بااثر چور

نیٹو کے 460 کنٹینرز کا سامان کدھر گیا؟ نیٹو دنیا بھر میں دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑا فوجی اتحاد ہے ۔ اس کی طاقت اور اختیارات تیسری دنیا کے ممالک کو خوف میں مبتلا رکھتے ہیں۔افغانستان سمیت کئی ممالک میں نیٹو فورسسز بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن میں مصروف ہیں اور باقاعدہ بڑی جنگیں لڑ رہی ہیں۔

جمعہ جنوری

Ba Asar Chor
شاہ جی:
نیٹو دنیا بھر میں دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑا فوجی اتحاد ہے ۔ اس کی طاقت اور اختیارات تیسری دنیا کے ممالک کو خوف میں مبتلا رکھتے ہیں۔افغانستان سمیت کئی ممالک میں نیٹو فورسسز بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن میں مصروف ہیں اور باقاعدہ بڑی جنگیں لڑ رہی ہیں۔ دوسری جانب یہی نیٹو پاکستان آکر ” بھیگی بلی“ بن جاتی ہے۔

ہمارے بعض بااثر افراد جب ملک و قوم کو لوٹنے سے باز نہیں آتے تو یہ کیسے ممکن ہے وہ ان غیر ملکی فورسسز کو معاف کردیں۔” پاکستان چور“ نیٹو کو پڑتے ہیں تو مور کا کردار ہی ادا کرتے ہیں۔ حال ہی میں انکشاف ہو ا ہے کہ کسٹمز کی جانب سے ماڑی پور اور بھینس کالونی میں موجود گوداموں میں ساڑھے 4 سوکے لگ بھگ نیٹو کنٹینرز میں سے ایسافورسز کا سامان غائب ہوچکا ہے۔

کسٹمز عدالت کی ہدایت پر یہ کارروائی کی گئی تھی جس کے بعد کسٹمز حکام نے ویئر ہاوس سیل کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کسٹمز عدالت میں نیٹو کنٹینرز سے سامان غائب ہونے سے متعلق درخواست دائر کی گئی تھی جس پر کسٹمز حکام کو ہدایت دی گئی کہ مذکورہ درخواست پر تحقیقات کر کے تین دن میں رپورٹ پیش کریں۔ حکام نے اس ہدایت کے بعد ماڑی پور اور بھینس کالونی میں واقع گوداموں میں موجود نیٹو کنٹینرز کا معائینہ کیا ۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس معائینہ کے مطابق ماڑی پور میں موجود تین سوکنٹینرز اور بھینس کالونی کے گودام میں موجود 160 کنٹینرز میں سے بیشتر سے نیٹو اور ایساف فورسز کا سامان غائب ہو چکاہے۔ یہ سامان کس نے چرایا اور اب کہاں ہے اس بارے میں کسی کو کچھ علم نہیں۔ جن لوگوں کو علم ہے وہ یا تو بتانے پر آمادہ نہیں یا پھریہ”واردات“ ان کی ملی بھگت سے ہوئی ہے۔

حکام کے مطابق سامان غائب ہونے کی تحقیقات کے لیے 11 رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جبکہ امریکہ قونصلیٹ کو کنٹینرزکی معلومات کے لیے بھی خط لکھا گیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ صورت حال کسی مقامی گڈز کمپنی کے ساتھ نہیں بلکہ دنیا کی طاقتور ترین فوج یعنی نیٹو کے ساتھ پیش آئی ہے۔اس سے قبل بھی ایسی رپورٹس آچکی ہیں جن کے مطابق نیٹو کے کنٹینرز سے جدید اسلحہ چراکر پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جاتا رہاہے۔

اس سلسلے میں کراچی کی بدنام زمانہ ٹارگٹ کلنگ اور گینگ وار کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ یہ رپورٹ بھی سامنے آچکی ہے کہ مقامی مارکیٹس میں نیٹو کا جدید اسلحہ اور دیگر سامان بھی فروخت ہوتا رہاہے۔ نیٹو کنٹینرز کی گمشدگی میں سیاسی شخصیات کے ملوث ہونے کی خبریں اس سے قبل بھی سامنے آتی رہی ہیں جن کے بارے میں ماضی میں نیٹو نے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا کوئی کنٹینرز غائب نہیں ہوا۔

اس تردید کے بارے میں بعض حلقوں کا کہنا تھا کہ اگر نیٹو آن ریکارڈ یہ بات تسلیم کر لے کہ اس کا اسلحہ چوری ہوا ہے تو اس کی اپنی کارکردگی اور ساکھ پر بھی سوالیہ نشان لگ جائے گا اوریہ سوال اٹھنے لگے گا کہ جو نیٹو اپنے سامان کی حفاظت نہیں کر سکتی وہ عام شہریوں کی حفاظت کرنے کی اہل کیسے ہے۔اب تو کسٹمز عدالت کے حکم پر ہونے والی تحقیق میں بھی یہی بات سامنے آرہی ہے کہ بڑی تعداد میں نیٹو کنٹینرز سے سامان چوری ہوا ہے۔

دوسری جانب کراچی میں سیاسی جماعت کے مرکزی دفتر پر رینجرز کے چھاپے کے بعد بھی بتایا گیا تھا کہ وہاں سے برآمد ہونے والا جدید اسلحہ غیر ملکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نیٹو کا سامان غائب کرنے والے ذمہ داران کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لائی جائے گئی؟ اسی طرح یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ ان عناصر کو کب سامنے لایا جائے گا جو نیٹو کے کنٹینرز پر بھی ہاتھ صاف کرلیتے ہیں اور پتہ تک نہیں ملتا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں موجود ایسے عناصر کو بے نقاب کرنے میں سیاسی قیادت بھی خصوصی دلچسپی لے جو سرکاری اختیارات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گردوں کے لیے سہولت کار اور فنانسر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ نیٹو کنٹینرز سے سامان غائب کرنے والاگروہ معمولی چور اچکا نہیں ہوسکتا ۔ یہ ایک منظم اور بااثر مافیا ہے جس کی پشت پر بیوروکریسی اور بڑی سیاسی طاقتوں کی موجودگی کے شبہ کوبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔سوال تو یہ بھی ہے کہ رینجرز کے اختیارات کم کروانے والے کراچی آپریشن کے کپتان نے اس سنگین واردات پرکیا قدم اٹھایا ہے۔؟

Your Thoughts and Comments

Ba Asar Chor is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 01 January 2016 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.