امریکہ کو پاکستان سے تعلقات کی نئی حکمت عملی کی تلاش

پرانی امریکی پاکستان پالیسی ناکامی کا شکار طول پکڑتی افغان جنگ افغانستان میں طویل قیام کی حکمت عملی

منگل فروری

America ko pakistan sy talukat ki nai hikmat amli ki tilash
امتیاز الحق
حالیہ عرصہ میںامریکی اعلیٰ قیادت ایک بار پھر افغانستان اور پاکستان کے دورہ پر ہے امریکی محکمہ خارجہ کی بیورو برائے جنوبی وسطیٰ ایشیائی امور کی پرنسپل ڈپٹی سیکرٹری ایمسڈ ر ایلیس ویلز نے 15اور16 جنوری 2018 کو دو روزہ دورہ پر اسلام آباد میں پاکستان عہدیداروں سے ملاقات کی تاہم بعد ازاں اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکہ مشترکہ مفادات کی بنیاد پر پاکستان سے نئے تعلقات بنانا چاہتا ہے انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تعلقات میں شروعات نئے طریقے سے کرنے کا مقصد خطہ کے استحکام خوشحالی کے لئے مشترکہ مفادات کی جانب بڑھنا ہے ایلیس ویلز نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مستحکم اور پرامن افغانستان جنوبی ایشیا میں داعش اور دہشت گرد گروپوں کے خاتمے کے لیے مل کر کام کی وجہ سے ہی ممکن ہے مذکورہ دونوں عناصر امریکہ اور پاکستان کے لیے خطرہ ہیں ایلیس ویلز تیسیر عناصر امریکہ اور پاکستان کے لئے خطرہ ہیں ایلیس ویلز تیسری مرتبہ پاکستان آئے ہیں اور وہ افغانستان میں امریکی حکمت عملی کی کامیابی کے لئے پاکستان کے اہم کردار کو بھی تسلیم کرتی ہے ان کا کہنا ہے کہ دونوں ملک انسداد دہشت گردی باہمی تعاون کو مزید فروغ دے سکتے ہیں گزشتہ دنون اقوام متحد ہ میں امریکی سفیر کلی ہیلی نے افغانستان کے دورہ کے دوران کابل حکومت کے اس مطالبے کی تائید کی کہ عالمی طاقتوں کو پاکستان پر دباﺅ بڑھانا چاہئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دورہ افغانستان کے دوران سکیورٹی کونسل کے 14 رکنی وفد کے ہمراہ نکی ہیلی کا کہنا تھا کہ افغان رہنماﺅں نے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ اسلام آباد کو بھی ساتھ ملانے کے لیے حکومت کی مدد کرے اور عالمی برادری پاکستان پر دباﺅ میں مزید اضافہ کرے کابل حکومت دس قدم آگے جاتی ہے اور پاکستان کے ساتھ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ مسلسل پیچھے ہٹ رہا ہے امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ جب پاکستان اپنے ہاں دہشت گردوں کو مدد دیتا رہا ہے گا افغانستان کے عوام کود کو محفوظ نہیں سمجھیں گے نکی ہیلی نے براہ راست یہ بتانے سے گریز کیا کہ پاکستان پر دباﺅ بڑھانے کے لیے ممکنہ طور پر کیا اقدامات کئے جاسکتے ہیں تاہم سکیورٹی کونسل کی جانب سے کسی ملک پرپابندیاں لگانے کے اختیار ہوتے ہیں اور سکیورٹی کونسل ہی عام طور پر ایسی پابندیاں عائد کرتی ہے پاکستان نے ہمیشہ دہشت گردوں کی مدد کی تردید کی ہے تاہم برسلز میں امریکی جنرل جوزف ڈنفورڈ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا صحافیوں سے مختصر بات کرتے ہوئے امریکی فوج کے چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے حوالے سے ہمت نہیں ہاری پاکستان کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کے بارے مزید بات عوامی سطح پر نہیں کرسکتاکیونکہ ان تعلقات کو مضبوط بنانا ہے فوجی سطح پر پاک امریکی مذاکرات درست طریقہ ہوگا ان مذاکرات کی سربراہی امریکی جنرل ووٹل کریں گے جبکہ سیکرٹری جیمس میٹس اور دیگر امریکی حکام مذاکراتی عمل میں شریک ہوتے رہیں گے امریکی قیادت میں پاکستان کے بارے میں اتار چڑھاﺅ کے ساتھ ساتھ بدلتے نقطہ نظر سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے سخت ردعمل کے باعث پہلی بار امریکی قیادت واشنگٹن اور جنگجو اشرافیہ ابہامک کا شکار ہے کہ قبل ازیں پاکستان کو سختی یا سفارتی دباﺅ کے ذریعے دفاعی صورت اختیار کرنے پر مجبور کردیا تھا لیکن اب واشنگٹن پینٹاگون کے اعلیٰ حکام کے بیانات میں اتار چڑھاﺅ ردوبدل الفاظ میں زیادہ احتیاط اور براہِ راست دھمکیوں سے اجتناب کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ رویہ میں نرمی کے علاوہ نسبتاً بہتر اور مہذب رویہ کا اظہار ظاہر کرتا ہے کہ امریکی اداروں میں باہمی طور پر پاکستان اور خطہ کے بارے میں حقیقت پسندانہ صورتحال اور حالات کو سمجھنے کے لئے دیگر پہلوﺅں پر بھی گفتگو کی جارہی ہے پاکستان کے ساتھ گولی دباﺅ دھمکی کی پالیسی کے نتائج اور مضمرات کا امریکی قیادت و رہنماﺅں فیصلہ سازوں اور پالیسی بنانے والوں کا ادارک ہونے لگا اگرچہ پاکستان بھی خطے کی صورتحال کے حوالہ سے امریکہ سے قدرے ہٹ کر نقطہ نظر اپنانے کی کوشش کرررہا ہے وہیں پر قدرتی طور پر واشنگٹن کی روس چین ایران پالیسیوں کی وجہ سے یہ ممالک بھی پاکستان اور پاکستان ان کے نزدیک ہوگیا ہے جس کی وجہ سے توازن قوت امریکہ کے حق میں نہیں رہا اور افغانستان میں مختلف طالبان گروپس روس چین ایران پاکستان اور ترکی کے ساتھ رابطوں میں نہ صرف آگئے ہیں بلکہ امریکی اور اتحادی افواج کے مقابلے میں زیادہ کامیابیاں حاصل کررہے ہیں علاوہ ازیں اشرف غنی حکومت امریکی حمایت کے باوجود اپنی ہی حکومت کے اندر عناصر کی بدلتی ٹوٹ پھوٹ اور ابہام کا شکار ہے یہ کمزور حکومت امریکی امداد کی چھتری اور مدد کے بغیر نہیں چل سکتی خود افغان صدر اشرف غنی نے اشارہ دیا ہے کہ امریکی امدا د کے بغیر افغان حکومت کا وجود تین دنوں میں ختم ہوجائے گا اور افغان نیشنل آرمی چھ ماہ سے زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہ سکتی غیر ملکی ٹیلی ویژن کے پروگرام CSB شو کے انٹرویو میں انہوں نے تسلیم کیا کہ افغانستان کی حکومت مکمل طور پر واشنگٹن کے رحم و کرم پر ہے دوسری جانب صدروحکومت کے ابو سیانہ رویہ اور صورتحال کے برعکس اسے سہارا اور حوصلہ دینے کی غرض سے فوری بیان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل نیکولس نے کہا کہ امریکہ کی نئی نزویرانی عملی کے تحت پاکستان پر تعاون کے لئے سخت دباﺅ ڈالا جائے گا اور یہ عمل مسلسل جاری بھی ہے ٹیلی ویژن شو کے دوران اچانک افغانی صدر کے بیان پر امریکی ناظرین اور عوام کے علاوہ افغانستان میں امریکی و اتحادی افواج کو حوصلہ شکنی سے بچانا تھا اس لئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کا16 واں برس افغانستان میں طویل جنگ کے بعد کامیابیاں لائے گا انہوں نے یہ بات اس وقت کہی جب اشرف غنی سے ماہرین کے نقطہ نظر بارے سوال کیا گیا کہ امریکی فوج کے بغیر 6 ماہ میں افغان حکومت ختم ہوجائیگی تو اشرف غنی سے اس سے اتفاق کیا اور تیسرے ہی دن حکومت گرنے کے بارے بات کہی اشرف غنی نے اقرار کیا کہ پشتون بیلٹ کے بڑے حصے پر طالبان کا کنٹرول ہے اور کابل حکومت انہیں بیدخل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی افغان صدر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ افغانستان میں 21 بین الاقوامی دہشت گردتنظیمیں داخل ہوچکی اور درجنوں خود کش حملہ آور افغانستان بھیجے جارہے ہیں اشرف غنی کا کہنا تھا کہ ادھر خود کش حملہ آور پیدا کرنے کی فیکٹری ہے اور ہم محاذ جنگ میں ہیں طالبان نے عوام کو اتنا خوفزدہ کردیا ہے کہ وہ حکومت پریقین کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہیں پروگرام میں ان سے پوچھا گیا کہ اگر آپ کاہل کو محفوظ نہیں بناسکتے تو کیسے پورے ملک کو بچاسکتے ہیں جس پر اشرف غنی کا جواب تھا کہ آپ مجھے بتائیں کہ کیا نیویارک پر حملہ روک سکتے ہیں؟آپ لندن کو حملوں سے بچاسکتے ہیں افغان صدر اور جنرل نیکولسن دونوں نے اپنے اپنے عوام اور دنیا کو یہ امید دلانے کی کوشش کی کہ امریکہ کی نئی پالیسی کے تحت وہ جنگ کو اختتامی مرحلہ میں دھکیل دیں گے اور اسی نئی پالیسی سے جیت ممکن ہوگی قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ امریکی انتخابات کے دوران اپنی انتخابی مہم میں موجودہ صدر ڈونلڈٹرمپ نے بحیثیت امیدوار افغانستان سے امریکی فوجیں واپس کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ افغانستان سے امریکی فوجیں واپس کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ افغانستان میں امریکی عوام کے خون و خزانہ کی لڑائی نہیں لڑئی جاسکتی لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ یہی وہ جنگ ہے جو امریکی عوام اور دنیا سے پوشیدہ رکھ کر لڑی جارہی ہے اس جنگ کو جیتنا نہیں بلکہ جاری رکھنا ہے او ر جنگ کو جاریہ رکھتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر کی حیثیت سے 5 ہزار فوجی بھیجنے کا اعلان کیا تاہم بعد ازاں اسی ماہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک ہزار عسکری مشیروں کو افغانستان بھیجنے کا بھی فیصلہ کیا17 ویں سال میں داخل امریکی موجودگی سے افغانستان کی معیثیت سیاست اور سماج میں کوئی تبدیلی نہیںایک ٹریلین ڈالرز سے زائد خرچ اور تین ہزار امریکی فوجیوں کی قربانی کے باوجود افغانستان میں ترقی کا نام و نشان نہیں ہے اس وقت افغانستان کا زیادہ تر بجٹ بیرونی امداد سے پورا کیا جارہا ہے افغانی بجلی زیادہ تر ازبکستان سے لی جارہی ہے اور اس بجلی کا بٹن بقول افغانی تجزیہ کار سید مہدی اصغری کے امریکہ کے پاس ہے امریکہ چاہتاہے کہ افغانستان ہمیشہ مغربی ممالک کا محتاج رہے افغانستان میں غربت بڑھی ہے قطر ترکی پاکستان میں افغانستان میں امن مذاکرات بے نتیجہ ہورہے ہیں اگر نتیجہ خیز ہونے بھی لگیں تو امریکہ واضح طور پر اسے ناکام بنادیتا ہے افغانستان میں امن کا 100 فیصد دارومدار امریکی مثبت رویہ پر ہی ہوگا دنیا کی کوئی طاقت روس چین پاکستان اور خطہ کے دیگر ممالک بھی امریکی رضامندی کے بغیر امن قائم نہیں کرسکتے اور امریکہ کے خطے میں جاری جنگ کے ذریعہ پاکستان روس چین ایران کو دباﺅمیں رکھ کر اپنے مقاصد حاصل کررہا ہے یہ اس کی دیر بند پالیسی تھی جو سرد جنگ کا حصہ تھی باوجود سرد جنگ ختم ہوگئی ہے لیکن اس کا جاری رہنا امریکی جنگجو اشرافیہ پینٹا گون سی آئی اے کے فائدہ میں ہے اگرچہ طالبان کے متعدد گروپس پاک روس ایران چین کے دائر میں آگے ہیں لیکن شام و عراق سے لاکر بسائے گئے خفیہ کرائے کے ایجنٹ فوج دہشت گرد بھی مسلسل افغانستان میں جمع کئے گئے ہیں انہوں نے مالی وسائل کیساتھ اسلحہ اور حالات مہیا کردئیے گئے ہیں جو نہ صرف امریکی مخالف ریاستوں میں مصروف عمل ہیں بلکہ ان ریاستوں کو ان کے اندرونی علاقوں میں مصروف رکھ کر بیرونی دنیا سے تعلق ختم کراکر امریکی مفاداتی تعلق کی لیے حالات ساز گار بنانا ہے امریکہ افغانستان مشرق وسطیٰ میں اپنے پتے مہارت چالاکی کی ذہانت عیاری و مکاری سے کھیل رہا ہے مخالف حکومتوں کو قطر مری استنبول بیجنگ ماسکو میں امن کی سرخ بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

America ko pakistan sy talukat ki nai hikmat amli ki tilash is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 06 February 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.