9مہینے22دن بعد…!!

اتوار جولائی

Ashfaq Rehmani

اشفاق رحمانی

پھر چھ جولائی آئی، میڈیا صبح نو بجے اسلام آباد کی احتساب عدالت کے ”احاطہ“میں موجود تھا،ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ 6جولائی کو ”ہی“ سنایا جائے گا، یہ طے ہوگیا جب ملزمان کی طرف سے مبینہ ”فراڈ“ کیس کا فیصلہ سات دن موخر کرنے کی درخواست مسترد کی گئی،پھر اعلان ہوا فیصلہ دن ساڑھے بارہ بجے تک ”موخر“ کر دیا گیا”میڈیا نہ ادھر کا نہ ادھر “ دن بھی جمعہ کا، جمعہ المبارک21 شوال 1439ھ /6جولائی2018ء جبکہ پنجابیوں کا 22ہاڑ 2075ب ، ساڑھے بارہ بجے پھر فیصلہ ہوا ،ٹائم آگے ہوا، پھر وہ فیصلہ بھی موخر ہوا اور چار بجے فیصلہ سنانے کا اعلان خود معزز”جج“ کی طرف سے کیا گیا،لیکن پھر آدھا گھنٹہ اور ”مانگا“ گیا تاہم اللہ اللہ کرکے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر تین دن سے محفوظ فیصلہ سنانے ہوئے کہا”یہ عدالت ملزم نواز شریف ، شریک ملزم مریم نواز شریف اور شریک ملزمہ کے شوہر صفدر حسین کو قید با مشقت کی سزا سناتی ہے، اس طرح نواز شریف دس سال قید اور ا ارب 29کروڑ جرمانے کے ساتھ”مجرم“ بن گئے جبکہ بیٹی بھی سات سال کی سزا کے ساتھ”مجرم“ بن گئی اور لاہور کے حلقہ این اے 127 سے بھی آوٴٹ ہوگئی،نواز شریف کو سزا ”قدرت“ کی مار ہے، ایسا بھی کہنا ہے کچھ لوگوں کا ، لیکن راقم کا ماننا ہے کہ نواز شریف اللہ کا شکر ادا کریں اگر ان کی جان اتنے میں بھی ”چھوٹ“ جاتی ہے تو،ایون فیلڈ ریفرنس کیس پر ہونے والی سزا پر بات کرنے سے پہلے آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ” سینیٹ الیکشن کے نتائج نے پاکستان مسلم لیگ نواز شریف کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کر دیا تھا“ ویسے تو پنجاب کے بلدیاتی الیکشن کے نتائج کا بغور جائزہ لیں اور ن لیگ سے وابستہ کونسلرز کی لسٹ پر نظر ڈالیں تو 62فیصد کامیاب امیدوار یا تو ٹھیکیدار تھے یا کسی بڑے ٹھیکدار نے انتہائی قریبی اور ایم این اے کی ”اے ٹی ایم“ نکلے گی،تاہم پاکستان مسلم لیگ نواز شریف کے تا حیات قائد جو کہ صدر پارٹی بھی تھے ایک فیصلہ کی روشنی میں تا حیات نااہل کئے گئے یہ سیاسی ”مسئلہ“ نہیں تھا، بلکہ”ذاتی“ نوعیت کا کیس تھا جس میں ملزم پر الزام تھا کہ اس کہ وہ پاکستانی عوام کا ٹیکس کا پیسہ غیر قانونی طریقہ سے باہر لے کر گیا اور وہاں نہ صرف غیر قانونی کاروبار میں ملوث بلکہ مبینہ طور پر کئی ایک بڑی پراپرٹیز بھی خریدی۔

(جاری ہے)

