جھوٹ اور غبن۔۔۔ترقی کے دشمن۔۔تحریر: سمیہ سلطان

بحیثیت ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ہم کم از کم یہ تو کر ہی سکتے ہیں کہ غلط کو غلط مانیں۔ ابتداء اگر اپنے گھر سے کریں، اپنے گلی محلے سے کریں تو شائد چھوٹی سی ہی سہی مثبت تبدیلی رونما ہو ہی جائے

منگل اکتوبر

jhoot aur ghaban...taraqqi ke dushman
 ''آج ہم چھوڑیں گے نہیں بغیرت کو۔۔۔باہر نکل۔۔۔ہاں ہاں نکلو باہر کہاں چھپ کے بیٹھے ہو؟''
جمال اکبر کے گھر کے باہر بہت سے لوگوں کا ہجوم جمع ہوا تھا۔ وہ لوگ زور زور سے چیخ کے اپنے اندر کے اشتعال کو ظاہر کر رہے تھے۔ اندر جمال کے گھر والے ایک کونے میں سہمے ہوئے دبکے تھے۔ ہاتھوں میں ڈنڈے اور چاکو لئے وہ جمال کے گھر کے باہر ایسے کھڑے تھے جیسے شیر اپنے شکار کے لئے گھات لگا کے بیٹھا ہو کہ کب صحیح موقع ملے وہ اپنے شکار کو جا کردبوچ لے۔

دروازہ کھلنے کی آواز پہ سب لوگ آگے کی طرف بڑھے کہ جمال کا گریبان پکڑ کے اسے باہر کھینچیں مگر سامنے جمال کے والدہ کو دیکھ کر سب کے بڑھتے ہوئے ہاتھ تھم گئے۔ ہجوم میں سے ایک آدمی بولا: ''اماں جی تم کیوں باہر آئی ہو اپنے کم ظرف بیٹے کو باہر بھیجو جس نے ہمارا مال کھایا ہے''۔

(جاری ہے)

اماں جی نے جواب دیا: ''بیٹا تم سب کا غصہ جائز ہے مگر اس کو مار کر تم لوگوں کو پھر بھی کچھ نہیں ملے گا''۔

اماں جی نے افسردہ اور پشیمان لہجہ میں کہا ''اس کو مار کے تمھارا غصہ تو شائد ٹھنڈا ہو جائے لیکن اس سب سے پھر بھی تمھارا مال واپس نہیں آئے گا''۔
قصور ان لوگوں کا بھی نہیں تھا جو ہجوم میں شامل تھے، وہ لوگ کوئی غنڈے موالی یا کسی مافیا کے لوگ نہیں تھے بلکہ وہ تو سیدھے سادھے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے عام شہری تھے جن کا مال جمال اکبر کھا گیا تھا۔

کسی نے جمال کو بطور قرض رقم ادھار دی تھی، کسی نے امانتاً اپنا سونا اور ہول سیل کا سامان(کپڑے، اشیاء خوردونوش، اور باقی مختلف چیزیں) رکھوایا تھا۔ کیونکہ جمال اکبر کو ایک ایماندار انسان سمجھا جاتا تھااور اس پہ بھروسہ کیا جاتا تھا۔
مگر تھوڑے ہی عرصے میں جمال اکبر کی نیت میں فطور آگیا تھا۔ اسی وجہ سے دوسروں کا مال بیچ کے کھانا اس کے نزدیک ایک معمولی سی بات رہ گئی تھی۔

اب ان لوگوں کو اپنا مال ملتا بھی کیسے، وہ مال تو پہلے سے ہی کسی کی ہوس اوربے ایمانی کی نظر ہو چکا تھا۔ کہتے ہیں کہ'' حکمرانوں کی کرپشن سے ملک کو اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا عوام کی کرپشن اور بے ایمانی سے ہوتا ہے''۔
جھوٹ اور دھوکہ ہمارے معاشرے میں ایسے پروان چڑھ رہا ہے جیسے ایک خودرو پودا کسی توجہ اور کوشش کے بغیر بڑھتا جاتا ہے جیسے سرطان انسانی جسم میں آہستہ آہستہ اپنی جڑیں پھیلاتا ہے اور اس کو اندر سے کھوکلا کر دیتا ہے۔

کیا چھوٹا کیا بڑا سب ہی اس دل دل میں دھنستے جا رہے ہیں۔ گھر سے اسکول کا بتا کے دوستوں کے ساتھ سیر و تفریح کرنے کے لئے جانے والا بچہ، کالج کے بہانے ڈیٹ پر جانے والا لڑکا اور لڑکی، ناپ تول میں کمی اور خراب چیزیں بیچنے والا دکاندار، قرض لے کر ادھار واپس نہ کرنے والا شخص، ووٹ لے کر کرسی حاصل کرکے اپنے فرائض سے کوتا ہی کرنے والا سیاستدان، اسکول میں پوری تنخواہ لے کر کلاسیں نہ لینے والا استاد، اپنی بیوی سے چھپ کے کر دوسری لڑکیوں سے دوستی کرنے والا شوہر، اپنی جعلی دوائیاں، غلط تشخیص اور غیر میعاری رپورٹس بتانے اور بیچنے والے ڈاکٹر اور ہسپتال، مظلوموں، یتیموں اور بیواؤں کا مال ہڑپ کرنے والا رشتہ دار یا جاگیردار، زکوة اور عطیات کے نام پر لاکھوں کروڑوں چندہ جمع کرنے والا فلاحی ادارہ، عوام کے پیسے سے تنخواہ وصول کرنے والا رشوت خور افسر اور عہدیداران، ناقص میٹریل سے رہائشی اور تجارتی عمارتیں اور پل وغیرہ بنانے والا بلڈر، مضر صحت کیمیکل سے کھاد تیار کرنے والا صنعت کاراور انسانی جانوں اور ایمان سے کھیلنے والاعامل۔

