مشیراطلاعات باجی بدزبان اپنے الفاظ کا چناؤ درست کریں، رانا ثناءاللہ

ہم نے کچھ کہہ دیا توحلقے میں نہیں جاسکیں گی، ہم آپ کیلئے باعزت الفاظ استعمال کرنا چاہتے ہیں، درخواست ہے کہ اپنی ٹیں ٹیں بند کریں۔ مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء رانا ثناء اللہ کی پریس کانفرنس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار فروری 23:03

مشیراطلاعات باجی بدزبان اپنے الفاظ کا چناؤ درست کریں، رانا ثناءاللہ
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔16 فروری 2020ء) مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ مشیر اطلاعات باجی بدزبان اپنے الفاظ کا چناؤ درست کریں، ہم نے کچھ کہہ دیا توحلقے میں نہیں جاسکیں گی، ہم آپ کیلئے باعزت الفاظ استعمال کرنا چاہتے ہیں، درخواست ہے کہ اپنی ٹیں ٹیں بند کریں۔ انہوں نے آج یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مشیر اطلاعات باجی بدزبان ہوکر ٹی وی پر نمودار ہوجاتی ہیں، اس کے بعد ٹیں ٹیں شروع کردیتی ہیں، انہیں اور تو کوئی بات آتی نہیں،میری ان سے درخواست ہے کہ آپ معزز خاتون ہیں، ہم آپ کیلئے باعزت الفاظ استعمال کرنا چاہتے ہیں، آپ کو چاہیے ہماری لیڈرشپ سے متعلق اپنے الفاظ کا چناؤ بہتر کریں، یہ جو آپ ٹیں ٹیں کرتی رہتی ہیں۔

اگر اس قسم کے الفاظ ہم نے اد اکردیے تو پھر آپ کے گلی محلے اور حلقے میں لوگ آپ پر آوازیں کسنا شروع کردیں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے اویس لغاری ، عظمیٰ بخاری ، عطا اللہ تارڑ اوردیگر کے ہمراہ ماڈل ٹاؤن سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم لاہور آئے تو سیف سٹی پراجیکٹ کا دورہ کیا ،عمران خان نے انصاف صحت کارڈ تقسیم کئے لیکن یہ تو ہمارے ہی منصوبے ہیں ،کیا انصاف کارڈ وہی منصوبہ نہیں جسے ہم نے پاکستان صحت کارڈ کے نام سے شروع کیا تھا ،پاکستان صحت کارڈ کا نام تبدیل کرکے نئے سرے سے صحت کارڈ کاافتتاح کیا کر دیا گیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو ڈانٹا کہ آپ اپنے اچھے کاموں کی تشہیر کیوں نہیں کرتے اس منصوبے پر آ پ کو عوام کو بتانا چاہیے ۔ عثمان بزدار پریس کانفرنس کرکے کس طرح یہ بتاتے کہ سیف سٹی پراجیکٹ کب اور کس نے شروع کیا ،سیف سٹی پراجیکٹ 16ارب روپے کا منصوبہ ہے اور شہباز شریف نے غیر ملکی کمپنی سے 4 ارب روپے کی رعایت لی ، سیف سٹی پراجیکٹ میں شہبازشریف نے 682 ارب روپے کی بچت کرائی ،سیف سٹی کی اٹھارہ ماہ میں تکمیل ہوئی اوراس میں آٹھ ہزار جدید کیمرے لگائے گئے۔

اس کے تحت جدید مواصلاتی نظام لایاگیا ،پولیس کلچر کو تبدیل کرنے اور کرائم فائٹر کیلئے سیف سٹی جدید نظام ہے،اگر اس سسٹم کی مینٹی ننس کو بہتر طریقے سے مینج کیاجاتا تو کرائم کم ہوجاتا لیکن حکومتی نااہلی سے سیف سٹی کے 4ہزار کیمرے خراب پڑے ہیں ،شہبازشریف حکومت رہتی تو جنوری 2020تک ڈویژنل سطح تک سیف سٹی پراجیکٹ مکمل ہو چکا ہوتا،کرانوالہ ،فیصل آباد اور ملتان میں سیف سٹی پراجیکٹ کی تکمیل ہوچکی ہوتی ،لاہور سمیت یہ شہر کرائم فری ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں پنجاب میں پانچ ہزارمیگاواٹ بجلی کے منصوبے ریکارڈ مدت میں مکمل کئے گئے ،6 سے 7سو ارب کے منصوبوں میں ایک روپے کرپشن ثابت نہیں ہوئی ،شہزاد اکبر نے ایک ایک کیس کو کھنگالا ہے ، ہم نے 90ارب روپے میں تین میٹرو مکمل کیں ہوئی ، ہمارے دور میں مجموعی طو رپر 12ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل کی گئی اور ملک کے اندھیرے ختم کئے گئے ،دہشتگردی کے خلاف قومی اتفاق رائے پیدا کیا گیا اور پاک افواج نے دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتی ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے دور کے منصوبوں میں اگر کوئی کرپشن ہو ئی ہے تو قوم کو بتائیں وگرنہ گھٹیا اور توہین آمیز الفاظ کا استعمال بند ہونا چاہیے ،اگر یہ نہیں رکے گا تو سیاست میں عزت نہیں رہے گی ،جھوٹ کی آمیزش سے ہمیں لوگوں کی نظروں میں گرانے کی کوشش کرتے ہیں۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments