قابو نہ رہا اور سب کے سب سجدے میں گر پڑے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس موقع پر حق کی رعنائی و جلال نے متکبرین و مستہزئین کی ہٹ دھرمی کا پردہ چاک کر دیا تھا اس لیے انہیں اپنے آپ پر قابو نہ رہ گیا تھا اور وہ بے اختیار سجدے میں گر پڑے تھے۔

بعد میں جب انہیں احساس ہوا کہ کلام الہی کے جلال نے ان کی لگام موڑ دی۔ اور وہ ٹھیک وہی کام کر بیٹھے جسے مٹانے اور ختم کرنے کے لیے انہوں نے ایڑی سے چوٹی تک کا زور لگا رکھا تھا اور اس کے ساتھ ہی اس واقعے میں غیر موجود مشرکین نے ان پر ہر طرف سے عتاب اور ملامت کی بوچھاڑ شروع کی تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے اور انہوں نے اپنی جان چھڑانے کے لیے رسول اللہﷺ پر یہ افتراء پردازی کی اور یہ جھوٹ گھڑا کہ آپﷺ نے ان کے بتوں کا ذکر عزت و احترام سے کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ
ترجمہ: یہ بلند پایہ دیویاں ہیں۔
اور ان کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے۔“
حالانکہ یہ صریح جھوٹ تھا جو محض اس لیے گھڑ لیا گیا تھا تاکہ نبیﷺ کے ساتھ سجدہ کرنے کی جو غلطی ہوگئی ہے اس کے لیے ایک معقول عذر پیش کیا جا سکے۔ اور ظاہر ہے کہ جو لوگ نبیﷺ پر ہمیشہ جھوٹ گھڑتے اور آپﷺ کے خلاف ہمیشہ دسیسہ کاری اور افتراء پردازی کرتے رہے تھے وہ اپنا دامن بچانے کے لیے اس طرح کا جھوٹ کیوں نہ گھڑتے۔

بہرحال مشرکین کے سجدہ کرنے کے اس واقعے کی خبر حبشہ کے مہاجرین کو بھی معلوم ہوئی لیکن اپنی اصل صورت سے بالکل ہٹ کر یعنی انہیں یہ معلوم ہوا کہ قریش مسلمان ہو گئے ہیں، چنانچہ انہوں نے ماہ شوال میں مکہ واپسی کی راہ لی۔ لیکن جب اتنے قریب آ گئے کہ مکہ ایک دن سے بھی کم فاصلے پر رہ گیا تو حقیقت حال آشکارا ہوئی۔ اس کے بعد کچھ لوگ تو سیدھے حبشہ پلٹ گئے اور کچھ لوگ چھپ چھپا کر یا قریش کے کسی آدمی کی پناہ لیکر مکے میں داخل ہوئے۔

دوسری ہجرت حبشہ:
اس کے بعد مہاجرین پر خصوصاً اور مسلمانوں پر عموماً قریش کا ظلم و تشد جور و ستم اور بڑھ گیا اور ان کے خاندان والوں نے انہیں خوب ستایا کیونکہ قریش کو ان کے ساتھ نجاشی کے حسن سلوک کی جو خبر ملی تھی اس پر وہ نہایت چیں بہ جبیں تھے۔ ناچار رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام کو پھر ہجرت حبشہ کا مشورہ دیا لیکن یہ دوسری ہجرت پہلی ہجرت کے بالمقابل اپنے دامن میں زیادہ مشکلات لیے ہوئے تھی کیونکہ اب کی بار قریش پہلے سے ہی چوکنا تھے اور ایسی کسی کوشش کو ناکام بنانے کا تہیہ کئے ہوئے تھے لیکن مسلمان ان سے کہیں زیادہ مستعد ثابت ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے سفر آسان بنا دیا چنانچہ وہ قریش کی گرفت میں آنے سے پہلے ہی شاہ حبش کے پاس پہنچ گئے۔

اس دفعہ کل 82 یا 83 مردوں نے ہجرت کی (حضرت عمار کی ہجرت مختلف فیہ ہے) اور اٹھارہ یا انیس عورتوں نے۔ علامہ منصور پوری نے یقین کے ساتھ عورتوں کی تعداد اٹھارہ لکھی ہے۔
مہاجرین حبشہ کے خلاف قریش کی سازش:
مشرکین کو سخت قلق تھا کہ مسلمان اپنی جان اور اپنا دین بچا کر ایک پرامن جگہ بھاگ گئے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے عمرو بن عاص اور عبداللہ بن ربیعہ کو، جو گہری سوجھ بوجھ کے مالک تھے اور ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، ایک اہم سفارتی مہم کے لیے منتخب کیا اور ان دونوں کو نجاشی اور بطریقوں کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے بہترین تحفے اور ہدیے دے کر حبش روانہ کیا۔
ان دونوں نے پہلے حبش پہنچ کر بطریقوں کو تحائف پیش کئے۔ پھر انہیں اپنے دلائل سے آگاہ کیا، جن کی بنیاد پر وہ مسلمانوں کو حبش سے نکلوانا چاہتے تھے۔ جب بطریقوں نے اس بات سے اتفاق کر لیا کہ وہ نجاشی کو مسلمانوں کے نکال دینے کا مشورہ دیں گے تو یہ دونوں نجاشی کے حضور حاضر ہوئے اور تحفے تحائف پیش کرکے اپنا مدعا یوں عرض کیا:
اے بادشاہ! آپ کے ملک میں ہمارے کچھ ناسمجھ نوجوان بھاگ آئے ہیں۔
انہوں نے اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا ہے۔ لیکن آپ کے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہیں بلکہ ایک نیا دین ایجاد کیا ہے جسے نہ ہم جانتے ہیں نہ آپ۔ ہمیں آپ کی خدمت میں انہی کی بابت ان کے والدین، چچاﺅں اور کنبے قبیلے کے عمائدین نے بھیجا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ آپ انہیں ان کے پاس واپس بھیجدیں کیونکہ وہ لوگ ان پر کڑی نگاہ رکھتے ہیں اور ان کی خامی اور عتاب کے اسباب کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔
جب یہ دونوں اپنا مدعا عرض کر چکے تو بطریقوں نے کہا بادشاہ سلامت یہ دونوں ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں، آپ ان جوانوں کو ان دونوں کے حوالے کر دیں۔ یہ دونوں انہیں ان کی قوم اور ان کے ملک میں واپس پہنچا دیں گے۔
لیکن نجاشی نے سوچا کہ اس قضیے کو گہرائی سے کھنگالنا اور اس کے تمام پہلوﺅں کو سننا ضروری ہے۔ چنانچہ اس نے مسلمانوں کو بلا بھیجا۔ مسلمان یہ تہیہ کرکے اس کے دربار میں آئے کہ ہم سچ ہی بولیں گے خواہ نتیجہ کچھ بھی ہو۔
جب مسلمان آ گئے تو نجاشی نے پوچھا "یہ کون سا دین ہے جس کی بنیاد پر تم نے اپنی قوم سے علیٰحدگی اختیار کرلی ہے۔ لیکن میرے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہو۔ اور نہ ان ملتوں ہی میں سے کسی کے دین میں داخل ہوئے ہو؟"
مسلمانوں کے ترجمان حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے بادشاہ ہم ایسی قوم تھے جو جاہلیت میں مبتلا تھی۔ ہم بت پوجتے تھے، مردار کھاتے تھے، بدکاریاں کرتے تھے، قرابتداوں سے تعلق توڑتے تھے۔
ہمسایوں سے بدسلوکی کرتے تھے اور ہم میں سے طاقتور کمزور کو کھارہا تھا۔ ہم اسی حالت میں تھے کہ اللہ نے ہم ہی میں سے ایک رسول بھیجا۔ اس کی عالی نسبی، سچائی، امانت اور پاکدامنی ہمیں پہلے سے معلوم تھی۔ اس نے ہمیں اللہ کی طرف بلایا اور سمجھایا کہ ہم صرف اللہ کو مانیں اور اس کی عبادت کریں اور اس کے سوا جن پتھروں اور بتوں کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، انہیں چھوڑ دیں۔
اس نے ہمیں سچ بولنے، امانت ادا کرنے، قرابت جوڑنے، پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے اور حرام کاری و خونریزی سے باز رہنے کا حکم دیا۔ اور فواحش میں ملوث ہونے، جھوٹ بولنے، یتیم کا مال کھانے اور پاکدامن عورتوں پر جھوٹی تہمت لگانے سے منع کیا۔ اس نے ہمیں یہ بھی حکم دیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اس نے ہمیں نماز، روزہ اور زکوٰة کا حکم دیا"۔
۔۔ اس طرح حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے اسلام کے کام گنائے، پھر کہا: "ہم نے اس کی پیروی کی، چنانچہ ہم نے صرف اللہ کی عبادت کی، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا اور جن باتوں کو اس پیغمبر نے حرام بتایا انہیں حرام مانا‘ اور جن کو حلال بتایا انہیں حلال جانا۔ اس پر ہماری قوم ہم سے بگڑ گئی۔ اس نے ہم پر ظلم و ستم کیا اور ہمیں ہمارے دین سے پھیرنے کے لیے فتنے اور سزاﺅں سے دوچار کیا۔
تاکہ ہم اللہ کی عبادت چھوڑ کر بت پرستی کی طرف پلٹ جائیں۔ اور جن گندی چیزوں کو حلال سمجھتے تھے انہیں پھر حلال سمجھنے لگیں۔ جب انہوں نے ہم پر بہت قہر و ظلم کیا، زمین تنگ کردی اور ہمارے درمیان اور ہمارے دین کے درمیان روک بن کر کھڑے ہوگئے تو ہم نے آپ کے ملک کی راہ لی۔ اور دوسروں پر آپ کو ترجیح دیتے ہوئے آپ کی پناہ میں رہنا پسند کیا۔ اور یہ امید کی کہ اے بادشاہ! آپ کے پاس ہم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
"
نجاشی نے کہا: وہ پیغمبر جو کچھ لائے ہیں اس میں سے کچھ تمہارے پاس ہے؟
حضرت جعفر نے کہا: ہاں!
نجاشی نے کہا : ذرا مجھے بھی پڑھ کر سناﺅ۔
حضرت جعفر نے سورہ مریم کی ابتدائی آیات تلاوت فرمائیں۔ نجاشی اس قدر رویا کہ اس کی داڑھی تر ہوگئی۔ نجاشی کے تمام اسقف بھی حضرت جعفر کی تلاوت سن کر اس قدر روئے کہ ان کے صحیفے تر ہوگئے۔
پھر نجاشی نے کہا کہ یہ کلام اور وہ کلام جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام لے کر آئے تھے۔ دونوں ایک ہی شمع دان سے نکلے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد نجاشی نے عمرو بن عاص اور عبداللہ بن ربیعہ کو مخاطب کرکے کہا کہ تم دونوں چلے جاؤ۔ میں ان لوگوں کو تمہارے حوالے نہیں کر سکتا اور نہ یہاں ان کے خلاف کوئی چال چلی جا سکتی ہے۔
اس حکم پر وہ دونوں وہاں سے نکل گئے۔
لیکن پھر عمرو بن عاص نے عبداللہ بن ربیعہ سے کہا: "خدا کی قسم کل ان سے متعلق ایسی بات لاﺅں گا کہ ان کی ہریالی کی جڑ کاٹ کر رکھ دوں گا۔“ عبداللہ بن ربیعہ نے کہا: "ایسا نہ کرنا۔ ان لوگوں نے اگرچہ ہمارے خلاف کیا ہے۔ لیکن ہیں بہرحال ہمارے اپنے ہی کنبے قبیلے کے لوگ۔" مگر عمرو بن عاص اپنی رائے پر اڑے رہے۔
اگلا دن آیا تو عمرو بن عاص نے نجاشی سے کہا: اے بادشاہ! یہ لوگ عیسیٰ بن مریم کے بارے میں ایک بڑی بات کہتے ہیں۔
اس پر نجاشی نے مسلمانوں کو پھر بلا بھیجا۔ وہ پوچھنا چاہتا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مسلمان کیا کہتے ہیں۔ اس دفعہ مسلمانوں کو گھبراہٹ ہوئی۔ لیکن انہوں نے طے کیا کہ سچ ہی بولیں گے، نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو۔ چنانچہ جب مسلمان نجاشی کے دربار میں حاضر ہوئے اور اس نے سوال کیا تو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
ہم عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں وہی بات کہتے ہیں جو ہمارے نبیﷺ لے کر آئے ہیں۔
یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے، اس کے رسول، اس کی روح اور اس کا وہ کلمہ ہیں جسے اللہ نے کنواری پاکدامن حضرت مریم علیہ السلام کی طرف القا کیا تھا۔"
اس پر نجاشی نے زمین سے ایک تنکہ اٹھایا اور بولا خدا کی قسم جو کچھ تم نے کہا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس سے اس تنکے کر برابر بھی بڑھ کر نہ تھے۔ اس پر بطریقوں نے ہونہہ کی آواز لگائی۔
نجاشی نے کہا اگرچہ تم لوگ ہونہہ کہو۔
اس کے بعد نجاشی نے مسلمانوں سے کہا جاﺅ تم لوگ میرے قلمرو میں امن و امان سے ہو، جو تمہیں گالی دے گا اس پر تاوان لگایا جائے گا۔ مجھے گوارا نہیں کہ تم میں سے میں کسی آدمی کو ستاﺅں اور اس کے بدلے مجھے سونے کا پہاڑ مل جائے۔
اس کے بعد اس نے اپنے حاشیہ نشینوں سے مخاطب ہو کر کہا: "ان دونوں کو ان کے ہدیے واپس کر دو۔
مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ خدا کی قسم اللہ تعالی نے جب مجھے میرا ملک واپس کیا تھا تو مجھ سے کوئی رشوت نہیں لی تھی کہ میں اس کی راہ میں رشوت لوں۔ نیز اللہ نے میرے بارے میں لوگوں کی بات قبول نہ کی تھی کہ میں اللہ کے بارے میں لوگوں کی بات نہ مانوں۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا، جنہوں نے اس واقعے کو بیان کیا ہے، کہتی ہیں اس کے بعد وہ دونوں اپنے ہدیے تحفے لیے بے آبرو ہو کر واپس چلے گئے اور ہم نجاشی کے پاس ایک اچھے ملک میں ایک اچھے پڑوسی کے زیر سایہ مقیم رہے۔

یہ ابن اسحاق کی روایت ہے۔ دوسرے سیرت نگاروں کا بیان ہے کہ نجاشی کے دربار میں حضرت عمرو بن عاص کی حاضری جنگ بدر کے بعد ہوئی تھی۔ بعض لوگوں نے تطبیق کی یہ صورت بیان کی ہے کہ حضرت عمرو بن عاص نجاشی کے دربار میں مسلمانوں کی واپسی کے لیے دو مرتبہ گئے تھے لیکن جنگ بدر کے بعد کی حاضری کے ضمن میں حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور نجاشی کے درمیان سوال و جواب کی جو تفصیلات بیان کی جاتی ہیں وہ تقریباً وہی ہیں جو ابن اسحاق نے ہجرت حبشہ کے بعد کی حاضری کے سلسلے میں بیان کی ہیں۔
پھر ان سوالات کے مضامین سے واضح ہوتا ہے کہ نجاشی کے پاس یہ معاملہ ابھی پہلی بار پیش ہوا تھا۔ اس لیے ترجیح اس بات کو حاصل ہے کہ مسلمانوں کو واپس لانے کی کوشش صرف ایک بار ہوتی تھی اور وہ ہجرت حبشہ کے بعد تھی۔
بہرحال مشرکین کی چال ناکام ہوگئی اور ان کی سمجھ میں آگیا کہ وہ اپنے جذبہ عداوت کو اپنے دائرہ اختیار ہی میں آسودہ کر سکتے ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں انہوں نے ایک خوفناک بات سوچنی شروع کر دی۔
درحقیقت انہیں اچھی طرح احساس ہوگیا تھا کہ اس مصیبت سے نمٹنے کے لیے اب ان کے سامنے دو ہی راستے رہ گئے ہیں یا تو رسول اللہﷺ کو تبلیغ سے بزور طاقت روک دیں یا پھر آپﷺ کے وجود ہی کا صفایا کر دیں۔ لیکن دوسری صورت حد درجہ مشکل تھی کیونکہ ابو طالب آپﷺ کے محافظ تھے اور مشرکین کے عزائم کے سامنے آہنی دیوار بنے ہوئے تھے۔ اس لیے یہی مفید سمجھا گیا کہ ابو طالب سے دو دو باتیں ہو جائیں۔

Your Thoughts and Comments