رسم و رواج کی پابندی کے نقصانات

بے شک رسم و رواج کا تعلق مذہب سے نہیں بلکہ اس خطہ کی ثقافت سے ہوتا ہے مگر یہ ثقافت بھی کہیں نہ کہیں مذہبی رنگ لیئے ہوتی ہے۔ اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ہم خود اپنا ثقافتی اثاثہ نہیں ڈھونڈ پائے نہ ہی پہچان پائے

sumaiya sultan سمیہ سلطان جمعرات اکتوبر

Rasm o Riwaj Ki Pabandi K Nuqsanat
یوں تو سر سید احمد خان کی تمام تصانیف مسلمانوں میں شعور بیدار کرنے اور وقت کے تقاضوں کے پیش نظر وجود میں آئیں لیکن اگر ہم اس مضمون کو آج پڑھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے مسلمان آج بھی ذہنی طور پر اس ہی دور میں ہیں۔ میرے اس عنوان کا مضمون فرسٹ ایر کی اردو کے نصاب میں شامل ہے۔ سر سید احمد خان نے آج سے تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے اپنی کتاب "مقالات سر سید " میں اس مضمون کی اشاعت کی تھی۔

لیکن افسوس صد افسوس ہم معاشرتی سوچ کے اعتبار سے آج بھی اس ہی جگہ کھڑے ہیں جہاں ہم ڈیڑھ سو سال پہلے کھڑے تھے ۔
بے شک رسم و رواج کا تعلق مذہب سے نہیں  بلکہ اس خطہ کی ثقافت سے ہوتا ہے مگر یہ ثقافت بھی کہیں نہ کہیں مذہبی رنگ لیئے ہوتی ہے۔ اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ہم خود اپنا ثقافتی اثاثہ نہیں ڈھونڈ پائے نہ ہی پہچان پائےبلکہ غیروں کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے اپنے لئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

آج بھی ہم رسم و رواج کی ویسی ہی اندھی تقلید کر رہے ہیں جیسی برسوں سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہ رواج انسانوں کے لئے بنے تھے لیکن ان کی بے جا پابندی دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ جیسے انسان ان رسومات اور رواج کے لئے تخلیق کیا گیا ہے۔ انسان ختم ہوجاتا ہے مگر رواج نہیں۔
 شادی بیاہ ہو، اولاد کی پیدائش ہو یا کوئی سوگوار گھر؛ فضول اور بے مصرف رسومات کی ادائیگی پہلے فرض ہوتا ہے۔

دین اسلام عین فطرت انسانی ہے ۔ اسلام میں ہمارے لئے ایسے کوئی احکامات نہیں جس پر عمل کرکے ہم کسی بھی مشکل میں گرفتار ہوں یا وہ ہمارے لئے باعث تکلیف ہوں۔ اسلام میں شادی سے لیکر طلاق تک، اولاد کی ولادت سے لیکر کسی اپنے کی موت تک، ہر پہلو کے لئے ایک بہترین لائحہ عمل موجود ہے۔ مگر ہم خود ہی اپنی زندگیوں کو پیچیدہ کرنے پر تلے ہیں۔
ہمارے یہاں کی شادیوں کے لئے غیر مسلمانہ رسمیں، بے جا اسراف اور جہیز لازم و ملزوم ہوچکے ہیں۔

جہیز کا اگر پس منظر دیکھا جائے تو اس کا مقصد لڑکی کی معاشی طور پر مدد کرنا ہوتا تھا۔ کیونکہ غیر مسلموں میں لڑکی کی وراثت کا تصور نہیں تھا۔اس لیئے وہ شادی کے موقع پر اپنی بیٹی کو ہر طرح کی آسائش مہیا کرنے کی کوشش کرتے تھے لیکن وقت کی ساتھ ساتھ یہ جہیز رسم کی شکل اختیار کر گیا۔ اور شادی جہیز کی شرطوں پر ہونے لگی۔ اس کے برعکس اسلام میں شادی جیسا فریضہ کسی بھی شرط سے بالاتر ہو کر ادا کیا جاتا ہے۔

بالکل اسی طرح بچے کی پیدائش پر اور سالگرہ کے موقع پر بھی کہیں ننھیال سے ڈھیر سارے کپڑے اور تحائف کا مطالبہ ہوتا ہے تو کہیں بچے کے والد سے شاندار عقیقہ کا یا دعوت یا پھر بہت سے تحائف کا مطالبہ رسم و رواج کے نام پر ہوتا ہے جو کہ اکثر سراسر اسراف اور بوجھ کے زمرے میں اتا ہے-
اسلام میں کہیں بھی خرچ کرنے پر ممانعت نہیں ہے بلکہ یہ تو پسندیدہ امر ہے کہ انسان اپنے اہل و عیال پہ خرچ کرے اور اسے بہتر معیار زندگی مہیا کرے۔

