Nabuwwat O Risaalat Ki ChhaoN MeiN

نبوت و رسالت کی چھاؤں میں

رسول اللہ ﷺ کی عمر جب چالیس برس کے قریب ہو چلی اور اس دوران آپ ﷺ کے اب تک کے تاملات نے قوم سے آپ ﷺ کا ذہنی اور فکری فاصلہ بہت وسیع کر دیا تھا تو آپ ﷺ کو تنہائی محبوب ہو گئی

Nabuwwat o Risaalat ki chhaoN meiN

غار حرا کے اندر:
رسول اللہ ﷺ کی عمر جب چالیس برس کے قریب ہو چلی ۔۔۔۔اور اس دوران آپ ﷺ کے اب تک کے تاملات نے قوم سے آپ ﷺ کا ذہنی اور فکری فاصلہ بہت وسیع کر دیا تھا۔۔۔۔۔تو آپ ﷺ کو تنہائی محبوب ہو گئی۔ چنانچہ آپ ﷺ ستو اور پانی لے کر مکہ سے کوئی دو میل دور کوہ حرا کے ایک غار میں جا رہتے۔۔۔یہ ایک مختصر سا غار ہے جس کا طول چار گز اور عرض پونے دو گز ہے، یہ نیچے کی جانب گہرا نہیں ہے بلکہ ایک مختصر راستے کے بازو میں اوپر کی چٹانوں کے باہم ملنے سے ایک کوتل کی شکل اختیار کئے ہوئے ہے۔


آپ ﷺ جب یہاں تشریف لے جاتے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی آپ ﷺ کے ہمراہ جاتیں اور قریب ہی کسی جگہ موجود رہتیں۔ آپ ﷺ رمضان بھر اس غار میں قیام فرماتے۔آنے جانے والے مسکینوں کو کھانا کھلاتے اور بقیہ اوقات اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزارتے، کائنات کے مشاہد اور اس کے پیچھے کارفرما قدرت نادرہ پر غور فرماتے۔

آپ ﷺ کو اپنی قوم کے لچر پوچ شرکیہ عقائد اور واہیات تصورات پر بالکل اطمناان نہ تھا لیکن آپﷺ کے سامنے کوئی واضح راستہ، معین طریقہ اور افراط و تفریط سے ہٹی ہوئی کوئی ایسی راہ نہ تھی جس پر آپﷺ اطمناکن و انشراح قلب کے ساتھ رواں دواں ہو سکتے۔


نبیﷺ کی یہ تنہائی پسندی بھی درحقیقت اللہ تعالی کی تدبیر کا ایک حصہ تھی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو آنے والے کار عظیم کے لیے تیار کر رہا تھا۔ درحقیقت جس روح کے لیے بھی یہ مقدر ہو کہ وہ انسانی زندگی کے حقائق پر اثرانداز ہو کر ان کا رخ بدل ڈالے اس کے لیے ضروری ہے کہ زمین کے مشاغل، زندگی کے شور اور لوگوں کے چھوٹے چھوٹے ہم و غم کی دنیا سے کٹ کر کچھ عرصے کے لیے الگ تھلگ اور خلوث نشین رہے۔

ٹھیک اسی سنت کے مطابق جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو امانت کبریٰ کا بوجھ اٹھانے، روئے زمین کو بدلنے اور خطہ تاریخ کو موڑنے کے لیے تیار کرنا چاہا تو رسالت کی ذمہ داری عائد کرنے سے تین سال پہلے آپﷺ کے لیے خلوت نشینی مقدر کر دی، آپﷺ اس خلوت میں ایک ماہ تک کائنات کی آزاد روح کے ساتھ ہم سفر رہتے اور اس وجود کے پیچھے چھپے ہوئے غیب کے اندر تدبر فرماتے تاکہ جب اللہ تعالیٰ کا اذن ہو تو اس غیب کے ساتھ تعامل کیلےا مستعد رہیں۔

جبریل علیہ السلام وحی لاتے ہیں:
جب آپ ﷺ کی عمر چالیس برس ہوگئی۔۔۔اور یہی سن کمال ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہی پیغمبروں کی بعثت کی عمر ہے۔۔۔تو زندگی کے افق کے پار سے آثار نبوت چمکنا اور جگمگانا شروع ہوئے۔یہ آثار خواب تھے۔ آپﷺ جو بھی خواب دیکھتے وہ سپیدہ صبح کی طرح نمودار ہوتا۔اس حالت پر چھ ماہ کا عرصہ گزر گیا۔
۔۔۔جو مدت نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے اور کل مدت نبوت تیس برس ہے۔۔۔۔اس کے بعد جب حرا میں خلوت نشینی کا تیسرا سال آیا تو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ روئے زمین کے باشندوں پر اس کی رحمت کا فیضان ہو۔چنانچہ اس نے آپ ﷺ کو نبوت سے مشرف کیا اور حضرت جبریل علیہ السلام قرآن مجید کی چند آیات لے کر آپ ﷺ کے پاس تشریف لائے۔ (حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ بیہقی نے یہ حکایت کی ہے کہ خواب کی مدت چھ ماہ تھی،لہٰذا خواب کے ذریعے نبوت کا آغاز چالیس سال کی عمر مکمل ہونے پر ربیع الاول میں ہوا جو آپ ﷺ کی ولادت کا مہینہ ہے لیکن حالت بیداری میں آپ ﷺ کے پاس وحی رمضان شریف میں آئی)
دلائل و قرائن پر ایک جامع نگاہ ڈال کر حضرت جبریل علیہ السلام کی تشریف آوری کے اس واقعے کی تاریخ معین کی جاسکتی ہے۔
ہماری تحقیق کے مطابق یہ واقعہ رمضان المبارک کی 21 تاریخ کو دو شنبہ کی رات میں پیش آیا۔اس روز اگست کی 10 تاریخ تھی اور 610ء تھا،قمری حساب سے نبی ﷺ کی عمر چالیس سال چھ مہینے بارہ دن اور شمسی حساب سے 39 سال تین مہینے ۲۲ دن تھی۔
آغاز وحی کا مہینہ، دن اور تاریخ:
مورخین میں بڑا اختلاف ہے کہ نبی ﷺ کس مہینے شرف نبوت اور اعزاز وحی سے سرفراز ہوئے۔
بیشتر سیرت نگار کہتے ہیں کہ یہ ربیع الاول کا مہینہ تھا لیکن ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ رمضان کا مہینہ تھا، بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ رجب کا مہینہ تھا۔ ہمارے نزدیک دوسرا قول زیادہ صیحر ہے کہ یہ رمضان کا مہینہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ ترجمہ: ”رمضان کا مہینہ ہی وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں قرآن کریم نازل کیا گیا“،اور ارشاد ہے، ترجمہ: یعنی ” ہم نے قرآن کو لیلة القدر میں نازل کیا اور معلوم ہے کہ لیلة القدر رمضان میں ہے۔
یہی لیلة القدر اللہ تعالیٰ اس ارشاد میں بھی مراد ہے۔ ترجمہ: ”ہم نے قرآن مجید کو ایک بابرکت رات میں اتارا، ہم لوگوں کو عذاب کے خطرے سے آگاہ کرنے والے ہیں۔
آئیے اب ذرا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبانی اس واقعے کی تفصیلات سنیں۔یہ انوار لاہوت کا ایک ایسا شعلہ تھا جس سے کفر و ضلالت کی تاریکیاں چھٹتی چلی گئیں،یہاں تک کہ زندگی کی رفتار بدل گئی اور تاریخ کا رُخ پلٹ گیا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ابتدا نیند میں اچھے خواب سے ہوئی۔آپ ﷺ جو بھی خواب دیکھتے تھےوہ سپیدہ صبح کی طرح نمودار ہوتا تھا۔پھر آپﷺ کو تنہائی محبوب ہوگئی چنانچہ آپ ﷺ غار حرا میں خلوت اختیار فرماتے اور کئی کئی رات گھر تشریف لائے بغیر مصروف عبادت رہتے۔اس کے لیے آپﷺ توشہ لے جاتے۔پھر توشہ ختم ہونے پر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آتے اور تقریباً اتنے ہی دنوں کیلئے پھر توشہ لے جاتے۔
یہاں تک کہ آپﷺ کے پاس حق آیا اور آپ ﷺ غار حرا میں تھے یعنی آپ ﷺ کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا پڑھو! آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں،آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اس پر اس نے مجھے پکڑ کر اس زور سے دبایا کہ میری قوت نچوڑ دی۔پھر چھوڑ کر کہا پڑھو، میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔اس نے دوبارہ پکڑ کر دبایا۔پھر چھوڑ کر کہا پڑھو،میں نے پھر کہا پڑھا ہوا نہیں ہوں۔
اس نے تیسری بار پکڑ کر دبوچا پھر چھوڑ کر کہا، ترجمہ: ”پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے انسان کو لوتھڑے سے پیدا کیا ۔پڑھو اور تمہارا رب نہایت کریم ہے۔“
ان آیات کے ساتھ رسول اللہ ﷺ پلٹے۔ آپ ﷺ کا دل دھک دھک کر رہا تھا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بنت خویلد کے پاس تشریف لائے اور فرمایا، مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔ انہوں نے آپ ﷺ کو چادر اوڑھا دی یہاں تک کہ خوف جاتا رہا۔

اس کے بعد آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو واقعے کی اطلاع دیتے ہوئے فرمایا، یہ مجھے کیا ہوگیا ہے؟مجھے تو اپنی جان کا ڈر لگتا ہے۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا قطعاً نہیں، بخدا آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ رسوا نہ کرے گا۔آپ ﷺ صلہ رحمی کرتے ہیں، درد مندوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، تہی دستوں کا بندوبست کرتے ہیں،مہمان کی میزبانی کرتے ہیں اور حق کے مصائب پر اعانت کرتے ہیں۔

اس کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کو اپنے چچیرے بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ کے پاس لے گئیں۔ورقہ دور جاہلیت میں عیسائی ہوگئے تھے اور عبرانی میں لکھنا جانتے تھے چنانچہ عبرانی زبان میں حسب توفیق الہٰی انجیل لکھتے تھے۔اس وقت بہت بوڑھے اور نابینا ہو چکے تھے۔ان سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا بھائی جان آپ اپنے بھتیجے کی بات سنیں۔
ورقہ نے کہا بھتیجے تم کیا دیکھتے ہو؟
رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ دیکھا تھا بیان فرما دیا۔ اس پر ورقہ نے آپ ﷺ سے کہا: یہ تو وہی ناموس ہے جسے اللہ نے موسیٰ پر نازل کیا تھا۔ کاش میں اس وقت توانا ہوتا۔ کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ ﷺ کی قوم آپﷺ کو نکال دے گی۔ رسول للہ ﷺ نے فرمایا اچھا! تو کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا ، ہاں، جب بھی کوئی آدمی اس طرح کا پیغام لایا جیسا تم لائے ہو تو اس سے ضرور دشمنی کی گئی اور اگر میں نے تمہارا زمانہ پا لیا تو تمہاری زبردست مدد کروں گا۔
اس کے بعد ورقہ جلد ہی فوت ہوگئے اور وحی رُک گئی۔
طرتی اور ابن ہشام کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اچانک وحی کی آمد کے بعد غارِحرا سے نکلے تو پھر واپس آ کر اپنی بقیہ مدت قیام پوری کئی، اس کے بعد مکہ تشریف لائے۔ طبری کی روایت سے آپ کے نکلنے کے سبب پر بھی روشنی پڑتی ہے، روایت یہ ہے:
رسول اللہ ﷺ نے وحی کی آمد کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا اللہ کی مخلوق میں شاعر اور پاگل سے بڑھ کر میرے نزدیک کوئی قابل نفرت نہ تھا۔
میں ( شدت نفرت سے) ان کی طرف دیکھنے کی تاب نہ رکھتا تھا۔ (اب جو وحی آئی تو) میں نے اپنے جی میں کہا کہ یہ ناکارہ یعنی خود آپ ---- شاعر یا پاگل ہے! میرے بارے میں قریش ایسی بات کبھی نہ کہہ سکیں گے۔ میں پہاڑ کی چوٹی پر جارہا ہوں، وہاں سے اپنے آپ کو نیچے لڑھکا دوں گا اور اپنا خاتمہ کر لوں گا اور ہمیشہ کیلےہ راحت پا جاوں گا۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں یہی سوچ کر نکلا، جب بیچ پہاڑ پر پہنچا تو آسمان سے ایک آواز سنائی دی! اے محمد ﷺ تم اللہ کے رسول ہو اور میں جبریل ہوں۔
آپ ﷺ کہتے ہیں کہ میں نے آسمان کی طرف اپنا سر اٹھایا۔دیکھا تو جبریل ایک آدمی کی شکل میں اُفق کے اندر پاﺅں جمائے کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں اے محمد ﷺ تم اللہ کے رسول ہو اور میں جبریل ہوں،آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں وہیں ٹھہر کر جبریل علیہ السلام کو دیکھنے لگا اور اس شغل نے مجھے میرے ارادے سے غافل کر دیا۔ اب میں نہ آگے جارہا تھا نہ پیچھے۔
البتہ اپنا چہرہ آسمان کے افق میں گھما رہا تھا اور اس کے جس گوشے پر بھی میری نظر پڑتی تھی جبریل علیہ السلام اسی طرح دکھائی دیتے تھے۔میں مسلسل کھڑا رہا۔نہ آگے بڑھ رہا تھا نہ پیچھے، یہاں تک کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے میری تلاش میں اپنے قاصد بھیجے اور وہ مکہ تک جاکر پلٹ آئے۔ لیکن میں اپنی جگہ کھڑا رہا۔ پھر جبریل علیہ السلام چلے گئے اور میں بھی اپنے اہل خانہ کی طرف پلٹ آیا اور خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچ کر ان کی ران کے پاس انہیں پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
انہوں نے کہا ابو القاسم آپ ﷺکہاں تھے۔ بخدا! میں نے آپ ﷺ کی تلاش میں آدمی بھیجے اور وہ مکہ تک جاکر واپس آگئے۔ (اس کے جواب میں ) میں نے جو کچھ دیکھا انہیں بتا دیا۔ انہوں نے کہا چچا کے بیٹے آپ خوش ہو جائیے اور آپﷺ ثابت قدم رہے ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، میں امید کرتی ہوں کہ آپﷺ اس امت کے نبی ہوں گے۔ اس کے بعد وہ ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں، انہیں ماجرا سنایا۔
انہوں نے کہا قدوس، قدوس، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ورقہ کی جان ہے ان کے پاس وہی ناموس اکبر آیا ہے جو موسی ٰ کے پاس آیا کرتا تھا۔ یہ اس اُمت کے نبی ہیں۔ ان سے کہو ثابت قدم رہیں۔ اس کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے واپس آکے ورقہ کی بات بتائی۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ نے حرا میں اپنا قیام پورا کرلیا اور مکہ تشریف لائے تو آپ ﷺ سے ورقہ نے ملاقات کی اور آپﷺ کی زبانی تفصیلات سن کر کہا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آپ ﷺ اس امت کے نبی ہیں، آپﷺ کے پاس وہی ناموس اکبر آیا ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تھا۔
(ہمیں اس روایات کی بیان کردہ تفصیلات کی صحت کے بارے میں قدرے تامل ہے،صیحج بخاری کی روایت کے سیاق اور اس کی متعدد روایات کے تقابلی جائزے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مکہ کی طرف آپ ﷺ کی واپسی اور حضرت ورقہ سے ملاقات نزول وحی کے بعد اسی دن ہوگئی تھی۔اور پھر باقی ماندہ قیام حرا کی تکمیل آپ ﷺ نے مکہ سے پلٹ کر کی تھی۔
وحی کی بندش:
رہی یہ بات کہ وحی کتنے دنوں تک بند رہی تو اس سلسلے میں ابن سعد نے ابن عباس سے ایک روایت نقل کی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ بندش چند دنوں کے لیے تھی اور سارے پہلوﺅں پر نظر ڈالنے کے بعد یہی بات راجح بلکہ یقینی معلوم ہوتی ہے اور یہ جو مشہور ہے کہ وحی کی بندش تین سال یا ڈھائی سال تک رہی تو یہ قعطاً صیحے نہیں۔
البتہ یہاں دلائل پر بحث کی گنجائش نہیں۔
وحی کی اس بندش کے عرصے میں رسول اللہ ﷺ حزین و غمگین رہے اور آپ پر حیرت و استعجاب طاری رہا۔ چنانچہ صحیح بخاری کتاب التعبیر کی روایت ہے کہ:
وحی بند ہو گئی جس سے رسول اللہ ﷺ اس قدر غمگین ہوئے کہ کئی بار بلند و بالا پہاڑ کی چوٹیوں پر تشریف لے گئے کہ وہاں سے لڑھک جائیں لیکن جب کسی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے کہ اپنے آپ کو لڑھکا لیں تو حضرت جبریل علیہ السلام نمودار ہوتے اور فرماتے: اے محمد ﷺ آپ اللہ کے رسول برحق ہیں اور اس کی وجہ سے آپ کا اضطراب تھم جاتا۔
نفس کو قرار آ جاتا اور آپ واپس آ جاتے۔ پھر جب آپﷺ پر وحی کی بندش طول پکڑ جاتی تو آپ پھر اسی جیسے کام کے لیے نکلتے لیکن جب پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے تو حضرت جبریل علیہ السلام نمودار ہوکر پھر وہی بات دہراتے۔
جبریل علیہ السلام دوبارہ وحی لاتے ہیں:
حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ یہ (یعنی وحی کی چند روزہ بندش) اس لیے تھی تاکہ آپ ﷺ پر جو خوف طاری ہوگیا تھا وہ رخصت ہو جائے اور دوبارہ وحی کی آمد کا شوق و انتظار پیدا ہو جائے۔
چنانچہ جب حیرت کے سائے سکڑ گئے، حقیقت کے نقوش پختہ ہو گئے اور نبیﷺ کو یقینی طور پر معلوم ہو گیا کہ آپ ﷺ خدائے بزرگ و برتر کے نبی ہو چکے ہیں اور آپ ﷺکے پاس جو شخص آیا تھا وہ وحی کا سفیر اور آسمانی خبر کا ناقل ہے اور اس طرح وحی کے لیے آپ ﷺ کا شوق و انتظار اس بات کا ضامن ہوگیا کہ آئندہ وحی کی آمد پر آپ ﷺ ثابت قدم رہیں گے اور اس بوجھ کو اٹھالیں گے، تو حضرت جبریل علیہ السلام دوبارہ تشریف لائے۔
صیح بخاری میں حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی زبانی بندش وحی کا واقعہ سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے:
”میں چلا جارہا تھا کہ مجھے اچانک آسمان سے ایک آواز سنائی دی۔ میں نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس حرا میں آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے۔ میں اس سے خوف زدہ ہوکر زمین کی طرف جا جھکا۔
پھر میں نے اپنے اہل خانہ کے پاس آکر کہا، مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔انہوں نے مجھے چادر اوڑھا دی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یایھا المدثر ۔۔۔۔۔ وَالرجز فاھجر تک نازل فرمائی۔ پھر (نزول) وحی میں گرمی آگئی اور وہ پیا پے نازل ہونے لگی۔ (اس روایت کے بعض طرق کے آغاز میں یہ اضافہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جو میں نے حرا میں اعتکاف کیا اور جب اپنا اعتکاف پوار کر چکا تو نیچے اترا۔
پھر جب میں بطن واوی سے گزر رہا تھا تو مجھے پکارا گیا۔ میں نے دائیں بائیں آگے پیچھے دیکھا، کچھ نظر نہ آیا، اوپر نگاہ اُٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ۔۔۔۔۔ الخ اہل سیر کی تمام روایات کے مجموعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ آپ ﷺ نے تین سال حرا میں ماہ رمضان کا اعتکاف کیا تھا اور نزول وحی والا رمضان تیسرا یعنی آخری رمضان تھا، اور آپ کا دستور تھا کہ آپﷺ رمضان کا اعتکاف مکمل کرکے پہلی شوال کو سویرے ہی مکہ آجاتے تھے۔
مذکورہ روایت کے ساتھ اس بات کو جوڑنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یا یھا المدثر والی وحی پہلی وحی کے دس دن بعد یکم شوال کو نازل ہوئی تھی۔یعنی بندش وحی کی کل مدت دس دن تھی۔ واللہ ا علم
وحی کی اقسام:
اب ہم سلسلہ بیان سے ذرا ہٹ کر یعنی رسالت و نبوت کی حیات مبارکہ کی تفصیلات شروع کرنے سے پہلے وحی کی اقسام کا ذکر کر دینا چاہتے ہیں کیونکہ یہ رسالت کا مصدر اور دعوت کی کمک ہے۔
علامہ ابن قیم نے وحی کے حسب ذیل مراتب ذکر کیے ہیں:
سچا خواب: اسی سے نبی ﷺ کے پاس وحی کی ابتدا ہوئی۔
فرشتہ آپﷺ کو دکھلائی دیے بغیر آپ کے دل میں بات ڈال دیتا تھا مثلاً نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ترجمہ:
”روح القدس نے میرے دل میں یہ بات پھونکی کہ کوئی نفس مر نہیں سکتا یہاں تک کہ اپنا رزق پورا پورا حاصل کر لے۔
پس اللہ سے ڈرو اور طلب میں اچھائی اختیار کرو اور رزق کی تاخیر تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اسے اللہ کی مصیبت کے ذریعے تلاش کرو،کیونکہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی اطاعت کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔“
فرشتہ نبی ﷺ کے لیے آدمی کی شکل اختیار کرکے آپ ﷺ کو مخاطب کرتا پھر جو کچھ وہ کہتا اسے آپﷺ یاد کر لیتے۔
اس صورت میں کبھی کبھی صحابہ رضی اللہ عنہ بھی فرشتے کو دیکھتے تھے۔
آپ ﷺ کے پاس وحی گھنٹی کے ٹن ٹنانے کی طرح آتی تھی۔ وحی کی یہ سب سے سخت صورت ہوتی تھی۔ اس صورت میں فرشتہ آپﷺ سے ملتا تھا اور وحی آتی تھی تو سخت جاڑے کے زمانے میں بھی آپ ﷺ کی پیشانی سے پسینہ پھوٹ پڑتا تھا اور آپ ﷺ اونٹنی پر سوار ہوتے تو وہ زمین پر بیٹھ جاتی تھی، ایک بار اس طرح وحی آئی کہ آپ ﷺ کی ران حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی ران پر تھی تو ان پر اس قدر گراں بار ہوئی کہ معلوم ہوتا تھا ران کچل جائے گی۔

آپ ﷺ فرشتے کو اس کی اصلی اور پیدائشی شکل میں دیکھتے تھے اور اسی حالت میں وہ اللہ تعالیٰ کی حسب مشیت آپ ﷺ کی طرف وحی کرتا تھا۔ یہ صورت آپ ﷺ کے ساتھ دو مرتبہ پیش آئی جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۃ النجم میں فرمایا ہے۔
وہ وحی جو آپ ﷺ پر معراج کی رات نماز کی فرضیت وغیرہ کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے اس وقت فرمائی، جب آپ ﷺ آسمانوں کے اوپر تھے۔

فرشتے کے واسطے کے بغیر اللہ تعالیٰ کی آپ ﷺ سے حجاب میں رہ کر براہ راست گفتگو جیسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے گفتگو فرمائی تھی، وحی کی یہ صورت موسیٰ علیہ السلام کے لیے نصِ قرآنی سے قطعی طور پر ثابت ہے۔ لیکن نبی ﷺ کے لیے اس کا ثبوت قرآن کی بجائے معراج کی حدیث میں ہے۔
بعض لوگوں نے ایک آٹھویں شکل کا بھی اضافہ کیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ رُو در رُو بغیر حجاب کے گفتگو کرے۔ لیکن یہ ایسی صورت ہے جس کے بارے میں سلف سے لے کر خلف تک اختلافات چلا آیا ہے۔

Your Thoughts and Comments