اور پھر ہم نے ترقی کر لی

ایک ہی چینل PTV جو کہ شام 4سے 5 بجے بچوں کے پروگرام ،8بجے ڈرامہ اور 9 بجے کی خبروں پر مشتمل تھا۔جمعرات ہاف ڈے اور جمعہ کو چھٹی ہوتی تھی

ہفتہ جون

Or Phir Hum Ne Taraqi Kar Li
وقاص احمد کاوش
چائے کی چُسکی بھرتے ہوئے ریاض صاحب بولے کہ تعلیم جو کہ انسان کا ایک بنیادی حق ہے لیکن آج کے اس دور کی بات کی جائے تو تعلیم انسان کو باوقار اور تعلیم یافتہ بنانے کی بجائے ڈگری یافتہ اور جاہل بنا رہی ہے۔یہ بات سنتے ہی میرے میرے ذہین میں کئی طرح کے سوالات نے جنم لیا اور اس معاشرے کے مختلف پہلو میرے سامنے رکھ دیے اگر اس حوالے سے بات کی جائے تو فقط اتنا ہی کہوں گاکہ
ْ” تہذیب سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ
تعلیم سے جا ہل کی جہالت نہیں جا تی“
جدیدیت کے اس دور اور ڈگری یافتہ لوگوں کے حجوم میں ہم نے اپنی تہذیب اور شناخت کو رد کر دیا۔

اگر کچھ ہی عرصہ پہلے دُور کی بات کی جائے جس دور کو ڈگری یافتہ لوگ کم تعلیمی کی وجہ سے جہالت کا زمانہ کہتے ہیں۔

(جاری ہے)

یہ وہ دور تھا جس میں پورے محلے میں ایک دو وائر فون ہوا کرتے تھے۔اس دور میں گاڑیاں کم تھیں۔لوڈ شیڈنگ نامی چڑیا کا کوئی نام نہیں تھا۔بلیک اینڈ وائٹ لکڑی کے ڈبوں میں ٹی وی ہوا کرتے تھے ایسی فلمیں ہوتی تھیں جو گھر کے چھوٹے سے لے کر بزرگ تک مل کر دیکھنے کے قابل ہوتی تھیں۔

ایک ہی چینل PTV جو کہ شام 4سے 5 بجے بچوں کے پروگرام ،8بجے ڈرامہ اور 9 بجے کی خبروں پر مشتمل تھا۔جمعرات ہاف ڈے اور جمعہ کو چھٹی ہوتی تھی۔لڑکے اور لڑکیاں مل کر بغیر کسی خوف کے کھیلا کرتے، کھیل مغرب کے بعد شروع ہوتے اور شام کو اختتام پذیر ہوتے۔نئے کپڑے عید اور شادی کے دنوں میں بنائے جاتے اور فضول خرچی کرنا نا پسندیدہ عمل سمجھا جاتا۔اِس دور میں سب کو سب کا احساس اور فکر ہوتی۔

ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ میں شریک ہوا جاتا گویا کہ حقوق العباد سب سے بڑی عبادت سمجھی جاتی۔سوائے بزرگوں ، شادی شدگان بال بچے دار ،جوان بھی سگریٹ بچ بچا کے پیتے تھے کہ کوئی بزرگ نہ دیکھ لے۔گلی محلے میں شادی مطلب پندرہ بیس دن پہلے ڈھولکی ،روایتی گانے ، ہنسی اور قہقے۔دور دراز سے رشتہ داروں کی آمد اور ان کا مختلف گھروں میں قیام ہوتا۔اگر کسی کے گھر میت ہو جاتی تو لوگ ہفتوں ہنستے نہیں تھے کہ کہیں اُسے دُکھ نہ ہو۔

رشتوں میں اصل مٹھاس ہوا کرتی اور دل نفرت سے پاک تھے۔عورتیں حیا دار اور دین دار ہوتیں۔عزت ،آبرو اور چادرکا خیال رکھا جاتا۔دوسروں کی ماں ،بہن ،بیٹی کو پاک نظر سے دیکھا جاتا۔صبح کا وقت اللہ کے ذکر سے شروع ہوتا۔بچے بزرگوں سے پریوں کی کہانیاں سنتے،جوان گلے میں مفلر لٹکھا کر خود کو بابو سمجھتے ۔شبنم اور ندیم کی ناکام محبت پہ آنسو بہانے والے وہ سادہ دل لوگ جنہوں نے تختی لکھنے کے لیے سیاہی گاڑھی کی ۔

علم لوگوں کے رویوں اور اعمال سے ظاہر ہوتااور اپنی زبان اپنا فخر ہوتی۔استاد ماں باپ بن کر طالبعلموں کو پروان چڑھاتے۔ ایک اعلیٰ سطح کی ذہن سازی کی جاتی اور طلباء اپنے اساتذہ کو قبلہ مان کر ان کی عزت کرتے مگر پھر زمانہ تبدیل ہوا،زمانے میں جدت آئی،مشینری دور شروع ہوا اور تعلیمی نظام بھی زمانے کے ساتھ تبدیل ہوگیااور پھر تعلیم کا مقصد فقط نوکری کا حصول ہوا،ڈگریاں عام ہو گئیں اور ڈگر ختم ہو گئی۔

لوگ زمانے کے ساتھ بدل گئے اور رشتوں میں وہ پیار محبت جو معاشرے کا لازمی جزو سمجھا جاتا تھا وہ آہستہ آہستہ ٴختم ہونا شروع ہوگیا۔وہ معاشرہ جس میں کسی کی خوشی غمی میں لوگ ہفتوں بیٹھ جایا کرتے تھے وہ سب ایک رسم بن گیا اور لوگ جدیت کے اس دور میں کسی کی خوشی کی غمی میں صرف منہ دکھانے کے لیے جانے لگے۔میڈیا نے جدیت کو فروغ دیا اور جس جہالت میں صبح ٹیلوژن پر قران مجید کی تلاوت سے دن کا آغاز ہوتا تھا وہاں مارننگ شوز شروع ہوگئے۔

مارننگ شوز کے نام پر فحاشی عام ہوگئی اور لڑکے لڑکیوں کے ڈانس دکھائے جانے لگے۔یہ سب جدیدیت کی اہم علامت قرار دیا جانے لگا۔جدیدیت کے اس زمانے میں جدید فلمیں شروع ہوئیں ،اایسی فلمیں جس میں رومانس کا تصور وجود میں آیا اور کوئی بھی فلم اس وقت تک ہٹ نہیں ہو سکتی جب تک اس میں رومانس نا دکھایا جائے۔ان فلموں کا اثر یہ ہوا کہ نوجوان لڑکے لڑکیاں اپنی زندگی رومانس کے بغیر ادھوری سمجھنے لگے اور اس کا اثر یہ ہوا کہ معاشرے میں بے حیائی کا کلچر پروان چڑھا۔

لوگ بھاگ کر شادیاں کرنے لگے اور اعتبار ختم ہوتا چلا گیا۔اس کے سبب کورٹ میرج کے تصور نے جنم لیا جس نے والدین اور بچوں میں دوریاں پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔جدیدیت کے اس دور میں لباس میں جدت آ گئی جس کے سبب خرچے آمدن سے بڑھ گئے۔مختلف رسومات اور تہواروں پر مہنگے کپڑے پہننا ایک عام رجحان بن گیا اور اوپر سے فیشن کی لعنت الگ جس نے رہی سہی کسر نکال دی۔

کپڑوں کا فیشن،بالوں کا فیشن ،جوتوں کا فیشن حتیٰ کہ داڑھی کا بھی فیشن شروع ہوگیا جس کے وجہ سے لوگ احساس کمتری کا شکار ہونے لگے اور مجبوراََ انہیں بھی معاشرے میں رہنے کے لیے یہ سب فیشن کرنے پڑ گئے۔جدیدیت کے اس زمانے نے زمانہ جہالت کے ایک اچھے تصور حیا کے تصور کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور بے حیائی،بے پردگی کا عنصر یوں معاشرے میں سرائیت کر گیا کہ پھر اسے نکالنا ناممکن ہوتا چلا جا رہا ہے۔

وہ دور کہ جس میں محلے کے لوگوں کی عزت اپنی عزت تصور کی جاتی تھی اس میڈیائی دور میں وہ عزت ختم ہوگئی ہے۔میڈیا کے پیش کیے گئے محبت کے تخیلاتی انداز کو لوگوں نے اپنا لیا اور ہر آتی جاتی عورت کو گھورنا لوگوں کا فرض منصبی سمجھا جانے لگا۔اس کا اثر یہ ہوا کہ لوگوں میں اعتبار ختم ہو گیا اور جس معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں بلا جھجک چلے جایا کرتے تھے وہ سب ختم ہو گیا۔موبائل نامی آلے نے لوگوں کو آلیا،جس کی وجہ سے صوتی فاصلے توسمٹ گئے مگر دلوں میں قدورتیں بڑھ گئیں۔ یہ سب کیوں ہوا،ہمارا سکون اعتبار کیوں چھن گیا،ہم تنہائی کا شکار کیوں ہو گئے ایسا اس لیے ہوا کیوں کہ ہم نے ترقی کر لی۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Or Phir Hum Ne Taraqi Kar Li is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 29 June 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.