ڈیرہ غازیخان کی لاوارث ڈولفن اور پٹرولنگ پولیس

منگل 15 اکتوبر 2019

Ahmad Khan Lound

احمد خان لنڈ

پنجاب میں تبدیلی کے آنے کے بعد یوں تو الحمداللہ پورا پنجاب ہی لاوارث نظر آتا ہے لیکن چندحکومتی محکمے تو خصوصی طور لاوارث ہو چکے ہیں جن میں سر فہرست جناب وسیم اکرم پلس وزیر اعلیٰ کے آبائی علاقے کی پولیس کا محکمہ ہے۔یہ بھی وسیم اکرم پلس سرکار کا ہی کارنامہ ہے کہ بارڈر ملٹری پولیس سے لے کر پڑولنگ و ڈولفن فورس تک سب لاوارث ہو چکے ہیں۔۔
موجودہ سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کے سابقہ دورِ حکومت کے دوران 2005میں پٹرولنگ پولیس کا قیام عمل میں لایا گیا اور گشت کے لیے نئی گاڑیاں بھی فراہم کی گئی تھیں لیکن ۔

۔۔وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ صورتحال تبدیل ہوگئی اور آج پڑولنگ پولیس کی تمام گاڑیاں انتہائی خستہ ہو چکی ہیں۔گاڑیوں کے ٹائر تک ویگن اور ڈالے والوں سے مانگ تانگ کر پورے کئے جارہے ہیں۔

(جاری ہے)

گاڑیوں کی سیٹوں کی پوشش اور سیٹیں تک گاڑیوں میں نایاب ہیں،اور گاڑیوں میں سیٹوں کی جگہ پر عام استعمال کی کرسیاں استعمال کی جارہی ہیں۔ اکثر گاڑیوں کو تو سٹارٹ کرنے کے لیے باقاعدہ دھکا لگانا پڑتا ہے۔

پوسٹوں پر مقررہ18کانسٹیبل کی بجائے 15کانسٹیبل تعینات ہیں۔ پٹرولنگ پولیس کے آغاز کے ساتھ بھرتی ہونے والے ASIآفیسران تاحال پرموشن کے انتظار میں ہیں۔اگر بات پٹرولنگ پولیس کے اختیارات کی جائے تو اس قدر منظم فورس ہونے اور کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود پڑولنگ فورس فی الوقت تک اختیار ات سے عاری ہے۔پڑولنگ پولیس کے پاس ڈسٹرکٹ پولیس کے تھانوں سے بہتر عمارتیں ہونے کے باوجود پڑولنگ پولیس کو تفتیش کے اختیارات ہی نہیں ہیں۔

پڑولنگ پولیس کے پاس گاڑیوں کی رفتار چیک کرنے کے لیے بھی کسی قسم کے کوئی آلات موجود نہیں ہیں۔
قانونی کاروائی کی صورت میں بھی پڑولنگ آفیسر صرف محدود دو یاتین دفعات کے تحت ہی کاروائی کے مجاز ہیں اور حقیقتاَ یہ دفعات اس قدر کمزور ہیں کہ مجرم ایک دن کے اندر اندر اپنی گاڑی سمیت باہر آجاتا ہے اور باہر آکر گاڑی بند کرنے والے آفیسر کو کم از کم اتنا ضرور ڈائیلاگ مار دیتا ہے کہ "تم نے میرا کیا بگاڑ لیا؟"۔

پڑولنگ پولیس کے معاملات میں تو یہ تک دیکھنے میں آیا کہ کسی پڑولنگ پولیس کے آفیسر نے کوئی گاڑی یا ویگن پکڑ کر تھانے میں کاروائی کے لیے جمع کروائی ،لیکن تھانہ کے محرر یا SHOصاحب نے کاروائی کے بغیر ہی گاڑی چھوڑ دی اور پڑولنگ پولیس کے اہلکار منہ دیکھتے رہ گئے۔ایک SHOصاحب نے تو اپنے زمانے میں تھانہ میں پٹرولنگ پولیس کے اہلکاروں کا داخلہ تک ممنوع قرار دیا ہوا تھا۔

پڑولنگ پولیس کے بعد اب بات ایک اور لاوارث ڈولفن پولیس فورس کی ۔ترکی سے متاثر ہو کر 12ارب روپے کے فنڈ سے بننے والی ڈولفن فورس بھی ان دنوں لاوارث ہو چکی ہے۔ڈیرہ غازیخان میں ڈولفن فور س کا قیام وسیم اکرم پلس وزیر اعلیٰ صاحب کی تقرری کے بعد ہوا۔اول تو انتہائی بے ڈھنگے انداز میں ڈولفن فورس کو ڈیرہ غازیخان میں تعینات کیا گیا۔ڈیرہ غازیخان میں ڈیوٹی انجام دینے والے تمام اہلکار لاہور کے رہائشی ہیں اور ڈیرہ غازیخان کی تہذیب و تمدن اور راستوں سے مکمل طور پر ناآشنا ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ لاہور سے اہلکاروں کو بطور سزا ڈیرہ غازیخان تعینات کیا جاتا ہے ۔ڈیرہ غازیخان میں ڈولفن اہلکاروں کی رہائش کا سرے سے کوئی بندوبست ہی نہیں ہے اور دفتری امور کو نمٹانے کے لیے بھی ڈولفن فورس کو کوئی ہیڈ کواٹر میسر نہیں ۔ڈولفن فورس کی 500سی سی کی13لاکھ کی مالیت کی موٹر بائیک کی مرمت کے لیے بھی کوئی مکینک سرکاری یا نجی طور پر بھی ڈیرہ غازیخان میں موجود نہیں۔

گشت کرنے والی موٹر بائیکس کی حالت خستہ ہو چکی ہے۔قوائد کی رُو سے موٹر بائیک کے ٹائر کو 40ہزار کلومیٹر چلنے کے بعد بدلا جانا تھا لیکن 80ہزار اور ایک لاکھ کلومیٹر چل جانے کے بھی بعد بھی ٹائر وں کو تبدیل نہیں کیا گیا۔ڈولفن فورس کے قیام کے وقت یہ بھی فیصلہ کیا گیا تھا کہ ڈولفن فورس سے گشت کے علاوہ اور کوئی ڈیوٹی نہیں لی جائے گی اور نہ ہی انھیں وی آئی پی ڈیوٹی ،نہ مجالس ڈیوٹی ، نہ تھانہ کے ماتحت کیا جائے گالیکن موجودہ صورتحال میں ڈیرہ غازیخان میں ڈولفن فورس کو تھانوں کے ماتحت کرکے اُن سے ہر طرح کی ڈیوٹیاں لی جارہی ہیں۔

حالات کی سنگینی کا اندازہ یہاں سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ کچھ عرصہ قبل تو تبادلے اور دیگر مسائل سے تنگ آکر ڈولفن فورس کے ایک اہلکار نے تو خود کو دوران ڈیوٹی گولی مار کر خود کشی کررڈالی۔
پولیس فورس بری ہی سہی لیکن یہ ہمارا سرمایہ ہے اور ہماری محافظ ہے ۔ہمارے ہی ٹیکسوں کے پیسوں سے محکمہ پولیس قائم ہے۔پولیس فورس کے جوان بھی ہمارے ہی معاشرے کے انسان ہیں ،ان کے مسائل بھی ہمارے معاشرے کے ہی مسائل ہیں۔

پولیس کے غلط کاموں پر تنقید ہونی چاہیے اور ضرور ہونی چاہیے لیکن پولیس فورس کے جوانوں کو بھی انسان سمجھا جانا چاہیے ،برے ہیں یا بھلے ہیں ۔ہیں تو آخر وہ بھی انسان ہی۔موجودہ دور میں تمام سرکاری اداروں کے ملازموں تک کی یونین ہیں ۔اگر کسی بھی ڈاکٹر ،ٹیچر ،کلرک ،واپڈا ملازم یا سول ادارے کے کسی بھی اہلکار کے ساتھ کوئی مسئلہ پیدا ہوجائے تو متعلقہ افردا کی یونین آسمان سر پر اٹھا لیتی ہے۔

لیکن پولیس فورس وہ واحد ادارہ ہے جو یونین کی سیاست سے پاک ہے،اور کسی ملازم کے ساتھ خواہ کچھ بھی ہوجائے سب خاموشی کے ساتھ اپنا کام جاری رکھتے ہیں ۔بغیر کسی یونین اور بغیر کسی احتجاج و دھرنوں کے پولیس کی کارکردگی آج بھی دیگر سول اداروں سے کہیں بہتر ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نچلے طبقے کے پولیس ملازموں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی کام کیا جائے اور ان کے مسائل کو بھی حل کیا جائے۔
موج بڑھے یا آندھی آئے ،دیا جلائے رکھنا ہے
 گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے ، گھر تو آخر اپنا ہے
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

ڈیرہ غازی خان کے مزید کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Dera Ghazi Khan Ki Laawaris Dolphin Aur Patrolling Police Column By Ahmad Khan Lound, the column was published on 15 October 2019. Ahmad Khan Lound has written 20 columns on Urdu Point. Read all columns written by Ahmad Khan Lound on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.