کرونا وائرس اور میڈیا کی ذمہ داری

سائنسدان جب کوئی ریسرچ کرتے ہیں تو اسکے پیچھے ڈیٹا ہوتا ہے، ماڈلز ہوتے ہیں جو اس ڈیٹا کا مشاہدہ اور تجزیہ کرتے ہیں۔ پھر سائنسدان اسکو شائع کرتے ہیں جس پر دوسرے سائنسدان اپنا تجزیہ کرتے ہیں

Dr. Zareen Fatima ڈاکٹر زرین فاطمہ بدھ فروری

coronavirus aur media ki zimmedari
آج کل کرونا وائرس کی بات اتنی چل نکلی ہے کہ اب ہر بیٹھک میں سیاست سے پہلے اسکا ذکر آرہا ہے۔ اس وائرس کو فی الحال2019- nCoV لکھا جا رہا ہے۔ 2012 میں مرس کا پھیلاوُ مشرقِ وَسطی سے شروع ہوا تھا۔ اسکے بعد 2015 میں بین الاقوامی ادارہِ صحت کی ہدایات پہ کسی وائرس کا نام جگہ، جانور، ملک یا قومیت پہ نہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی لیے اس نئے وائرس کو ووہان وائرس نہیں کہا جائے گا۔

ایک سائنسدان ہونے کی حیثیت سے، جو کہ وائرس اور ان کے ارتقاء پہ کام کرتیں ہے، میں اس خبر کو ہر زاوئیے سے پرکھ رہی ہوں۔ اہم بات ہے کہ اس کرونا وائرس کا انسانوں میں بیماری پھیلاناچارکیٹیگریز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ میری کوشش ہے کہ یہ نکات عام فہم الفاظ میں یہاں پیش کیے جائیں۔
۱- کرونا وائرس کیا ہے؟
یہ ایک وائرس کا خاندان ہے جس میں ایسے وائرس ہیں جو سانس کی بیماریاں پھیلاتے ہیں۔

(جاری ہے)

کرونا کا مطلب“کراوُن”ہے، یعنی“تاج”۔ جب سائنسدانوں نے اس خاندان کے وائرس کو بہت گہری خوردبین (الیکٹران خوردبین) کے ذریعے دیکھا تو اس وائرس کے گول حجم سے کچھ پروٹینز اوپر باہر کو نکلی ہوئی پائی گئیں۔ گہری خوردبین سے لی گئی تصویر میں یہ بلکل ایسے لگتی ہیں جیسے ایک گولے کے آس پاس ایک ہیولا بنا ہو۔۔۔بلکل جیسے سورج کے ارد گرد گرم مادے کا ہیولا ہے۔

بس اسی لیے اس خاندان کا نام کرونا وائرس پڑ گیا۔اس خاندان میں ایسے وائرس موجود ہیں جو ہلکی پھلکی سانس کی بیماریاں پھیلاتے ہیں۔ لیکن سارس اور مرس اس خاندان کے ایسے ممبر ہیں جو بیماری کو خطرناک حد تک لے جا سکتے ہیں۔ اب یہاں یہ کہنا بہت ضروری ہے کہ یہ دو وائرس بیماری کو بڑھا سکتے ہیں، پر ضروری نہیں کہ ہر دفعہ یہ ایسا کریں۔ اب یہاں سوال اُٹھتا ہے کہ ایسا کیوں؟ تو اسکی وجوحات بہت ہیں۔

ایک تو یہ کہ ہر انسان کی قوتِ مدافعت مختلف ہے، یہ کم ہو تو کوئی بھی بیماری زیادہ نقصان کر سکتی ہے۔
 دوسرا یہ کہ اگرپہلے سے کوئی اور بیماری ہے تو اُس وجہ سے بھی قوتِ مدافعت کم ہوتی ہے اور نئی آنے والی بیماری شدت اختیار کر سکتی ہے۔ ایک اور بات ہے کہ اکثر اوقات وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں جاکر تھوڑا بدل جاتا ہے۔ یہ تبدیلی بیماری کوشدید بھی کر سکتی ہے اور ہلکا بھی۔

یہ کیسے ہوتا ہے اس کی تحقیقات کی جاری ہیں۔ البتہ یہ کیوں ہوتا ہے کا جواب ہے کہ جیسے ہم ہر حالت میں زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح وائرس بھی انسان کے اندر پھیلنے کی ہر ممکن کوشش کرتاہے۔ اب اس پھیلاؤ سے بیشک انسان مر جائے وائرس کو پرواہ نہیں۔ یہ ایک قدرتی عمل ہے۔ سرواؤل آف دا فٹسٹ۔ یعنی جو جتنا کسی جگہ رہنے کے لیے مناسب ہوگا اتنا وہ وہاں رہ سکے گا۔

