ٹریفک قوانین اور روڈ سیفٹی

شہر قائد کے علا قہ گو لیمار میں گرین بس لائن منصوبہ کے روٹ سے متاثرہ سڑک کو کلیئر کرنے کے لئے ٹریفک پو لیس اہلکار نے بیلچہ کی مدد لی اور سڑک پر مو جو دہ ملبہ کو ہٹاکر فرض شنا سی کی مثال قائم کی۔ آئی جی سندھ اے ڈی خو اجہ نے کے اس عمل کو نہ صرف سراہا بلکہ 50 ہزار روپے نقد انعام اور تعریفی سند دینے کا اعلا ن کیا ہے

جمعرات اپریل

Traffic Qawaneen Or Road Safety
شہر قائد کے علا قہ گو لیمار میں گرین بس لائن منصوبہ کے روٹ سے متاثرہ سڑک کو کلیئر کرنے کے لئے ٹریفک پو لیس اہلکار نے بیلچہ کی مدد لی اور سڑک پر مو جو دہ ملبہ کو ہٹاکر فرض شنا سی کی مثال قائم کی۔ آئی جی سندھ اے ڈی خو اجہ نے کے اس عمل کو نہ صرف سراہا بلکہ 50 ہزار روپے نقد انعام اور تعریفی سند دینے کا اعلا ن کیا ہے۔ ٹریفک اہلکار کا ادنیٰ عمل ان سرکاری رفقاء وا حباب کے لیے ایک مثال ہے جو دن بھر اپنے فرائض سے نا انصافی کرتے ہوئے چائے پینے کے نا م پر مٹھی گرم کر تے رہتے ہیں۔

انہی کالی بھیڑوں کی وجہ سے ڈیپارٹمنٹ ہی بد نا می کا با عث بتنا ہے۔ انہی بھیڑوں کی لاپروائی و غفلت کے با عث ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہو تی ہے جس کے با عث آئے دن ٹریفک حادثات معمول بن گئے ہیں اور قیمتی جا نو ں کا زیا ں ہو تا ہے۔

(جاری ہے)

خاندان کے خاندان اجڑ جا تے ہیں۔ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے سے ہی ٹریفک مسائل جنم لیتے ہیں۔ اتوار 9 اپریل 2017 ء کو سپر ہائی وے 17 گھنٹے تک جا م رہا جس کی وجہ ایک آئل ٹینکر کا حادثہ تھا۔

کراچی سے حیدر آباد جانے والا آئل ٹینکر نوری آباد کے قریب تیز رفتاری کے با عث الٹ گیا اور سڑک بند ہونے کے با عث ٹریفک دوسرے ٹریک پر آگیا اور یو ں ٹریفک بد نطمی کا شکار ہو گیا ہزاروں افراد ٹریفک جا م میں گھنٹوں پھنسے رہے۔اسی طرح سیہو ن شریف کے قریب پیر شاخ کیل مقام پر کراچی سے لا ڑکا نہ جانے والی مسافر کو چ تیز رفتاری کے با عث مو ٹر سائیکل کو بچاتے ہوئے الٹ گئی جس کے نتیجے میں مو ٹر سائیکل سوار سمیت چار افراد جان سے ہا تھ دھو بیٹھے۔

انہیں حادثات میں روزانہ متعدد افراد زخمی ہوجا تے ہیں جو کہ کسی خبر یا ریکارڈ کاحصہ نہیں تھے۔
ایسی صورت میں یہ ضروری ہے کہ ٹریفک قوانین کے بلا امتیاز اطلاق کو ہر صورت ممکن بنایا جائے۔ افسران روڈ یوزرز کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور مشکل وقت میں روڈ یوزرز کی مدد کو ہر صورت ممکن بنایا جائے۔ محکمہ کو دورِ حاضر کے تمام جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا ئے۔

ٹریفک جام سے بچنے کے لئے سڑکوں پرقائم ہر طرح کے تجاوزات کو ہر صورت ختم کیا جائے تاکہ سڑک کو مسافروں کیلئے ہر طرح سے محفوظ بنایا جا سکے۔ تمام ایس ایس پی دفاتر میں آپریشنز کمانڈ اینڈ کنٹرول رومز قائم کیے جائیں تاکہ ہونے والی تمام سرگرمیوں کی بروقت اطلاع کے ساتھ ساتھ تمام ممکنہ ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے روڈ یوزرز کیلئے سفر کو محفوظ بنایا جا سکے۔

جدید تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حادثات کی تحقیقات اور وجوہات کو جاننے اور ان کے سدِ باب کیلئے ہر سیکٹر میں ایکسیڈنٹ انوسٹیگیشن یونٹ قائم کئے جائیں۔ اوورلوڈ گاڑیوں کو چالان کے اجراء کے ساتھ ساتھ ان کا زائد سامان اتروا لیا جائیگا تاکہ اوور لوڈنگ کی دجہ سے ہونے والے حادثات میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ نیشنل ہائی وے کوہونے والے نقصان سے بچایا جا سکے۔

اسی طرح کی وائیلیشن کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ روڈ یوزرز کو ٹریفک قوانین سے آگاہی فراہم کرنے کیلئے روڈ سیفٹی پلان 2017 پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ روڈ سیفٹی ایجوکیشن کو معاشرے کے ہر فرد تک پہنچایا جا سکے۔ سابقہ کارکردگی کا جائزہ لے کر مزید بہتر لائحہ عمل اپنا کر جی ٹی روڈ کو روڈ یوزر کے سفر کیلئے محفوظ بنایاجا سکے۔
حکو مت صوبہ بھر میں ٹریفک قوانین کی خلا ف ورزی سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمنٹنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے اس تنا ظرمیں صوبائی وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن وانسداد منشیات مکیش کمار چاولہ کی ہدایت پر ٹیکس ادا نہ کرنے والی گاڑیوں کے خلاف 20 مارچ سے شروع کی جانے والی ٹیکس وصولی کی روڈ چیکنگ مہم 3 اپریل کو اختتام پذیر ہو گئی۔

مہم کے دوران مجموعی طور پر 24673 گاڑیاں چیک کی گئیں۔ایک اجلاس میں بریفنگ دیتے ہو ئے ڈائریکٹر جنرل شعیب احمد صدیقی نے بتایا کہ کراچی میں 12758 گاڑیاں، حیدر آباد میں 4517،سکھر میں 2487، لاڑکانہ میں 1875،میرپورخاص میں 2423 اور شہید بے نظیر آباد میں 1845 گاڑیاں چیک کی گئیں۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ مہم کے دوران 1104 گاڑیاں ضبط کی گئیں، 2718 گاڑیوں کے کاغذات ضبط کئے گئے تاہم ٹیکسز اور جرمانے کی وصولی کے بعد 1897 گاڑیوں کے کاغذات واپس کردیئے گئے۔

صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ نے اس بات پر بھی کا اطمینان کا اظہارکیا کہ روڈ چیکنگ مہم کے دوران ٹیکس کی مد میں 7718527روپے، ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں 4935472 روپے اور جرمانے کی مد میں 1206150 روپے وصول کئے گئے۔صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ نے افسران کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ افسران آئندہ بھی اسی جانفشانی اور ایمانداری کا مظاہرہ کریں گے۔درحقیقت ٹریفک قوانین پر عملدرآمد ہی رود سیفٹی ہے۔ ٹریفک قوانین پر عمل کرنے بالخصوص تیز رفتاری ، یو ٹرن رارت کے اوقات میں ہیڈ لائٹس کا روشن ہونا ، اشاروں کاصحیح کا م کر نا و دیگر قوانین پر عمل کرکے ٹریفک جا م حادثات سے بچا جا سکتا ہے او ر وقت بچا یا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Traffic Qawaneen Or Road Safety is a social article, and listed in the articles section of the site. It was published on 13 April 2017 and is famous in social category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.