ترکی میں د ہشت گردی

دہشت گردی جہاں پوری دنیا میں ہورہی ہے وہاں ترکی بھی اس سے نہیں بچ پایا ہے۔ مسلسل ترکی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ سال کے شروع میں استنبول کے نائٹ کلب میں دہشت گردوں کے حملوں سے چالیس افراد جاں بحق ہوئے۔دہشت گردوں نے کلب کے اندر داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ کی اورسال نو کی خوشیاں منانے والوں کو خون میں نہلا کے رکھ دیا

بدھ جنوری

Turkey Main DehshaatGardi
دہشت گردی جہاں پوری دنیا میں ہورہی ہے وہاں ترکی بھی اس سے نہیں بچ پایا ہے۔ مسلسل ترکی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ سال کے شروع میں استنبول کے نائٹ کلب میں دہشت گردوں کے حملوں سے چالیس افراد جاں بحق ہوئے۔دہشت گردوں نے کلب کے اندر داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ کی اورسال نو کی خوشیاں منانے والوں کو خون میں نہلا کے رکھ دیا۔ادھر ترکی کے دارلحکومت انقرہ میں روسی سفیر آندرے پر مسلح شخص نے فائرنگ کرکے اس کو ہلاک کر دیا۔

اور اس فائرنگ سے مزید تین افراد زخمی ہوگئے۔ترکی میں اس واقعہ کو ایک وارننگ قرار دیا جارہا ہے کہ وہ روس سے دور رہے۔ترک اور روسی صدر نے اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیتے ہوئے بدلہ لینے کااعلان کیا تھااور آپس میں دونوں ممالک کے لیڈران نے یہ اعتراف کیاکہ روسی سفیر کا قتل دراصل دونوں ممالک کے آپس کے تعلقات کو خراب کرنا ہے۔

(جاری ہے)

ادھر امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے بھی اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

روسی حکومت نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے ترکی میں ان کے سفیر کی ہلاکت پر روسی حکومتی ترجمان نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اورا پنے سفیر کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک اہم فرد قرار دیا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق کسی ملک کا دوسرے ملک میں اس کے سفیر کا قتل ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔ پھر خاص کر روس اور ترکی کے تعلقات جو سرد مہری کا شکار ہیں۔

کچھ عرصہ قبل ترکی نے روس کا ایک جنگی جہاز بھی تباہ کر دیا تھاجس کی بناء پر دونوں ممالک کے آپس میں تعلقات میں دراڑ پڑ گئی تھی۔تاہم ترکی کے صدر طیب اردوان نے اس واقعہ پر معافی مانگی اور دوبارہ تعلقات بحال کئے۔دیکھا جائے تو شام کے معاملے میں بھی ترکی اور روس ہم خیال تھے اور اسی حوالے سے ایک کانفرنس بھی منعقد ہونے جارہی تھی۔ تاہم روسی سفیر کے قتل کے بعد یہ معاملہ کہیں اور چلا گیا ۔

اور پوشیدہ طاقت روس اور ترکی کے تعلقات میں دراڑیں ڈالنا چاہتاہے۔اور ترکی میں د ہشت گردی پھیلا کر اسے عدم استحکام کا شکارکرنا چاہتے ہیں۔مگر ترک حکومت شدت پسندوں گروپوں کے خلاف اپنے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے لئے کوششیں کر رہی ہے۔تاہم دوسری جانب یہ گروپس اتنے مضبوط ہیں کہ وہ موقعہ کی تلاش میں رہتے ہیں جونہی کوئی موقع ملتا ہے وہ کوئی بڑا حملہ کر دیتے ہیں اور کامیاب ہو جاتے ہیں۔

ترکی میں دہشت گردی کے حملے واضح کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک موڑ میں داخل ہو چکی ہے۔ آنے والے وقتوں میں یہ دہشت گردی کے واقعات کا سامنا یورپ کو بھی کرنا پڑے گا۔ امریکہ اور مغربی طاقتوں کی کوششوں کے باوجود یہ جنگ پھیلتی جارہی ہے۔اسلامی ریاستیں تو پہلے ہی اس دہشت گردی کا شکار ہو چکی ہیں۔اس میدان جنگ میں پاکستان، افغانستان ، شام ، عراق ، یمن اور لیبیا سمیت دوسرے اسلامی ممالک شامل ہیں۔

تا ہم ان دہشت گردی کے واقعات کے ہونے میں امریکہ اور ا س کے اتحادیوں کی ناقص پالیسیوں اور حکمت عملیوں کا نتیجہ ہے کہ جس سے پوری دنیا خطرات سے دو چار ہے۔ادھرپوری دنیا ان دہشت گردی کی وارداتوں سے بیزار دکھائی دیتی ہے۔ پیرس میں شروع ہونے والی مشرق وسطیٰ امن کانفرنس میں 72 ممالک کے نمائندوں کی شرکت بتائی جارہی ہے۔اس کانفرنس کا مقصد ہی دہشت گردی سے چھٹکارا اور امن وامان قائم کرنے پر زور دینا ہے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس حوالے سے شامی حکومت اور باغیوں کے مابین ان مجوزہ مذاکرات کا آغاز روس، ترکی اور ایران کی کوششوں سے ہو رہا ہے۔ترکی عالم اسلام کا ایک ملک اور فوجی اعتبار سے بھی طاقت ور ہے۔ تاہم اسے کمزور کرنے اور اسے غیر مستحکم کرنے کے لئے عالمی طاقتیں برسہا برس سے اپنے ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں ، یہ وہ طاقتیں ہیں جو عالم اسلام کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں۔

اسی طرح دیکھا جائے تو اب تک افغانستان، شام،یمن، عراق اور لیبیا ان کا نشانہ بن چکے ہیں اور آپس کے انتشار اور خانہ جنگی کا شکار ہیں۔لہٰذا ترکی کا مضبوط ہونا عالم اسلام کے لئے خاص اہمیت کا حامل ہے اور تمام اسلامی ممالک کو مشکل کی اس گھڑی میں ترکی کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ آنے والے دنوں میں ترکی کی مضبوطی اپنی جگہ برقرار رہے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Turkey Main DehshaatGardi is a international article, and listed in the articles section of the site. It was published on 25 January 2017 and is famous in international category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.