اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںمردم شماری کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کا شدید تحفظات کا اظہار پیپلزپارٹی ..

مردم شماری کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کا شدید تحفظات کا اظہار

, پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے سینیٹ اجلاس میں ہنگامہ کھڑا کردیا ،چیئرمین سینٹ کی کی سسی پلیجوہو کو باربار وارننگ، اپوزیشن واک آئوٹ کر گئی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 نومبر2017ء) ملک میں مردم شماری کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کا شدید تحفظات کا اظہار، پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے سینیٹ اجلاس میں ہنگامہ کھڑا کردیا ، چیئرمین سینٹ کی کی سسی پلیجوہو کو باربار وارننگ کے باوجود انہوں نے سینیٹ اجلاس میں بغیر مائیک سے مشتعل حالت میں تقاریر کیں مردم شماری کو حکومت کی جانب سے سازش قرار دے دیا۔

اپوزیشن کا سینیٹ اجلاس سے واک آئوٹ پیر کے روز سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے مردم شماری کو غیر مساویانہ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ مردم شماری پر نظر ثانی کی جائے پوائنٹ آف آرڈر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹر تاج حیدر کی حال ہی میں کی گئی مردم شماری 2017ء کے حوالے سے متعلقہ حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات سے پیدا ہونے والی صورتحال کو زیر بحث لانے کی تحریک ایجنڈے پر تھی۔

(خبر جاری ہے)

چیئرمین سینٹ نے بتایا کہ متعلقہ وزیر چھٹی پر ہیں۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ یہ بہت اہم ہے معاملہ ہے، سندھ اسمبلی نے اتفاق رائے سے مردم شماری کو مسترد کیا۔ سینیٹر کرنل (ر) سید طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ ہم اس معاملے پر ایوان بالا کے اجلاس سے واک آئوٹ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مردم شماری قابل قبول نہیں حقائق کو پیش نہیں کیا گیا مردم شماری کے حوالے سے ہمارے شدید تحفظات ہیں ہمارے تحفظات کو بھی نہیں سنا جارہا انہوں نے کہا کہ اس ایوان میں بیٹھنا فضول ہے۔

اس کے ساتھ ہی اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان واک آئوٹ کر گئے۔ اس دوران سینیٹر سسی پلیجو نے ایوان میں بغیر مائیک کے زور سے بولتے ہوئے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے انہیں متعدد بار وارننگ دی اور ان کا مائیک بھی بند کردیا تاہم وہ چلاتی رہیں اور کہا کہ اس مردم شماری کو ہم نہیں مانتے اپوزیشن کے تحفظات کو دور نہیں کیا جارہا ۔

چیئرمین سینیٹ اس دوران مشتعل ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ ان کا رویہ ناقابل قبول ہے میں نے اجلاس کو چلانا ہے انہوں نے سسی پلیجیو سے کہا کہ وہ پارلیمانی آداب سے تجاوز کررہی ہیں چیئرمین سینیٹ نے مشتعل حالت میں کہا کہ وہ اپنی سیٹ پر بیٹھ جائیں چیئرمین سینیٹ نے دس سے بارہ مرتبہ یہ الفاظ دہرائے۔ چیئرمین نے انہیں خاموش کرانے کے لئے انہیں اپنی نشست پر بیٹھنے اور خاموش رہنے کے لئے کہا لیکن وہ چیئرمین کی ہدایت کو نظر انداز کرتے ہوئے بغیر مائیک کے زور زور سے بولتی رہیں اور بعد ازاں وہ بھی واک آئوٹ کر گئیں۔

چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے وفاقی وزیر سینیٹر مشاہد اللہ خان کو ہدایت کی کہ وہ واک آئوٹ کرنے والے ارکان کو منا کر ایوان میں واپس لائیں۔ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے چیئرمین سینٹ کو بتایا کہ بروقت الیکشن کرانے کے لئے آرٹیکل 51(5) میں ترمیم کی ضرورت ہے اس حوالے سے پارلیمانی پارٹیوں سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر چیز کا الزام حکومت پر عائد کرنا درست نہیں، یہ کہنا بے جا ہے کہ حکومت اس معاملے میں تاخیر کر رہی ہے۔ چیئرمین سینٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے مجھے اور سپیکر قومی اسمبلی کو اس حوالے سے خط بھی لکھا ہے۔ انہوں نے سینیٹر تاج حیدر کو کہا کہ مردم شماری کے حوالے سے (آج) منگل کو تحریک التواء لے آئیں اس پر بحث کرا لی جائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں