حکومت کولاہورہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا ہوگا ،فواد چوہدری کا مشورہ

17سال کی پریکٹس میں ایسا فیصلہ آج تک نہیں دیکھا کہ ایک سزا یافتہ مجرم کو باہر بھیجاگیا ہو ،اگر یہ فیصلہ برقرار رہا تو نظام انصاف کو دھچکا پہنچے گا، وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کا نوازشریف کے بارے میں لاہورہائیکورٹ کے فیصلے پر ردعمل

ہفتہ نومبر 23:48

حکومت کولاہورہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا ہوگا ،فواد ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 16 نومبر2019ء) وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ حکومت کو فوری سپریم کورٹ میں فیصلہ چیلنج کرنا ہو گا اور دیکھنا ہوگا کہ اب مزید کتنے قیدی اس فیصلے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں 17سال کی لا پریکٹس میں ایسے فیصلے کی نظیر نہیں دیکھی،ان کی cجائیدادیں باہر ہیں، واپس لانے کیلئے انفورس کیسے کرسکیں گی انہوں نے اپنے ردعمل میں کہا کہ نوازشریف سے متعلق عدالتی فیصلہ آچکا ہے۔

کہا جا رہا کہ نوازشریف اب بیرون ملک جا سکتے ہیں۔ میری 17سال لا پریکٹس میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار کے ریڈوارنٹ جاری ہوچکے ہیں تاحال واپس نہیں آئے۔ اسحاق ڈار نے سینیٹ میں حلف بھی نہیں لیا لیکن پھر بھی سینیٹر ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کوئی مثال نہیں ملتی کہ سزا یافتہ شخص کومحض اس برح باہربھیجا جائے۔ اسحاق ڈار، نوازشریف اوران کے بچوں کی جائیدادیں یہاں نہیں ہیں۔

نوازشریف کو وطن واپس لانے کیلئے انفورس کیسے کرسکیں گی لیکن یہ ایک نئی نظیر ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ اب مزید کتنے قیدی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ عدالت کے فیصلے پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں۔ میری رائے ہے حکومت اور کابینہ کو فوری سپریم کورٹ میں فیصلہ چیلنج کرنا چاہئیے۔ دوسری جانب حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنما اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہی نے کہا کہ نوازشریف شہبازشریف سے ہزار درجے بہتر ہیں، میاں صاحب کی وطن واپسی کا درست وقت نہیں بتا سکتا، میاں صاحب نے صحت مند ہوکر پاکستان ہی آنا ہے۔

انہوں نے نجی ٹی وی کے ساتھ خصوصی گفتگو میں کہا کہ چودھری شجاعت اور پارٹی کا پہلے ہی یہی مئوقف تھا کہ نوازشریف کو باہر جانے دیا جائے۔ ہم کہتے تھے کہ اگر نوازشریف کو کچھ ہوا تو اکیلے عمران خان ذمہ دار ہوں گے، ہم نے کہا تھا عمران خان کو اتنا نقصان ہوگا کہ اس کی تلافی نہیں ہوگی۔ہم عمران خان کی بہتری کیلئے بات کررہے تھے۔عمران خان نوازشریف کو باہر جانے دینا چاہتے تھے۔

کابینہ اجلاس میں نوازشریف کو باہر جانے کا اجازت دینے کا فیصلہ د*ہوا تھا لیکن بعد کس نے فیصلے کو تبدیل کروایا، اس کو دیکھنا ہوگا۔ ہم وزیراعظم کوکریڈٹ دلانا چاہتے تھے۔ اب عدالت نے بھی وہی بات کردی۔ وزیراعظم نوازشریف کو غیرمشروط باہر جانے دیتے تو ان کو کریڈٹ ملتا، عمران خان کو دیکھنا چاہیے کہ کن لوگوں نے ان کو کریڈٹ نہیں لینے دیا۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو باہر بھیجنا عدالتی فیصلہ خوش آئند ہے۔ چودھری پرویز الہی نے کہا کہ میاں صاحب کی وطن واپسی کا درست وقت نہیں بتا سکتا۔ میاں صاحب نے صحت مند ہوکر پاکستان ہی آنا ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments