Pakeezgi Aur Hifzan E Sehat Kay Islami Asool

پاکیزگی اور حفضان صحت کے اسلامی اصول

اسلام ایک مکمل نظام حیات جو اپنے ماننے والوں کی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کرتا ہے۔ قبل از اسلام ہر مذہب و ملت میں پاکیزگی، طہارت، نہانے دھونے، خوشبو لگانے اور صاف ستھرا لباس پہننے کا رواج تھا۔ ان کی نسبت اصول و ہدایات تھیں لیکن انکا عمومی رنگ تھا

Pakeezgi Aur Hifzan e Sehat Kay Islami Asool
سمیرا عبدالوحید:
اسلام ایک مکمل نظام حیات جو اپنے ماننے والوں کی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کرتا ہے۔ قبل از اسلام ہر مذہب و ملت میں پاکیزگی، طہارت، نہانے دھونے، خوشبو لگانے اور صاف ستھرا لباس پہننے کا رواج تھا۔ ان کی نسبت اصول و ہدایات تھیں لیکن انکا عمومی رنگ تھا۔ اسلام نے حفظانِ صحت کے اصولوں کو بالکل نئے اور مفید اصول و قواعد کے ساتھ ملا کر پیش کیا۔
بالکل ابتدائی زمانہ اسلام میں حضرت محمدﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا۔
”اپنے کپڑے صاف رکھا کرو اور ہر قسم کی غلاظت اور گندگی سے کلی پرہیز کیا کرو۔“(سورة المدثر)
صحت انسانی سے متعلق بہت سے ارشادات نبوی ہیں جو نہایت مفید اور کارآمد ہیں۔ حضرت محمدﷺنے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ خود پاک ہے اور پاکیزہ چیز کو پسند فرماتا ہے۔


اسی طرح فرمایا:
”صاف ستھرے رہا کرو کہ اسلام پاکیزہ مذہب ہے۔“
اسلام نے حفظانِ صحت کے جو اصول پیش کئے ہیں ان پر عمل کر کے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے جبکہ ان کی خلاف ورزی کرنے اور ان سے غفلت برتنے کی صورت میں صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر دانتوں کی باقاعدہ صفائی اور مسواک کے فوائد عیاں ہیں مگر اس کا صحیح اندازہ تبھی ہو سکتا ہے جب کچھ عرصے کیلئے اسے بالکل ترک کر دیا جائے۔
دانت اور مسوڑھے خراب ہو جائیں گے، منہ میں آبلے پڑ جائیں گے یا گلے میں سوزش پیدا ہو جائے گی۔ اسی طرح اگر ناخن نہ کاٹے جائیں اور انہیں ایک طویل عرصے تک بڑھنے دیا جائے تو اس سے بھی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔
اسلام نے حفظانِ صحت سے متعلق ہدایات انسان کی روزانہ زندگی کے متعلق تجویز کی ہیں۔
حضورﷺ کا ارشاد ہے
”سویرے اٹھا کرو، کیونکہ اس کا بڑا اجر یا فوائد ہیں۔

رات جلد سونے اور صبح سویرے بیدار ہونے کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تمام اطلباء اور ماہرینِ صحت اس پر زور دیتے ہیں۔ مشہور انگریزی مثل ہے۔
”رات جلد سونا اور صبح سویرے جاگنا“ انسان کو صحت مند، عقل مند اور دولت مند بناتا ہے۔“
سب سے پہلے ہاتھ دھوئے جائیں اس کے بعد کلیاں کی جائیں اور دانتوں پر مسواک یا برش کیا جائے۔
دانتوں، مسوڑھوں، تالو اور گلے کی صفائی اصولِ حفظانِ صحت میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ دانتوں کی خرابی کے باعث نہ صرف منہ، مسوڑھے اور گلا متاثر ہوتے ہیں بلکہ معدہ بھی جس کی انسانی بدن میں مرکزی حیثیت ہے اور جس کی خرابی سے ہر قسم کے امراض پیدا ہوتے ہیں، اثر لیے بغیر نہیں رہتا۔ بعض اوقات گنٹھیا جیسی موذی بیماری دانتوں کی خرابی سے پیدا ہوتی ہے۔
اسی وجہ سے حضرت محمدﷺ نے دانتوں کی صفائی کی خاص تاکید فرمائی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:
”میری امت پر یہ بڑا بوجھ ہو گا ورنہ میں نماز کی طرح پانچوں وقت مسواک کرنا فرض قرار دیتا۔“
(ترمذی، جلد اول، ابواب اطہار)
یہ تو ایک مسلمہ امر ہے کہ دانت جتنے صاف رہیں گے انسان اتنا ہی مختلف امراض سے محفوظ رہے گا۔ حضور اکرمﷺ دن رات میں پانچ چھ مرتبہ مسواک کیا کرتے تھے اور اس کی تاکید فرماتے تھے۔
اس اسلامی طریقے کے اختیار کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان دن میں کئی مرتبہ کھاتا پیتا ہے اتنی ہی بار یا اس سے زیادہ مرتبہ دانت صاف کرے تو وہ کبھی خراب نہیں ہوں گے اور خوراک کا کوئی ذرہ کسی ریخ میں تھوڑے عرصے کیلئے بھی رکنے اور سڑنے نہیں پائے گا۔ یہ طریقہ کتنا پر حکمت اور حفظانِ صحت کیلئے مفید ہے۔منہ دھوتے ہوئے آنکھیں کھول کر چہرے پر پانی کے چھینٹے مارنے چاہئیں۔
اس سے آنکھیں صاف ہو جاتی ہیں۔
اللہ کا رسولﷺ بہترین نمونہ ہے۔“
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے جب دریافت کیا گیا کہ حضور اکرمﷺ کے اخلاق کیسے تھے؟ تو فرمایا: آپﷺکا خلق قرآن تھا یعنی ہر قول و فعل قرآنی تعلیم کے مطابق تھا۔ اس لیے اگر کسی امر کی نسبت قرآن یا آپﷺ کا کوئی واضح حکم نہ ہو تو بھی آپﷺ کا عمل اس کی نسبت حکم کی حیثیت رکھتا ہے اور ہر مسلمان کے لیے قابلِ تقلید ہے۔
اپنی مرضی سے صفائی کی خاطر یا گرمی کے باعث غسل کرنا پسندیدہ امر ہے۔ایک مرتبہ مسجد نبوی میں لوگ زیادہ جمع ہو گئے۔ کاروباری لوگ میلے کچیلے کپڑوں میں چلے آئے تھے۔ انہیں پسینہ آیا تو مسجد میں بْو پھیل گئی۔ حضورﷺنے فرمایا: ”نہا کر آتے تو اچھا ہوتا۔“ اس دن سے غسلِ جمعہ شرعی حکم بن گیا۔
حضورﷺ غسل کے بعد تیل لگا کر اپنے بالوں میں کنگھی کرتے، خوشبو لگایا کرتے اور اتنی لگاتے کہ آپﷺ کے سر کی مانگ میں چمکتی ہوتی۔
جس کوچہ سے آپﷺ کا گزر ہوتا، مہک جاتا۔صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ناخن تراشنا بھی ضروری ہے۔ بچوں کے ناخنوں کو اگر تراشنا چھوڑ دیا جائے تو وہ اس سے خود کو زخمی کر سکتے ہیں اور ان کے نیچے بیرونی اور اندرونی میل کچیل کام کاج کے باعث فوراً بھر جاتی ہے۔
اسلام جس طرح صاف ستھرے لباس کو بدن کی زینت قرار دیتاہے اسی طرح برتنوں کی نسبت بھی سادگی کی تلقین کرتا ہے چنانچہ سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ ان کے استعمال سے تکبر اور نمائش کی بو آتی ہے۔
انسانی صحت پر رہائش اور سکونت بھی گہرا اثر ڈالتی ہے ۔ اسلامی عبادت گاہیں بڑی وسیع اور کشادہ ہوتی ہیں اور یہاں صفائی کا خاص دھیان رکھا جاتا ہے۔ مکان اور عبادت گاہیں ہوادار اور روشن ہوتی ہیں کیونکہ بہت سے جراثیم تاریکی میں پرورش پاتے ہیں اور سورج کی روشنی میں مر جاتے ہیں۔ اسلام نے انسانی زندگی میں کھانے پینے کی چیزوں کی حلال اور حرام میں تقسیم کر نے کے علاوہ اشیائے خوردونوش کی پاکیزگی کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے ۔
کسی کھانے پینے والی چیز کا محض حلال ہونا کافی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ پاکیزہ اور صاف ہونا بھی ضروری ہے۔ والدین کو چاہئے کہ بچپن ہی سے بچوں کو حفظانِ صحت کے اسلامی اصولوں کی عادت ڈالیں تاکہ بلوغت تک پہنچتے پہنچتے یہ اصول ان کی زندگی کے معمولات کا حصہ بن جائیں چنانچہ اسلام نے حفظانِ صحت کے جو اصول پیش کئے ہیں ان پر اگر عمل کیا جائے تو اس سے نہ صرف صحت برقرار رکھی جاسکتی ہے بلکہ ان اصولوں کو اپنا کر ہم مختلف بیماریوں سے بھی بچ سکتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments