چین کا ساحلی شہر گوادر کو پاکستان کا سب سے زیادہ پیسہ کمانے والا شہر بنانے کا اعلان

گوادر اگلے 7 سال میں پاکستان کی شرح نمو میں اضافے کا اہم ذریعہ ثابت ہوگا، مقامی آبادی کیلئے 47 ہزار روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، یہ شہر کراچی سے زیادہ کامیاب تجارتی شہر بنے گا: چئیرمین چائینہ اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی ژانگ باؤ زونگ

muhammad ali محمد علی منگل اکتوبر 20:32

چین کا ساحلی شہر گوادر کو پاکستان کا سب سے زیادہ پیسہ کمانے والا شہر ..
گوادر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اکتوبر2019ء) چین کا ساحلی شہر گوادر کو پاکستان کا سب سے زیادہ پیسہ کمانے والا شہر بنانے کا اعلان، چئیرمین چائینہ اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی ژانگ باؤ زونگ کا کہنا ہے کہ گوادر اگلے 7 سال میں پاکستان کی شرح نمو میں اضافے کا اہم ذریعہ ثابت ہوگا، مقامی آبادی کیلئے 47 ہزار روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، یہ شہر کراچی سے زیادہ کامیاب تجارتی شہر بنے گا۔

تفصیلات کے مطابق چائینہ اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی کے چئیرمین ژانگ باؤ زونگ نے کہا ہے کہ گوادر اگلے 7 سال میں پاکستان کی شرح نمو میں اضافے کا اہم ذریعہ ثابت ہوگا، مقامی آبادی کو 000 47کو روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوںگے۔ چیئرمین باؤ زونگ نے کہتے ہیں کہ گوادر کے ساحلی شہر کو کراچی سے زیادہ کامیاب تجارتی شہر بنانے کے ذریعے سے پاکستان کو مدد فراہم کرنے کی سعی کی جارہی ہے اور یہ مستقبل میں پاکستان کو سب سے زیادہ آمدن فراہم کرنے والا شہر بن جائے گا۔

(جاری ہے)

گوادر اگلے سات سالوں میں پاکستان کی شرح نمو میں اضافے کے لئے نہایت اہم شہر ثابت ثابت ہوگا اورمقامی آبادی کے لئے 000 ,47 روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے اور سالانہ ایک ارب ڈالر کی تجارت فروغ پائے گئی۔ واضح رہے کہ چائینہ اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی اور اس کی ماتحت مختلف کمپنیئوں نے اگلے 23 سالوں تک گوادر بندرگاہ اور گوادر فری زون کا انتظام سنبھالا ہوا ہے۔

جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) کے دوسرے مرحلے میں صنعتی و زرعی شعبوں میں تعاون کے فروغ اور گوادر بندر گاہ کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ چین کے دوران کئی نئے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ جبکہ آئندہ چند روز میں پہلا کارگو جہاز گوادر بندرگاہ پر لنگر انداز ہوگا جس کے بعد گوادر بندرگاہ مکمل طور پر فعال ہو جائے گی۔

گوادر شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments