شادی ہال اور ٹریفک مسائل

پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں ہر آنے والے دن صبع کے وقت سے دوپہر اور پھر شام کو مختلف علاقوں میں ٹریفک جام کا منظر ہی دکھائی دیتا ہے اور انتظامیہ خاص طور پر ٹریفک کو کنٹرول کرنے والے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

ہفتہ جنوری

Shadi Hall Aur Traffic Masayel
محمد رمضان چشتی:
پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں ہر آنے والے دن صبع کے وقت سے دوپہر اور پھر شام کو مختلف علاقوں میں ٹریفک جام کا منظر ہی دکھائی دیتا ہے اور انتظامیہ خاص طور پر ٹریفک کو کنٹرول کرنے والے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔اس میں بحیثیت قوم ہم سب برابر کے شریک ہیں اس صورتحال سے نکلنے کے لئے بھی ہم سب کو کام کرنا ہوگا۔

اس کے کئی عوامل ہیں ، چھوٹے چھوٹے شادی ہال جو ہمارے ہاں موجود ہیں شہری علاقوں کے نزدیک تر ہیں اسی لئے وہاں ہونے والی شادی بیاہ کی تقریبات میں جانے والے وہاں باآسانی پہنچ جاتے ہیں۔ ان ہالوں کی سہولت کی وجہ سے سو، ڈیڑھ سو افراد کی بکنگ بھی کرا لیتے ہیں جو مہنگائی کے دور میں غریب اور متوسط گھرانوں کیلئے غنیمت ہے۔ اگر کھانا شادی ہال کے ذمے ہے جس میں تمام مہمانوں کی آؤ بھگت ہوتی ہے وہ چار پانچ سو روپے فی کس کے حساب سے ہوتی ہے اور بڑے بڑے شادی ہال جو شہر سے دور ہیں وہاں تک جانا ہر ایک کے لئے ممکن نہیں اور اس وقت لاہور ہی میں آنے جانے کیلئے جو سفری مشکلات ہیں وہ بھی ٹریفک اڑدھام سے بھی سے بھی متعلقہ جگہوں پر پہنچنا مشکل ہے۔

اب جو شادی ہالوں کے خلاف اقدامات کئے جا رہے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ کم از کم چار کنال پر شادی ہال مشتمل ہو۔ پہلے تو اسکی زمین ، اسکی تعمیر اور تزئین پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور جو بھی چار چار کنال پر شادی ہال بنے یا بن چکے ہیں وہاں شادی کی بکنگ فی کس عام چھوٹے ہالوں سے کئی گنا زیادہ ہے اور وہ پچاس سو آدمیوں کی بکنگ بھی نہیں کرتے اور غریب متوسط گھرانے کا سربراہ اپنی بیٹی کی رخصتی کیلئے جس طرح روپے کا بندوبست کرتا ہے ،وہی جانتا ہے لہٰذا جس طرح ون ڈش اور رات کو ایک وقت مقرر تک شادی بیاہ کی تقریبات ختم کرنے پر عمل کیا جا رہا ہے اس کے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور ایک بار شادی تقریبات کا دوپہر کو انتظام کیا جا رہا ہے۔

غیر منظور شدہ شادی ہالوں کو ختم کرنے کا ایک جواز یہ بھی بتا یا جا رہا ہے کہ اس سے ٹریفک مسائل پیدا ہو رہے ہیں جبکہ شادی ہال ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ شادیوں کی تقریبات کو زیادہ تر شام سات بجے سے رات دس بجے ہوتی ہیں اس سے ٹریفک مسائل ہماری وجہ سے کیسے پیدا ہوتے ہیں۔اس وقت کاروں کو شوروموں کو دیکھ لیں، ان کی گاڑیاں شوروم سے باہر قطار در قطار لگی ہوتی ہیں جس سے سروس روڈ پر بھی ٹریفک جام نظر آتا ہے، کیا صرف بلڈوزوں کی مدد سے بنی ہوئی عمارتوں کو گرا کر کسی کو بے روزگار کرنے سے مسئلہ حل ہو جائے گا۔

ملک میں پہلے ہی بے روزگاری کی وجہ سے مختلف مسائل جنم لے رہے ہیں، جبکہ ٹریفک کی صورتحال یہ ہے کہ شادی ہال تک پہنچنا بھی دشوار ہو جاتا ہے بلکہ کئی دفعہ تو اس طرح بھی ہوتا ہے کہ مہمان پہنچنا شروع ہوتے ہیں کہ شادی ہال والے لائٹس بند کرنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ ان کو پابندی وقت کرنی ہوتی ہے۔ جہاں تک شادی ہالوں میں کھانے کا تعلق ہے تو ایک شکایت عام ہے کہ وہاں کھانا معیاری نہیں ملتا۔

چیف جسٹس صاحب بھی اس پر نوٹس لیں، اگر یہ شادی ہال غیرقانونی بنے تو کس نے اس کی تعمیر کے وقت اس سے چشم پوشی کی کہ متعلقہ اداروں میں کام کرنے والے سرکار سے ہر ماہ باقاعدگی سے تنخواہ وصول کرتے ہیں تو ان کو دیکھنا بھی چاہئے کہ کہاں اور کون غیرقانونی تعمیر کر رہا ہے۔میری تو اتنی گزارش ہے کہ ان شادی ہالوں کے مالکان کو فیروز پور رورڈ پر خالی سرکاری زمین پڑی ہے وہاں ان کو چار چار کنال اراضی الاٹ کر دی جائے کہ یہ علاقہ شہر سے قریب تر ہے اس سے عوام کو بھی سہولت ملے گی اور مالکان ہال بھی مطمئن ہوں گے۔

جہاں تک ٹریفک جام کا تعلق ہے تو بھاٹی گیٹ سے سٹیشن تک دیکھ لیں وہاں کتنے شادی ہال ہیں مگر صبح سے شام تر ٹریفک جام نظر آتی ہے۔ ہمارا حال بھی عجیب ہے کہ اپنا قصور دوسروں پر ڈال دو اور خود اپنا دامن بچا لو۔ حکومتوں کو ناکام کرنے کیلئے ایسے ہی اداروں کے افراد ہوتے ہیں جو لوگوں کا جائز کام نہیں کرتے تو اس سے حکومت کی نیک نامی ہی پر حرف آتا ہے۔

اگر کام میرٹ پر ہو تو پھر کوئی بھی مسئلہ پیدا نہ ہو۔ دراصل ساری رکاوٹیں اور مسائل بڑھتا ہوا سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ ہے۔ صرف گوجرانوالہ میں روزانہ ایک ہزار نئی موٹر سائیکل تیار ہوتی ہے۔ اسی طرح نئے رکشے اور نئی سے نئی کاریں بھی مارکیٹ میں آ رہی ہیں اور ان کو خریدنے والے بھی اسے خرید کر اس میں سفر کریں گے تو سڑکوں پر دباؤ تو بڑھے گا۔

اس حوالے سے عمران مرزا کہتے ہیں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں مغرب کے بعد دکانیں بند ہوجاتی ہیں ،جبکہ ہمارے ہاں پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں مغرب کے بعد بھی ایک شفٹ کی چھٹی ہوتی ہے۔جہاں تک موجودہ شادی ہالوں کا تعلق ہے تو ان کو چند ہفتے بند کر کے دیکھ لیں کہ کیا اس سے ٹریفک کی روانی میں بہتری آئی ہے۔ اگر ایسا ہو تو پھر ان کو مسمار کر دیں ورنہ ان کو کچھ سہولت دیں تاکہ اس سے مسئلے کا کوئی مثبت حل کو نکلے جس سے کسی کو نقصان نہ ہو، اگر لاہور جیسے بڑے بڑے شہروں پر بڑھتی آبادی کا بوجھ کم کرنا ہے تو نئے نئے شہر بنائے جائیں ۔

ٹریفک مسائل کی ایک وجہ وی وی آئی پی مووممنٹ کی وجہ سے بھی لوگوں کو مسائل کا سامنا ہوتا ہے کہ ٹریفک پولیس کے پاس ایک ہی حل ہوتا ہے کہ عوام جس مشکل میں پھنسی ہے وہ پھنسی رہے، بڑے بڑے بڑے افسر آرام سے اور تیزرفتاری سے گزر سکیں۔جو پراپرٹی ٹیکس دیتے ہیں، ایکسائز ڈیوٹی دیتے ہیں ان کو حکومت اور انتظامیہ کی طرف سے سہولتیں بھی دینی چاہئیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اندرون شہر مارکیٹوں کو بھی کھلی جگہوں پر منتقل کرنے کے اقدامات کرے، اس سے ٹریفک کے دباؤ میں کمی آئے گی۔ ہمارے ہاں عموماً یہی ہوتا ہے کہ بڑے بڑے پلازے تعمیر ہو جاتے ہیں اور متعلقہ ادارے اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور بعد میں ایکشن لیتے ہیں اور اس بلڈنگ یا پلازے کو مسمار کرنے لگتے ہیں۔ کیا یہ کام راتوں رات ہوتا ہے؟ دراصل یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ اس میں کس نے کوتاہی کی اور اس کا ذمہ دار کون ہے۔

اگر ایسا ہوا تو پھر آئندہ کوئی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ ڈرانے سے مسئلے حل نہیں ہوتے، اب لوگوں کو سستی اور کھلی جگہوں پر منتقل کرنے کی ترغیب دینے کی ضرورت ہے، اس سے ماحول میں بہتری آئے گی۔ آج زندگی اتنی مصروف ہو گئی ہے کہ پرسکون ماحول دکھائی نہیں دیتا۔ اس کے لئے نئے شہر بنانے کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے نہ تھی۔ ایسے اقدام سے ہی بہتری آئے گی۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Shadi Hall Aur Traffic Masayel is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 13 January 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.