اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںمخصوص سیاسی جماعتوں اور اتحادی کی سہولت کاری کر کے انتخابات کو متنازعہ ..

مخصوص سیاسی جماعتوں اور اتحادی کی سہولت کاری کر کے انتخابات کو متنازعہ نہیں بنانا چاہیے ‘ بلاول بھٹو

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جولائی2018ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مخصوص سیاسی جماعتوں اور اتحادی کی سہولت کاری کر کے انتخابات کو متنازعہ نہیں بنانا چاہیے ،(ن) لیگ اور تحریک انصاف کالعدم اور دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ ہمارے خلاف اتحاد کرتے ہیں، انتہا پسندی کے حوالے سے کوئی ریڈ لائین طے کرنی پڑے گی، ہم دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں اور اس کے کیااثرات ہوںگے، مثبت انتخابی مہم پر عوام کی جانب سے پذیرائی ملی ہے اور اس سے ایک امید پیدا ہوئی ہے ،انتخابات کے بعد بھی اس سفر کو جاری رکھوں گا ۔

کراچی روانگی سے قبل بلاول ہائوس لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں نفرت کی سیاست نہیں چلے گی ،اس کے ذریعے ایک انتخاب تو جیتا جا سکتا ہے لیکن طویل المدت دیکھا جائے تو یہ ملک کے لئے نقصان دہ ہوگا ۔

(خبر جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں میرے نکلنے سے مثبت سیاست کی امید پیدا ہوئی ہے ،میں نکلا ہوںتو نوجوانوں میں یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ نفرت کی نہیں مثبت اور ایشوز کی سیاست چلے گی اور جمہوریت میں اس کی گنجائش موجود ہے ۔

پیپلز پارٹی عوام کے پاس واحد چوائس ہے ، ہر جماعت میں کمزور یاں اور اس کے مسائل ہوتے ہیں ۔انہوںنے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی نے ہمیشہ کالعدم تنظیموں اور دہشتگردوں کے ساتھ ہمارے خلاف اتحاد کیا ہے ۔ ملیرمیں ایسے ایک امیدوار کا سامنے آنا اور سیاسی جماعتوں اس سے گٹھ جوڑ سب کے سامنے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو کنفیوژن پائی جاتی ہے اسے دور کرنا ہوگا اور سیاست میں انتہا پسند ی کے حوالے سے کوئی ریڈ لائن طے کرنی پڑے گی۔

ہم دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں اس کے کیا اثرات ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کراچی سے خیبر تک عوام نے بھرپور جوش کے ساتھ ہمارا ساتھ دیا ہے اور عوام خصوصاً نوجوانوں میں امید پیدا ہوئی ہے کہ ہم ایشوز کی سیاست کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جو نفرت انگیز سیاست میں مصروف ہیں انہیں ایک انتخاب میں تو اس کا فائدہ ہو سکتا ہے لیکن طویل المدت میں یہ سیاست او رملک کے لئے نقصان ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں انتخابی مہم میں عوام کی جانب سے بے حد پذیرائی ملی ہے ،جیت یا ہار کا سوچے بغیر ہم اسے آگے بڑھائیں گے اور نوجوانوں کو اپنے ساتھ شامل کریں گے ۔ انتخابات کے بعد جو بھی نتائج آئیں میں اپنے سفر کو جاری رکھوں گااور پاکستان کی سیاست میں مثبت کردار ادا کریں گے۔ انہوںنے کہا کہ پیپلز پارٹی وفاق کی سیاست کرتی ہے، ہم نے اپنے منشور میں لکھا ہے اور زندگی کا مشن ہے کہ بی بی کا وعدہ نبھانا ہے ۔

جمہوریت جتنی بھی کمزور کیوں نہ ہو آمریت سے بہتر ہوتی ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی تاریخ اور ان کی عادت ہے کہ یہ الیکشن نہیں سلیکشن چاہتے ہیں اور یہ وہاں حصہ لیتے ہیں جہاں ان کے فائدے ہوتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ یہ انتخاب ایک چیلنج ہے اور انہیں صاف شفاف ہونا چاہیے ، مخصوص سیاسی جماعتوں اور اتحادی کی سہولت کاری کر کے انتخابات کو متنازعہ نہیں بنانا چاہیے ۔ انہوںنے کہا کہ میرے امیدواروں اور پارٹی پر بھی دبائو ہے لیکن ہم تحفظات کے باوجود انتخابی میدان میں ہیں او راپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں