بیٹی اللہ کی رحمت،زحمت نہیں

آج معاشرہ بیٹی کے تصور سے خوفزدہ ہے کیوں کہ اس کے دل میں دوسرے کی بیٹی کی عزت فانی ہے۔ مرد بیٹی نہیں چاہتا تاکہ جس نگاہ سے وہ کسی کی بیٹی کو دیکھتا ہے تو دوسروں کی نگاہ سے اس کی بیٹی محفوظ رہے

طیبہ گل پیر فروری

beti allah ki rehmat,zehmat nahi
آج بھی بہت سے علاقوں اور طبقوں میں لڑکی کو ایک بوجھ اور مصیبت سمجھا جاتا ہے اور اس کے پیدا ہونے پر گھر میں بجائے خوشی کے افسردگی اور غمی کی ایک فضا ہو جاتی ہے۔ یہ حالت تو آج ہے لیکن اسلام سے پہلے عربوں میں تو بے چاری لڑکی کو زندہ درگور زمین میں دفن کر دیا جا تا تھا۔ ایک شخص کے ہاں صرف بیٹیاں ہوتی تھیں، ہر بار اُسے امید ہوتی کہ اب بیٹا پیدا ہوگا مگر ہر بار بیٹی پیدا ہوتی اور اس طرح یکے بعد دیگرے6 بیٹیاں پیدا ہو گئیں۔

بیوی کے ہاں پھر ولادت متوقع تھی اسے ڈر تھا کہ کہیں لڑ کی نہ پیدا ہو جائے۔ شیطان ملعو ن نے اسے بہکایا اور اس نے ارادہ کیا کہ اگر بیٹی پیدا ہوگی تو بیوی کو طلا ق دے دے گا۔رات کو سویا تو عجیب و غریب خواب دیکھا کہ قیامت برپا ہو چکی ہے، اس کے گناہ بہت زیادہ ہیں جس کے سبب فرشتے اسے پکڑ کر جہنم کی طرف لے گئے۔

(جاری ہے)

پہلے دروازے پر گئے تو دیکھا اس کی ایک بیٹی کھڑی تھی جس نے اسے جہنم میں جانے سے روک دیا، فرشتے اسے لے کر دوسرے دروازے پر لے گئے وہاں اس کی دوسری بیٹی کھڑی تھی، اب فرشتے اسے تیسرے دروازے پر لے گئے وہاں بھی اس کی بیٹی رکاوٹ بنی، اس طرح فرشتے اسے جس دروازے پر لے جاتے وہاں اس کی ایک بیٹی کھڑی ہوتی تھی جو اس کا دفاع کرتی، فرشتے اسے جہنم کے چھٹوں دروازوں پر لے گئے مگر ہر دروازے پر اس کی کوئی نہ کوئی بیٹی رکاوٹ بنتی۔

اب ساتواں دروازہ باقی تھا فرشتے اسے لے کراس دروازے کی طرف چل دیے، اس پر گھبراہٹ طاری ہو گئی کہ اب اس دروازے پر میرے لیے کون رکاوٹ بنے گا؟ اسے معلوم ہوگیا کہ اس کی جو نیت تھی غلط تھی اسی خوف کے عالم میں اس کی آنکھ کھل گئی اور اس نے فوراََ اللہ رب العزت کے حضور دعا مانگی کہ اے اللہ مجھے ساتویں بیٹی عطا فرما۔ آج کے زمانے میں بیٹیاں بیٹوں سے بڑھ کر اپنے والدین کا سہارا بنی ہوئی ہیں ہر میدان میں کامیاب ہو کر اپنے والدین کا نام روشن کر رہی ہیں۔

ہم بیٹے مانگتے ہیں گڑگڑاتے ہیں رو رو کر اللہ سے فریاد کرتے ہیں مگر وہ بیٹیاں دیتا ہے پتہ ہے کیوں ؟ کیونکہ وہ جانتا ہے تمہیں رحمت کی ضرورت ہے۔رحمت سے بڑھ کر دنیا میں کیا قابل قدر کوئی شے ہو سکتی ہے۔
جب ہم رحمت سے منہ موڑتے ہیں تو عذاب سے بچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ شخص جو بیٹی کی پیدائش پر افسردہ ہو، وہ ماں جو بیٹی کی آمد پر رنجیدہ ہواور وہ گھر جہاں بیٹے کادرجہ بیٹی سے بڑھ کر ہو تو وہ گھر کیسے خوشحال ہو سکتا ہے ؟ بچیاں آنگن کی بہار ،گھر کا قیمتی ترین زیور ، گھرانے کی رونق ہوتی ہیں اور یہی بیٹی باپ کے گھر رحمت ہوتی ہے تبھی تو آگے جا کر کسی کے بچوں کی جنت بنتی ہے۔

جنت ماں کے قدموں میں ہے اور ماں ایک بیٹی ہی بنتی ہے۔ آج معاشرہ بیٹی کے تصور سے خوفزدہ ہے کیوں کہ اس کے دل میں دوسرے کی بیٹی کی عزت فانی ہے۔ مرد بیٹی نہیں چاہتا تاکہ جس نگاہ سے وہ کسی کی بیٹی کو دیکھتا ہے تو دوسروں کی نگاہ سے اس کی بیٹی محفوظ رہے۔یوں ہم رحمت سے منہ موڑنے کی دوڑ میں لگ گئے ہیں۔لڑکی کی پیدائش پر بھی اسی طرح خوشی منائیے جس طرح لڑکے کی پیدائش پر مناتے ہیں۔

لڑکی ہو یا لڑکا دونوں ہی اللہ تعالٰی کا عطیہ ہیں اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آپ کے حق میں کیا اچھا ہے۔ لڑکی کی پیدائش پر ناک چڑھانا اور د ل چھوٹا کرنا،کسی طرح زیب نہیں دیتا اور یہ نا شکر ی بھی ہے۔آئیں ہم عہد کریں کہ بیٹیوں کو رحمت سمجھیں گے،بیٹیوں کو بے لوث محبت سے نوازیں گے اور ان کی ولادت پر جشن منائیں گے۔ ہماری بیٹیاں ہماری بخشش کا سامان ہیں، راحت کا وسیلہ ہیں کیونکہ بیٹیاں اللہ کی رحمت ہیں زحمت نہیں۔

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

beti allah ki rehmat,zehmat nahi is a social article, and listed in the articles section of the site. It was published on 11 February 2019 and is famous in social category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.