۲- ناول کرونا وائرس کیا ہے؟
دسمبر 2019 کے اختتام پر چین سے یہ خبر آتی ہے کہ وہاں سانس کی بیماری پھیل رہی ہے جسکا وائرس پہلے کبھی انسان میں دریافت نہیں ہوا۔ اور اس خبر سے دنیا بھر میں خوف کی لہر پھیل جاتی ہے۔ یہاں میرے جیسے سائنسدانوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کا بہت اہم رول ہے۔ ہم سائنسدانوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم نے عوام کو معلومات دینی ہے کہ یہ سب ہے کیا ہے اور اس سے بچاوُ کیسے کرنا ہے؟ جبکہ میڈیا والوں نے یہ یقینی بنانا ہے کہ تصدیق شدہ خبریں نشر کی جائیں تاکہ سنسنی نہ پھیلے۔

عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ تصدیق شدہ معلومات پر یقین کریں اور حکومت کے ساتھ تعاون رکھیں۔خیال رہے کہ ایسی صورت میں چینی عوام اور ان کے رہن سہن پر تعصب نہ پھیلایا جائے۔
 شرعِ اموات:
سائنسی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ نیا کرونا وائرس چمگادڈر سے انسان میں منتقل ہوا ہے۔ یہ چمگادڈر سے کِسی اور جانور میں اور اُس جانور سے انسان میں آیا ہے۔

یہاں ایک اہم بات بھی نوٹ کر لیں۔اس وائرس کا پھیلاوُ باقی کرونا وائرس سے تیز ہے پر یہ باقی کرونا وائرس سے کم خطرناک ہے۔ اس نئے کرونا وائرس کی شرع اموات باقی کرونا وائرس سے کم ہے۔ نئے کروناوائرس کی شرع اموات 2 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ جبکہ مرس کی 34 فیصد اور سارس کی 10فیصد ہے۔ جو لوگ فوت ہوئے ان میں زیادہ تر وہ تھے جن کو پہلے کوئی بیماری تھی یا ان کی قوتِ مدافعت کم تھی۔

- پھیلاؤ:
اس نئے کرونا وائرس کا پھیلاؤ سانس میں بننے والے چھوٹے چھوٹے قطرے ہیں جو چھینک، کھانسی اور سانس کے ساتھ باہرآتے ہیں لیکن یہ وائرس ہوا سے نہیں، سانس سے پھیلتا۔ یعنی کہ آپ اگر مریض سے تین سے چھے فٹ فاصلے پہ ہیں تو آپکواس وائرس کی انفکشن ہو سکتی ہے۔ اسکے علاوہ مریض کا تھوک، بلغم، ناک، خون، اور پاخانہ بھی اس وائرس کے پھیلنے کاسبب ہے۔

ہانک کانگ میں ایک رہائشی عمارت کو تب بند کر دیا جب مختلف منزلوں پہ رہنے والے لوگ اس وائرس سے بیمارہوئے۔ اس عمارت کے باتھرومز کا نظامِ نکاسی پرانا اور خراب تھا۔ لیکن اس وائرس کا ماں سے بچے اور جنسی تعلق سے پھیلاوُ ممکن نہیں ہے۔
۳- احتیاطی تدابیر:
یہ نکتہ بہت اہم ہے۔ بہت سے دوسرے وائرس کی طرح اس وائرس کا کوئی علاج نہیں۔

اور اسکی سائنسی تحقیق پر وقت لگے گا۔ پر اسکا مطلب یہ نہیں کہ ہم خوفزدہ ہوجائیں۔ بلکہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں تو ہم خود کو اور اپنے پیاروں کو اس جیسے اور بہت سے وائرس سے بچا سکتے ہیں۔
ہاتھ بار بار دھویں:
ہاتھ دھو کر کھایں پیئیں۔ کھانا بناتے ہوئے بھی وقتاً فوقتاًہاتھ دھوئیں۔ لیٹرین استعمال کرنے کے بعد، باہر سے گھر آکر، اپنے پیاروں سے ملنے سے پہلے، کھانستے چھینکتے وقت منہ ڈھکیں اور بعد میں ہاتھ ضرور دھوئیں۔