سب کے سب جھوٹ اور دھوکہ دہی کی ایسی مثالیں ہیں جو ہمارے آس پاس بکھری پڑی ہیں۔
ہمارے گھر میں، ہمارے محلہ میں اور ہمارے علاقے میں ہر جگہ یہ بیماری پنپ رہی ہے۔ آب تو شائد ہمیں یہ بیماری بھی نہیں لگتی۔ یہ ایک ایسا گھن ہے جو ہماری نسلوں کو ختم کررہا ہے۔ ہم دوسروں کے ساتھ غبن کرکے سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہت بڑی چلاکی اور ہوشیاری کا ثبوت دیا ہے۔

کتنی آسانی سے سامنے والے کو بیوقف بنا دیاہم نے لیکن یہیں ہم غلط ہوتے ہیں۔ دراصل دھوکہ دینے والا شخص کسی دوسرے کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا ہوتا ہے۔
جس شخص کا جتنا ظرف ہوتا ہے اور جو کچھ اس کے پاس ہوتا ہے، وہ دوسروں کو وہی کچھ لوٹا تا ہے۔ دھوکہ دہی کرنے والا شخص بھی ایسا ہی کم ظرف ہوتا ہے۔ غریبی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ اس کے پاس دینے کے لئے بس یہ ہی پست اور گھٹیا چیزیں ہوتی ہیں۔

دیانت اور صداقت سے عاری شخص نہ صرف اپنے خاندان کے لئے بلکہ پورے ملک کے لئے بھی ناسور ہے۔
جھوٹ اور غبن سے جہاں معاشی طور پر ملک کی ترقی کا استحصال ہوتا ہے وہیں اخلاقی اقدار بھی پامال ہوتی ہیں۔ ترقی صرف معاشی طور پر کسی ملک کے مستحکم ہونے کو نہیں کہتے بلکہ قوموں کی ترقی ان کے کردار کی ترقی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ کسی بھی قوم کے مہذب اور ترقی یافتہ ہونے کی یہ دلیل ہے کہ وہ اپنے وطن سے اور اپنے لوگوں سے کتنی مخلص ہے۔

جس قوم نے بھی سچائی اور دیانت داری کو اپنا شعار بنایا کامیابی نے ہمیشہ ان کے قدم چومے ہیں۔
یو۔این۔ڈبلو۔ایچ۔آر (یونائٹڈ نیشنز ورلڈ ہیپینس رپورٹ) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے تین خوش و خرم ممالک جو کہ بتدریج فن لینڈ، ڈین مارک اور ناروے ہیں، اُن لوگوں کی مسرت و خوشی کی جہاں کئی وجوہات ہیں وہیں ایک یہ بھی ہے کہ ان لوگوں کا اپنے سیاسی و سماجی اداروں پر مکمل اعتماد ہے۔

وہاں کے ادارے بھی اپنے لوگوں کے ساتھ اور اپنے پیشے کے ساتھ مخلص ہیں اور دیانت داری سے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔
اس کے برعکس جس قوم نے بھی جھوٹ، خیانت اور بے ایمانی کا شیوہ اپنایا وہ ہر دور میں ذلیل و رسوا ہوئی ہے۔ اور ایسے میں اہل علم اور دانشمند لوگوں کا اس پہ مصلحتاً یا مجبوراً خاموش رہنا گویا اس عمل کو اور تقویت پہنچاتا ہے۔

البرٹ ائنسٹائن کا ایک مشہور قول ہے:
''The world will not be destroyed by those who do evil, but by those who watch them without doing anything.”
یعنی کہ دنیا ظالم کے ظلم کی وجہ سے تباہ نہیں ہوگی بلکہ خاموش تماشائی کی خاموشی کی وجہ سے تباہ ہوگی۔
بحیثیت ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ہم کم از کم یہ تو کر ہی سکتے ہیں کہ غلط کو غلط مانیں۔ ابتداء اگر اپنے گھر سے کریں، اپنے گلی محلے سے کریں تو شائد چھوٹی سی ہی سہی مثبت تبدیلی رونما ہو ہی جائے۔

اور سب سے بڑھ کر اصلاح کا آغاز اگر اپنے آپ سے ہو تو بہترین نتائج رونما ہو سکتے ہیں۔ لیکن سب کی طرح ہم بھی اگر اس پالیسی پر عمل کرتے رہیں کہ جو جیسا ہے ویسا ہی رہنے دو، تو ہم کبھی بھی ترقی کی شاہرہ پہ گامزن نہیں ہو سکتے اور ایک زندہ قوم نہیں بن سکتے۔
علامہ اقبال کا یہ خوبصورت شعر موجودہ صورتحال میں ہمارے ضمیر کو بیدار کرنے کی لئے ایک بہترین الارم ہے (اگر ہم سمجھیں تو):
''خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا''

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

jhoot aur ghaban...taraqqi ke dushman is a social article, and listed in the articles section of the site. It was published on 15 October 2019 and is famous in social category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.