ضمیر کسی کا محتاج نہیں۔۔۔تحریر: عائشہ جاوید

میرا جسم میری مرضی کرنے والیوں کے دلوں میں اللہ کا خوف کیا مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔مسلمِ اُمہ کے مردوں کی نظروں میں سے حیا کہاں گئی۔ہمارا نظامِ تعلیم ہمیں کیا سیکھا رہا ہے......ہم کس طرف جا رہے ہیں......کیا ہم درست سمت کی طرف گامزن ہیں......

پیر نومبر

zameer kisi ka mohtaj nahi
میں آج کچھ یونیورسٹی کے نوٹس بنا رہی تھی جب تھک گئی تو رکھ دی اچانک ہی ایک خیال سا ذہن میں سے گزرا کہ یہ ہم کس طرف جا رہے ہیں کیا یہ ہی وہ منزل ہے جس کی طرف جانے کا آج سے 14 سو سال پہلے میرے نبیﷺ نے کہا تھا کیا ہم بھلائی کی طرف جا رہے ہیں میرا معاشرہ میری ثقافت کیا یہ ان اصولوں پر عمل پیرہ ہیں میرے ملک کی خواتین میرا جسم میری مرضی کرتی پھرتی ہیں
کیا میرے رب نے اِس کا حکم دیا تھا
میرے رب نے تو جنت پاک و صاف مرد اور عورتوں کیلیے رکھی ہے تو کیا ہم جنت کے حقدار ہیں...؟؟؟کیا یہ جو تعلم ہم حاصل کر ر ہے ہیں کیا یہ کامیابی کی ضامن ہے....؟؟؟ میرے دماغ میں ایک سوالیہ نشان تھا جو پورے کروفر کے ساتھ کھڑا تھا مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا میں خود کو کیسے مطمئن کروں کوئی تسلی کے دو بول.....پر جواب کہاں سے ملتا..... وہ تو تھا ہی نہیں......
شاید دور کہیں ہمالیہ کے پہاڑوں میں یا آسمان کی وسعتوں میں کہیں گُم تھامیرا ضمیر مجھ پر کوڑے برسا رہا تھا مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا میں کہاں منہ چھپاؤں جہاں یہ سوالات میرا پیچھا نہ کریں......
کوئی جگہ بھی تو نہیں ہے ایسی جہاں ضمیر کو چپ کروایا جاسکے......معلوم ہی نہیں ہوسکا کب کیسے لاتعداد آنسو رخساروں سے گرِتے ہوئے میری گردن کو بھی بھگو چکے تھے.....ایک بے یقینی کی کیفیت تھی جو مجھ پر حاوی ہوتی جارہی تھی........میرے پاس خود کے سوالوں کے جوابات ہی نہیں تھے۔

(جاری ہے)

یوں محسوس ہو رہا تھا اس دنیا میں مجھ سے بڑا گناہوں سے بھرا ہوا انسان کوئی نہیں میرے قہقے مجھ پر ہی ہنستے ہوئے دیکھائی دے رہے تھے.......ضمیر کا کٹہرا بہت سخت ہوتا ہے سنا تھا ایسا....مگر آج جب یہ کیفیت خود پر ورد ہوئی تو محسوس ہوا لوگ صیح ہی کہتے ہیں۔بہت غلط وقت پر اس کے چابک لہولہان کرتے ہیں۔میرے الفاظ میرا ہی ساتھ چھوڑ چکے تھے.....مگر ناجانے کہاں کوئی پڑا ہوا یا سنا ہو لفظ یاد آیا ''معافی''.......ہاں معافی بھی تو مل سکتی ہے نامیرا رب نے خود بھی تو قرآن پاک میں فرمایا ہے
'' شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور تمہیں بے حیائی کا حکم دیتا ہے اور اللہ تم سے اپنی مغفرت و فضل کا وعدہ کرتا ہے اللہ بڑی وسعت والا, اور ہر بات جاننے والا ہے''
(البقرہ268:2)
میرا جسم میری مرضی کرنے والیوں کے دلوں میں اللہ کا خوف کیا مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔

مسلمِ اُمہ کے مردوں کی نظروں میں سے حیا کہاں گئی۔ہمارا نظامِ تعلیم ہمیں کیا سیکھا رہا ہے......ہم کس طرف جا رہے ہیں......کیا ہم درست سمت کی طرف گامزن ہیں......
''میں اُس تعلیم کو مانتی ہی نہیں جو عورت کے سر سے ڈوپٹا اور مرد کی آنکھ سے حیا چھین لے''
ذرہ سوچیں یہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

zameer kisi ka mohtaj nahi is a social article, and listed in the articles section of the site. It was published on 11 November 2019 and is famous in social category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.