اتنے بڑے ”فراڈ“ کا سکینڈل پاکستانی میڈیا کے بس میں نہیں تھا کہ اُسے ”نشر“ کرے تو ایک غیر ملکی ادارے نے نہ صرف پاکستانی سیاست دانوں، سرمایہ داروں اور بیورو کرپٹ سمیت ایک ہزار سے زائد افراد کے ذاتی ملکیتی زمینیں اور مال و دولت کی فہرست جاری کی جسے عام طور پر ”پانامہ“ کا نام دیا جاتا ہے۔پاکستان میں تین سو سے زائد ایسے افراد کے نام شامل تھے جو غیر قانونی طریقے سے پاکستانی عوام کا ٹیکس کا پیسہ پاکستان سے بار لے کر گئے نواز شریف پر بھی یہ الزام تھا تاہم پاکستان کے سب سے بڑے پارلیمانی ادارے اور پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعت کے سربراہ ہونے کے ناطے پاکستانی عوام سے ”حقائق“ چھپانے کی سزا کے طور پر آئین کے آرٹیکل62/63 کی روشنی میں تا حیات نا اہل قرار دیا گیا ، اسی کے ایک ریفرنس کا فیصلہ سنا کر عدالت نے نواز شریف کو دس سال قید مشقت کے ساتھ جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا جس کے بعد وہ ”مجرم پاکستان“ بن گئے ۔

سینٹ انتخابات میں اصل میں ہوا کیا، صرف قارئین کی یاد دہانی کیلئے عرض ہے کہ” الیکشن کمیشن کے سینٹ الیکشن 2018 کے نتائج آئے تو پارٹی پوزیشن واضح ہوئی،نئے جیتنے والوں میں اسحق ڈار، مشاہد حسین، مصدق ملک، آصف کرمانی، سعدیہ عباسی، صابرشاہ، اسد جونیجو، رضاربانی، مولا بخش چانڈیو، بیرسٹر فروغ نسیم، مظفر شاہ، فیصل جاوید، چوہدری سرور، اعظم سواتی شامل ہیں۔

مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں 12میں سے سینیٹ کی 11نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ پنجاب سے ٹیکنوکریٹ کی دو نشستوں پر سابق وزیر خزانہ اسحقٰ ڈار اور حافظ عبدالکریم کامیاب ہوئے۔ پنجاب میں خواتین کی دونوں نشستیں بھی مسلم لیگ (ن) کی حمایت یافتہ وزیراعظم کی ہمشیرہ سعدیہ عباسی اور نزہت صادق نے جیت لیں۔ یہ انکشاف ”بڑا ظالم“ تھا کہ سبھی جماعتوں بشمول ایم کیو ایم نے مالی مفادات کے عوض ٹکٹیں تقسیم کیں، اگر سینٹ اراکین کے انتخاب کا یہی طریقہ کار رہا تو تو اس ایوان سے کسی بھی حوالے سے خیر کی توقع نہیں کی جانی چاہیے۔

کیوں کہ میرے نزدیک سیاسی جماعتیں پارٹی کے بجائے پراپرٹی بن گئی ہیں، سینٹ میں لوگ پیسے کی بنیاد پر آئیں گے تو ملک کی بھلائی نہیں ہوگی،اچھا ،سینٹ الیکشن میں بڑا ظلم نہیں ہوا تھا سینئر سیاست دانوں کا سمجھ آگئی تھی کہ نواز شریف جس کیس میں پھنس گئے ہیں وہ نہ صرف نواز شریف، اس کے خاندان بلکہ پارٹی کو بھی ہلا کر رکھ دے گا لہذا ”سسٹم“ کو ڈی ریل ہونے سے بچانے کیلئے ضروری تھا کہ ن لیگ کو بطور پارٹی کو ئی اہم رول نہ دیا جائے اور یہی ہوا،اب پاکستان مسلم لیگ نواز شریف کو بطور پارٹی تبدیل کر کے کیا نام رکھا جاتا ہے اپنی جگہ اہم ہے تاہم نواز شریف کی ”ثابت شدہ“ کرپشن کی جو سزا پاکستان کو ملنی تھی اور جو ووٹرز کو کئی سال تک بھگتا پڑے گی، یہ سٹوری تو ابھی شروع ہوئی ہے، اللہ پاکستان کو محفوظ، عوام کو خوشحال رکھے۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column 9 Mahine 22 Din Baad Column By Ashfaq Rehmani, the column was published on 08 July 2018. Ashfaq Rehmani has written 199 columns on Urdu Point. Read all columns written by Ashfaq Rehmani on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.