Inferiority complex and Road to Success ۔آخری قسط

جمعہ 16 اکتوبر 2020

Ahmed Adeel

احمد عدیل

اب وہ بچہ کامیاب ہو کر واپس آیا یا نہیں وہ ایک اور کہانی ہے لیکن اس بات کا اصل مقصد ہے وہ پیغام ہے جو اس بچے کا مڈل کلاس باپ اسے دیتا ہے کہ تھانے اور لڑائیوں کے چکروں میں پڑنے سے اچھا ہے جا کر پڑھائی کرو اور کسی مقام پر پہنچو۔ہماری اکثریت اس پیغام کو نہ سمجھتی ہے نہ ہی سمجھنا چاہتی ہے ۔ ہم میں سے بیشتر لوگ اپنی روایات، ذاتوں اور جھوٹی انا کے ہاتھوں یرغمال ہیں ۔

یہ صدیوں سے چلی آ رہی یرغمالی ہماری کامیابی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے یہ یرغمالی اپنی ذات اور اپنے ٹیلنٹ کو تلاش کرنے والے راستے کا وہ یو ٹرن ہے جو کامیابی کے راستے سے ٹرن لے کر سیدھا ناکامیوں کے پاتال میں اترتا ہے یہ یرغمالی ہماری پیدائش کے دن سے شروع ہو جاتی ہے جب ہم اس دنیا کو اپنا دیدار کرواتے ہیں اگر بیٹا پیدا ہو تو پیدائش کی خوشیاں منائی جاتی ہیں اگر بیٹی پیدا ہو تو پھر شاید ہی کوئی حساس دل رکھنے والا خوشی منائے ورنہ ہماری سوسائٹی میں پہلے دن سے یہ طے ہو جاتا کہ بیٹی پرایا دھن ہوتی ہے تو ڈے فرسٹ سے ہمیں ایجوکیٹ کیا جاتا ہے ان فیملی اقدار کے بارے میں جہاں ہم پیدا ہوتے ہیں اپنی روایات ، ملک، مذہب، بلکہ ہمارا ملک، ذات اور مذہب تو پہلے سے چنا ہوتا ہے، ہمارا نام پسند کیا جاتا ہے اوراکثر نام کے ساتھ یہ بھی طے ہوجاتا ہے کہ ہمارا پیشہ کون سا ہو گا ذیادہ تر لاٹریاں ڈاکٹرز کے نام نکلتی ہیں اب ہم یہ بوجھ اپنے کندھوں پر لے کے پیدا ہوتے ہیں اس بو جھ میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہو تا چلا جاتا ہے ، جو ں جوں آپ بڑے ہو رہے ہیں آپ نے اپنی خاندانی عزت، ذات، برادری، ملک، سوسائٹی، رسم و راج سے لے کر اپنے نام اور مذہب تک ہر چیز کا پاس رکھنا ہے آپ کو ہر اس چیز کی کئیر کرنی ہے جو آپ نے چوز ہی نہیں کی، ہوش سنبھالنے سے لے کر مرنے تک ہم ہر اس چیز کو ڈینفڈ کرتے ہیں جو ہمارے لیے چنی گئی ہوتی ہیں لیکن ان سب میں سے سر فہرست ہوتی ہے نفرت،وہ نفرت جو آہستہ آہستہ ہماری رگوں میں سرایت کرتی رہتی ہے نا چاہتے ہوئے بھی کہ یہ انسانی جبلت ہے۔

(جاری ہے)

ہماری روایات، ہمارا ملک ،مذہب، ذات، حتی کہ ہم خود دوسروں سے برتر ہیں اور باقی سب قابل یا تو ہم سے کہیں نیچے ہیں یا پھر قابل نفرت، اس نفرت کا اظہار ہر پلیٹ فارم پر کیا جاتا ہے اور ایک majoirty اس نفرت کو ساتھ لیے قبر میں اتر جاتی ہے ایک انٹر نیشنل سروے کے مطابق ساوتھ ایسٹ ایشیا اور مڈل ایسٹ میں 96%لوگ پوری زندگی انہی خیالات اور عقیدوں کے ساتھ گزارتے ہیں جو ان لے لیے چنے یا انہیں پڑھائے جاتے ہیں سیلف لرننگ کا راستہ بہت کم لوگ پسند کرتے ہیں اور صرف 4% لوگ وہ ہیں جو اپنے خیالات کو وقت کے ساتھ ساتھ پرکھتے رہتے ہیں اور انہیں updateکرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم کامیابی کی مثالوں کے طور پر پیش کرتے ہیں اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کامیابی کے لیے ہم وہ سب چھوڑ دیں جو ہماری اساس ہے ہماری جڑیں ہیں ہمارا عقیدہ ہے؟ نہیں بالکل بھی نہیں، ہر چیز کو ساتھ لے کر چلیں اور لوگوں کے کندھوں پر سوار ہو کر تیراکی نہ کریں نہ یہ سوچیں کہ یہ کام نیچ ہے اگر میں نے یہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے۔

لوگوں کا کہنا تب تک معنی نہیں رکھتا جب تک آپ کی کامیابی کی کوشش اخلاق اور قانون کے دائرہ کار میں ہے اور اس کوشش کی شروعات تبھی ہو سکتی ہے جب ہم "میں، میری ذات، میری انا، میری برادری" جیسی self Deceptionسے باہر قدم رکھیں ، مفت مشورے بانٹنے والے دوستوں، رشتہ داروں اور گلی محلے کے خود ساختہ لگی بندھی زندگی گذارنے والے فلاسفروں سے دوری اختیار کریں ۔

یہ یاد رکھیں کہ ہماری سوسائٹی ہماری سمت کا تعین کرنے میں ایک Major Role اداکرتی ہے اگر آپ کبوتر بازوں کے ساتھ بیٹھے گے تو نہ چاہتے ہوئے بھی آپ کی بول چال، خیالات، اٹھنے بیٹھنے، سوچنے کا انداز ویسا ہوتا جائے گا اس کے برعکس اگر آپ کی بیٹھک مجاورں یا پیری فقیری کو ماننے والوں سے ہو گی تو ایک وقت وہ آئے گا جب لوگ آپکو بتانا شروع کر دیں گے کہ آپ درویشی کی طرف مائل ہو رہے ہیں ۔

آپ PHD سکالرز کے ساتھ یاری رکھیں گے تو آپ میں بھی PHDکر نے کی لگن پیدا ہوا جائے گی ۔ یہ ایک قدرتی چیز ہے اور بظاہر چھوٹی سمجھے جانے والی یہی چیز ہماری کامیابی یا ناکامی کا ایک بڑا حصہ ہوتی ہے self help Guruیا موٹی ویشنل سپیکرز آپ کو آئیڈیاز بانٹ سکتے ہیں یا اپنے جھوٹے سچے واقعات سنا سکتے ہیں لیکن ان کو آپ کے خیالات یا ذات سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا اور ہر آئیڈیا ہر ایک کے لیے ایک جیسا ورک نہیں کرتا ۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کو self helpبکس پڑھنی چاہیے تو آپ کیا کریں گے؟ سب سے پہلے آپ نے انٹر نیٹ پر کوئی اچھی بک تلاش کرنی ہے پھر بک شاپ پر جا کر اس کو پرچیز کر نا ہے یا Kindleپر ڈاون لوڈ کر کے پڑھیں گے یہ سارا پراسس آپ کو بتانے کے لیے کافی ہے آپ پہلے سے ہی موٹی ویٹیڈ ہیں اور زندگی اتنی مشکل بھی نہیں کہ اسے بکس ، لیکچروں، یا مشورے بانٹنے والوں کے تناظر میں دیکھا جائے ۔

اپنے ٹیلنٹ کو تلاش کرنے کے سفر پر پہلا قدم رکھیں اور اپنے آپ سے کہیں کہ اب میں اپنے آپ کو دھوکہ نہیں دوں گا، ذات، برادری، یاروں دوستوں کی تنقید ہر حال میں ہو گی اور میں اسے اگنور کروں گا، میں نے وہی کرنا ہے جو میرا خواب ہے ، یہ آپ کا اپنی منزل کی طرف پہلا قدم ہو گا اس کے بعد بہت سوچ سمجھ کر اپنی سمت کا تعین کریں اور اس سے ذیادہ محنت کریں جتنی اس کامیابی کے لیے درکار ہے ۔

اس سب کے بیچ مایوسی، Failure ، پریشانیاں ، مسلے مسائل آئیں گے اور ناکامی بھی ہو گی لیکن ہر ناکامی پہلی کامیابی کا سنگ میل ہو گا ۔پہلے لوگ آپ پر ہنسیں گے بعد میں آپ کا راستہ اپنائیں گے یا آپ سے حسد کریں گے اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ انہیں اپنے اوپر ہنسنے دیں گے یا اسی ہنسی کو کامیابی کے ساتھ واپس لوٹائیں گے۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Inferiority Complex And Road To Success - Last Qist Column By Ahmed Adeel, the column was published on 16 October 2020. Ahmed Adeel has written 65 columns on Urdu Point. Read all columns written by Ahmed Adeel on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.