صابن اور رگڑ سے یہ وائرس ٹوٹ جاتا ہے اور پھر انفیکشن نہیں پھیلا سکتا۔
صفائی رکھیں:
اپنا اور کسی بھی مریض کا تھوک، بلغم، ناک، خون، اور پاخانہ اچھی طرح سے صاف کریں۔ الغرض صفائی کا خاص خیال کریں۔
کھانا اچھی طرح پکا کر کھائیں:
اگر یہ وائرس کوئی جانور کھانے سے ہوا ہے تو اس کا سبب وہ جانور کھانا نہیں ہے بلکہ اچھی طرح سے نہ پکا کر کھانا ہے۔

ماسک ضروری نہیں:
ماسک پہننا ہمارے منہ کو ہمارے گندے ہاتھ لگنے سے محفوظ رکھتا ہے۔ اگر گندے ہاتھ آنکھ، ناک، منہ پر لگ جائیں تو یہ وائرس ہمارے جسم میں جا سکتا ہے۔
۴- میڈیا، سائنسدان، اور عوام کی ذمہ داری:
اس وائرس کے پھیلاؤ کے شروع کے دنوں میں سائنسدانوں کی طرف سے کوشش کی گئی کہ معلوم ہو یہ وائرس چمگادڈر سے کس جانور میں آیا اور پھر انسان میں۔

چمگادڈر اور انسان کے درمیان میں ایک یا زیادہ جانور ہیں کیونکہ جس وقت یہ وائرس پھیلا اس وقت ووہان کے علاقے میں چمگادڈریں ٹھنڈ کی وجہ سے چھپ کر سو رہی ہوتی ہیں۔ مارکیٹ میں تو چمگادڈر دستیاب ہی نہیں تھی۔ پہلے سانپوں کا ذکر ہوا جس کو بین الاقوامی سائنسدانوں نے مکمل حقائق نہ ہونے کی وجہ سے رد کر دیا کیونکہ چمگادڈر اور انسان اپنے جسم کا درجہ حرارت قائم رکھ سکتے ہیں لیکن سانپ نہیں۔

اس لیے ان دو قسم کے جانوروں کے وائرس الگ الگ ہیں۔اب بات پینگولن (چیونٹی خور) پر آگئی۔ یہ جانور چیونٹی اور دیمک جیسے کیڑے کھاتا ہے۔ اس کا گوشت اور کھال چین میں استعمال ہوتی ہے۔ ابھی اسکا بھی مکمل ڈیٹا میسر نہیں ہے جسے بین الاقوامی سائنسدان پرکھ سکیں۔
آج ہی ایک پاکستانی نیوز ویب سایٹ نے ایک کالم شائع کیا جس میں ایک مفروضے پر مبنی بات درج ہے کہ کہیں پاکستان سے سمگل ہونے والے پینگولن سے یہ وائرس تو نہیں پھیلا؟۔

اگر میں اسے گمراہ کن کہوں تو غلط نہیں ہے۔ سائنسدان جب کوئی ریسرچ کرتے ہیں تو اسکے پیچھے ڈیٹا ہوتا ہے، ماڈلز ہوتے ہیں جو اس ڈیٹا کا مشاہدہ اور تجزیہ کرتے ہیں۔ پھر سائنسدان اسکو شائع کرتے ہیں جس پر دوسرے سائنسدان اپنا تجزیہ کرتے ہیں۔ ایک فرضی بات کے پیچھے بھی بہت ڈیٹا ہوتا ہے۔ اس وقت جبکہ سب لوگ نئے کرونا وائرس سے ڈرے بیٹھے ہیں، ایسا کالم شائع کرنا ادارے کی طرف سے سنسنی پھیلانا ہے جو انتشار تک جاسکتا ہے۔

میں یہ ہرگز نہیں کہتی کہ کالم میں بات سو فیصد غلط ہے، پر فرضی بات کو بھی سائنس کی دنیا میں کہنے کے اصول ہیں۔ اور یہ اصول ہی ہیں جو حقیقت بتاتے ہیں۔ اس کالم کا اثر یہ ہو سکتا ہے کہ ہمارے لوگ پریشان ہو جائیں گے، شائدبچے کھچے پینگولن مارنا شروع ہو جائیں، یا پھر لوگ ان علاقوں سے دوری اختیار کرلیں۔ ریٹنگ کی دوڈ میں اپنا فرض مت بھولیں۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

coronavirus aur media ki zimmedari is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 12 February 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.