مگر ساتھ ہی اسراف سے بھی روکا گیا ہے تاکہ زندگی نہ آپ کے لیئے بوجھ بنے اور نہ ہی دوسروں کے لیئے۔ میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ آپ اپنے پیاروں کو ہر آسائش مہیا کریں اور ان کی ہر جائز خواہش پوری کریں جو آپ کرسکتے ہیں۔ میں نہیں کہتی کہ اگر آپ بہتر طور پر اپنے اہل خانہ کے فرائض ادا کرسکتے ہیں تو ایسا نہ کریں، بس اتنی سی التجا ء ہے کہ یہ سب کرنے سے پہلے اتنا دیکھ لیں کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کو ناراض تو نہیں کر رہے؟ کیا کوشش کرکے ہم اپنی اولاد کو ایسا ہی طرز زندگی تمام عمر دے سکیں گے ؟ کیا ہمارے کسی عمل سے ہمارے عزیز و اقارب یا کسی ضرورت مند کی دل آزاری کا سبب تو نہیں ہے؟ یہ عمل نمود و نمائش پر مبنی تو نہیں ؟ کسی کو حسد، جلن اور احساس محرومی میں مبتلا تو نہیں کر رہا؟ اگر ایسا ہے تو یقین کیجیئے ہم کہیں نہ کہیں غلط ہیں اور فضول رسم و رواج کو اپنے لئے فرائض کا درجہ عطا کرچکے ہیں۔


اسی طرح کسی کا کوئی پیارا  اگر دنیا فانی سے کوچ کر جا ئے تو ہم بجائے اس کا غم ہلکا کرنے کے ایسی ایسی رسومات میں لواحقین کو ا لجھا لیتے ہیں کہ ان کا غم ہلکا ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتا ہے۔ سوگ منایئے، دیگ بھی پکوایئے مگر اتنا ضرور دیکھ لیں کہ اس کھانے کے مستحقین کون لوگ ہیں۔ قران خوانی اور میلاد کا اہتمام بھی کروایئے مگر یہ بھی سوچ لیجیئے کہ جناب آپ سے زیادہ کون خلوص دل سے مرحوم کےلیئے  ایصال ثواب کرسکتا ہے۔

آپ سے زیادہ کس کو اتنا پیار ہوسکتا ہے کہ وہ صدق دل سے اس قرآن خوانی کا حصہ بنے۔ لوگ آتے ہیں ایصال ثواب کی نیت سے  پڑھتے بھی ہیں ان کی نیتوں پہ کوئی شک نہیں مگر وہ خلوص ضرور مفقود ہوتا ہے جو کسی اپنے قریبی عزیز کے لیئے ہوتا ہے۔۔ اور ہر کسی کے لیئے اس پر عمل کرنا ضروری  ہے شائد اس لیئے کہ یہ سب چیزیں رواج کا درجہ پاچکی ہیں۔
ان سب باتوں کے پس منظر میں سر سید احمد خان کے مضمون سے ہی ایک اقتباس پیش خدمت ہے:
" ۔

۔۔آزادی اور اپنی خوشی پر چلنا جہاں تک کہ دوسروں کو ضرر  نہ پہنچنے ہر انسان کی خوشی اور اس کا حق ہے۔ پس جہاں کہیں معاشرت کا قاعدہ جس پر کوئی چلتا ہے خاص اس کی خصلت پر مبنی نہیں ہے بلکہ اگلی روایتوں پر یا پرانی رسم و رواج پر مبنی ہے۔ تو وہاں انسانوں کی خوشحالی کا ایک بڑا جزو موجود نہیں ہے اور جو کہ خوشحالی ہر فرد بشر کی اور نیزکل لوگوں کی ترقی کا بہت بڑا جزو ہے  تو اس ملک میں جہاں رسموں کی پابندی ہے وہ جزو بھی ناپید ہوتا ہے۔

"
اگر ڈیڑھ سو سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ہم معاشرتی اور ذہنی طور پر اتنے ہی پیچھے ہیں ، آج بھی ہمیں اس امر میں شعور کی ضرورت ہے تو بحیثیت قوم یہ ہمارے لیئے لمحہ فکریہ ہے۔ آج بھی اگر اسی جگہ کھڑے ہیں تو اس کی بڑی وجہ صرف دوسروں پر تنقید اور کردار کشی  اور مثبت سوچ کا فقدان ہے۔ اگر ہم صرف اپنا محاسبہ شروع کردیں صرف اپنا طرز عمل بہتر کر لیں تو ممکن ہے کہ تعمیری عمل میں ہم اپنا  صحیح کردار ادا کر سکیں۔


"اللہ سے کرے دور، تو تعلیم بھی فتنہ
املاک بھی، اولاد بھی، جاگیر بھی فتنہ
نا حق کے لیئے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا، نعرہٰ تکبیر بھی فتنہ"
                                                            (علامہ محمد اقبال )

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Rasm o Riwaj Ki Pabandi K Nuqsanat is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 31 October 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.