حکومت اب تک آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو سامنے نہیں لائی ‘سراج الحق

حکومت نے معاہدے سے قبل ہی آئی ایم ایف کے پاس جانے کے لیے بجلی گیس اور تیل کی قیمتیں بڑھا دی تھیں اب مزید اضافہ کرے گی پاکستان کے حکمران کو پہلی بار آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کے سامنے پیش ہوناپڑا جو ایک بڑے ملک کے حکمران کے شایان شان نہیں ‘امیر جماعت اسلامی کا حکومت ، آئی ایم ایف مذاکرات پر ردعمل

پیر فروری 22:46

حکومت اب تک آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو سامنے نہیں لائی ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 فروری2019ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر اپنے ردعمل میں کہاہے کہ حکومت اب تک آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو سامنے نہیں لائی ۔ ایسے لگتاہے کہ حکومت جان بوجھ کر اس معاہدے کو عوام سے چھپا رہی ہے ۔ حکومت نے معاہدے سے قبل ہی آئی ایم ایف کے پاس جانے کے لیے بجلی گیس اور تیل کی قیمتیں بڑھا دی تھیں اب مزید اضافہ کرے گی۔

معاہدے کے نتیجہ میں روپے کی قدر میں مزید کمی ہوگی اور ڈالر اوپر جائے گا ۔ حکومت کی معاشی پالیسی سیدھی نہیں بلکہ جلیبی کی طرح ہے جس سے سارا بوجھ عوام پر پڑ رہاہے ۔ پاکستان کے حکمران کو پہلی بار آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کے سامنے پیش ہوناپڑا جو ایک بڑے ملک کے حکمران کے شایان شان نہیں ۔

(جاری ہے)

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکمران آئی ایم ایف سے قرضہ کے حصول کے لیے مذاکرات کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے بغلیں بجارہے ہیں حالانکہ حکومت نے بجلی ، گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی کر کے آئی ایم ایف کی شرائط پہلے ہی پوری کرد ی تھیں اور اب جو شرائط عائد ہوئی ہیں ان کے نتیجہ میں ایک بار پھر مہنگائی کا طوفان آئے گا ۔

انہوں نے کہاکہ جب تک قرضوں کی معیشت سے تو بہ نہیں کی جاتی اور خود انحصاری کے باعزت راستہ پر نہیں چلا جائے گا ، معیشت میں کوئی بہتری نہیں آسکتی ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اپنے چہیتوں کو ٹیکس میں چھوٹ دے رہی ہے اور عوام پر براہ راست ٹیکس لگا کر ان کا خون نچوڑ رہی ہے ۔ غیر منصفانہ اور ظالمانہ نظام نے معیشت کا بیڑا غرق کر دیاہے ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت بھری جیبوں کو نظر انداز کر رہی ہے اور خالی جیبوں میں ہاتھ ڈال رہی ہے ۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments