پہلی جماعت کی طالبہ کا درندگی کے بعد قتل

پیار محبت اور امن کے درس دینے والے حضرت بابا بلھے شاہ کے شہر قصور میں چند روز قبل ایک ایسا دل خراش واقعہ پیش آیا جس نے ہرآنکھ کو نم اور دل کوغم میں ڈبا دیا، تھانہ بی ڈویژن کے علاقہ کوٹ پیراں سے نامعلوم ملزمان نے تاجر محمد آصف کی

ہفتہ جنوری

Pehli Jamat Ki Taliba Ka Darindagi K Baad Qatl
حاجی محمد شریف مہر :
پیار محبت اور امن کے درس دینے والے حضرت بابا بلھے شاہ کے شہر قصور میں چند روز قبل ایک ایسا دل خراش واقعہ پیش آیا جس نے ہرآنکھ کو نم اور دل کوغم میں ڈبا دیا، تھانہ بی ڈویژن کے علاقہ کوٹ پیراں سے نامعلوم ملزمان نے تاجر محمد آصف کی پانچ سالہ بیٹی عائشہ کو اغوا کرلیا ، جبکہ محمدآصف کی دوہی بیٹیاں تھیں اور اغوا کاپولیس نے مقدمہ تودرج کرلیا، مگر دوروز تک سراغ نہ مل سکا، ڈی پی اوقصور سیدعلی ناصر رضوی نے جب بچی اغواء ہونے کی خبرسنی تومتعلقہ ایس ایچ او کوحکم دیا کہ دوتین دن کے اندر بچی کے ملزموں کو فوری گرفتار کیاجائے اور ان سے بچی عائشہ کوبرآمد کیاجائے ۔

مگرپولیس کی دوتین دنوں کی محنت کسی کام نہ آئی مگر تیسرے روز شام کے وقت حاجی میرج ہال کے عقب میں واقعہ ایک زیر تعمیر مکان سے عائشہ کی نعش مل گئی ۔


عائشہ اس مکان کے اندر الٹی لیٹی ہوئی تھی ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے عائشہ سورہی ہے مگر کیا پتہ کہ درندوں نے عائشہ کے ساتھ زیادتی کرنے کے بعد عائشہ کو گلہ دبا کرقتل کردیا ہے جب موقع پرنوائے وقت ، وقت نیوز کی ٹیم پہنچی تووہاں پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی اور سینکڑوں کے حساب سے لوگوں کی تعداد موجود تھی جس کی خبر نے اہلخانہ سمیت ہر آنکھ کو نم کردیا۔

عائشہ کے والدین صدمہ سے نڈھال ہوگئے ، سکول میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی بدنصیب بچی عائشہ آصف کو ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کردیا گیا۔ نمازہ جنازہ میں نمائندہ نوائے وقت ، وقت نیوز صدرپریس کلب قصور حاجی محمد شریف مہر، جنرل سیکرٹری طارق محمود جٹ چیئر مین ایمراء مہر محمد عبدالرحمن ، گروپ لیڈرمہر محمد جاوید ، مسلم لیگ (ن ) کے مقامی ایم این اے میاں وسیم اخترشیخ ، وائس چیئرمین میونسپل کمیٹی قصور احمد لطیف چوہدری کے علاوہ وکلاء سیاسی وسماجی ، صحافی ، تاجر تنظیموں کے علاوہ شہریوں کی بڑھی تعداد نے شرکت کی ۔


پانچ سالہ عائشہ کی نماز جنازہ میں شامل ہر شخص سمیت شہر میں ہرکوئی بے دردی سے قتل کی جانے والی بچی کی ہلاکت پر آفسردہ ہے ۔ اس ضمن میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق مقتولہ عائشہ وقوعہ کے روز اپنے والدین کے ہمراہ قریبی عزیزوں کی ایک شادی کی تقریب میں شریک تھی کہ اچانک تقریب کے دوران ہی عائشہ کو درندہ صفت ملزمان نے اغواء کرلیا۔ اس طرح شادی کی تقریب ایک ماتم کدہ میں تبدیل ہوکر رہ گئی ۔

عائشہ کی موت کی خبر ملنے پر اس کی والدہ اپنے ہواس کھوبیٹھی اسی طرح عائشہ کی پورسٹمارٹم رپورٹ میں ڈاکٹروں کاکہنا ہے کہ درندہ صفت ملزم نے پہلے بچی کو درندگی کونشانہ بنایا اور بعد میں گلہ دبا کر قتل کر دیا۔ اس افسوسناک واقع پر ناصرف بڑے آفسردہ ہیں بلکہ چھوٹے بچوں میں بھی خوف پایاجارہا ہے ۔
عائشہ کی نعش دیکھ کریوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے یہ سوال کررہی ہوکہ مجھے درندگی کا نشانہ بناکر قتل کیوں کیا گیا میراکیا قصور تھا؟ میرے قاتلوں کوکون تلاش کرے گامجھے کون انصاف دے گا ، آخر ہمارے معاشرے میں یہ درندگی کب تک جاری رہے گی اور اس کوکیوں ابھی تک ختم نہیں کیاجاسکا ہے، عائشہ کی روح آج بھی حکمرانوں کی جانب دیکھ رہی ہے ڈی پی او آفس کے یرجمان کاکہنا ہے کہ ڈی پی او قصور کی جانب سے چھ مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں ۔

جو دن رات ملزمان کی تلاش میں لگی ہوئی ہیں جبکہ پولیس نے ایک عورت سمیت چالیس کے قریب مشکوک افراد کوحراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے ۔ پولیس کے مطابق ڈی پی او خود اس مقدمہ کی تفتیش کررہے ہیں اور ان کاکہنا ہے کہ جلدملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا ۔
متاثرہ خاندان اور شہریوں کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب ہر دکھی انسان کے پاس ان کے گھر پہنچ جاتے ہیں مگر ان کے ننھے پھول کومسلنے کے واقع کافوری نوٹس لیتے ہوئے قصور کاہنگامی دورہ کرکے دکھ میں مبتلا فیملی کو ملزمان کی فوری گرفتاری کی یقین دہانی کروائیں ، ضلع قصور کی عوام ڈی پی او قصور سید علی ناصر رضوی سے اپیل کرتی ہے کہ جیسے ضلع میں امن پیداکیا ہے اور ان درندوں کو زمین کے اندر دھکیل دیا ہے اسی طرح اس ننھی منھی عائشہ کے قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے ان کوعبرت کانشان بناتے ہوئے ان کو زمین کے اندر دھکیلا جائے ۔

اس وقت قصور کی عوام ڈی پی او قصور سید علی ناصر رضوی کی طرف دیکھ رہی ہے کہ متاثر خاندان کوکب تک انصاف مل جائیگا۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Pehli Jamat Ki Taliba Ka Darindagi K Baad Qatl is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 21 January 2017 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.