گول گپے،سب کا بھلا سب کی خیر

جمعہ مئی

H.M Fayyaz

ایچ ایم فیاض

اپنے قارئین کے ساتھ ایک واقعہ شیئر کرتا چلوں یہ اس وقت کی بات ہے جب پاکستان کو بنے ابھی اٹھائیس سال ہوئے تھے سادہ لوگوں کا زمانہ تھا ایک دوسرے کے ساتھ بے لوث اور خلوص دل سے محبت کرنے کا دور تھا اہل محلہ ایک گھرانے کی مانند ہوا کرتا تھا دکھ سکھ سانجھے اور خوشیاں حقیقی ہوتی تھی مئی کا مہینہ اور گرمیوں کے خاص دن تھے دوپہر تین بجے کے قریب ایک شخص گول گپے کی ٹوکری سر پر اٹھائے گول گپے سب کا بھلا سب کی خیر کی صدائیں لگاتے ہوئے اچھا خاصہ چلا آ رہا تھا کہ چلتے چلتے اچانک زمین پر گر پڑتا ہے سر پر جو اس نے سامان اٹھایا ہوا تھا ایک دم سب کچھ نیچے گر جاتا ہے زمین پے گرے ہوئے اس کی حالت عجیب سی ہو جاتی ہے دیکھتے ہی دیکھتے عوام اکھٹی ہو جاتی ہے کوئی اس کے منہ میں پانی ڈال رہا ہے تو کوئی اس کے ہاتھ پاؤں کی مالش کر رہا ہے قریب کھڑے ایک بزرگ نے آواز دی اسے مرگی کا دورہ پڑا ہے اسے جوتا سونگھاو سارا سامان سب خراب ہو گیا اس کی مدد کی جائے۔

(جاری ہے)

۔ 
تھوڑی ہی دیر کے بعداس شخص کو جب ہوش آتا ہے اس پر سوالوں کے تیر چلنا شروع ہو جاتے ہیں کہاں سے آئے ہو؟ کیا ہوا؟ سب خیریت ہے؟وغیرہ وغیرہ وہ پریشان ہو کر سب کے چہروں کو تکتا رہا کچھ لمحے بعد ایک آواز آئی یار غریب آدمی ہے بچوں کی روزی کمانے نکلا تھا سب کچھ برباد ہو گیا اس کی مدد کی جائے کسی شخص نے آٹھ آنے دیئے کسی نے ایک روپیہ کسی نے کچھ کسی نے کچھ بہرحال اس شخص کے لیے تقریبا سو روپیہ یا سوا سو روپیہ اکٹھا ہو۔

۔
ا امداد کے پیسے اکٹھے ہوئے اور وہ پیسے لیکر اپنے گھر کی جانب واپس چل پڑا دل میں اس شخص کے لئے بہت ہمدردی کے خیالات آ رہے تھے کہ بیچارہ غریب مرض اور مجبوری کے عالم میں محنت مشقت کر رہا ہے کچھ دنوں کے بعد پھر اس شخص کو کسی اور محلے میں دیکھا تو بالکل اسی طرح اچانک گرتا ہے اور اس کا سامان بکھر کر ٹوٹ جاتا ہے اس کے گول گپے اور ٹوکری ٹوٹ جاتی ہے لوگ اس کی مدد کرتے پیسے اکٹھے ہونے کے بعد وہ پیسے لیکر گھر چلا جاتا ظاہر ہے اس کو کسی محنت مشقت کے بغیر اگر ہمدردی کے طور پر امداد مل جاتی ہے اسے محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

۔۔
 آج کے اس نفسا نفسی کے دور میں اس شخص سے زیادہ نوسر باز پیدا ہو چکے ہیں جن کے نزدیک جھوٹ اور فراڈ ایکٹینگ سے پیسہ کمانا ایک فن ہے لوگوں کے جذبات سے کھیلنا پتھر سے پتھر دل انسان سے بھی پیسہ نکلوانا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی اس وقت پوری دنیا مشکل ترین اور خطرناک صورتحال سے دو چار ہے بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک جو چاند اور مریخ پر جا کر دنیا بسانے کا دعوی کرتے تھے کرونا وائرس کے چنگل میں پھنس چکے ہیں ترقی پذیر ممالک میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے نام پر مکمل طور پر اس گول گپے بیچنے والے کا کردار نظر آ رہا ہے کرونا وائرس سے اب تک تینتالیس لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں پاکستان میں بھی یہ عذاب اپنے پنجے مضبوط کر چکا ہے عجیب قسم کا عذاب ہے جس کی وجہ سے دنیا مفلوج ہو کر رہ گئی ہے آسان لفظوں میں یہی کہہ سکتے ہیں سب کچھ منجمند ہو چکا ہے برآمدات،درآمدات ختم ہو چکی ہیں معاشی زوال کا وقت شروع ہو چکا ہے وہ جن کے ایک اشارے سے سونا چاندی، اور تیل کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ ہوتا تھا وہ ممالک بھی کرونا وائرس کے عذاب کا سامنا کر رہے ہیں۔

۔۔
 کرونا وائرس کی حقیقت کیا ہے اس عذاب کی صداقت کیا ہے کیا کرونا وائرس واقعی ہی انسانی جانوں کا دشمن ہے جس کسی میں بھی آ گیا اس کی جان لیے بغیر نہیں چھوڑتا کرونا وائرس کے بارے میں سوشل میڈیا پر عام ہونے والی خبر کہ تنزانیہ کے صدر نے بکری،موبائل آئل، پیپتا کے لیباٹری میں فرضی نام اور مختلف عمر کے نام سے کرونا وائرس کے لیے ٹیسٹ کرائے پوری دنیا میں تنزانیہ کے صدر کا مذاق بنایا گیا کہ کسی ملک کا صدر کیا ایسی حرکت کر سکتا ہے چونکہ گول گپے بیچنے والے ڈرامے باز کو بے نقاب کرنے کے لیے اس کی تحقیق کرنا اور حقیقت کی تہہ تک پہنچنا بہت ضروری ہوتا ہے تنزانیہ کے صدر کے نزدیک بھی سچ جھوٹ سے پردہ اٹھانا وقت کی ضرورت بن گیا تھا جب بکری،پیپتا،بھیڑ جن کو مختلف نام اور جنس بتا کر کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے تو ساری حقیقت کھل کر سامنے آ گئی کہ پوری دنیا میں اس وقت کیا ہو رہا۔

۔۔
 ایک مکمل سازش کے تحت عالمی برادری کو مکڑی کے جالے کی مانند جکڑ کر رکھ دیا گیا ہے پاکستان جو پہلے ہی عالمی برادری کے احکامات کے تابع ہے اس کو بھی چاہئے تھا کہ پہلے کرونا وائرس کی حقیقت کو سمجھتا پاکستان میں لاک ڈاون کی وجہ سے بھوک افلاس کے خطرات بڑھ چکے ہیں حکومت پاکستان بیرون ممالک سے امداد کی منتظر ہے حکومت پاکستان بیرون ممالک میں محنت مزدوری کی غرض سے جانے والے اوورسیز پاکستانیوں سے پندرہ ارب ڈالر امداد اکٹھی کرنے کا ہدف بنا چکی ہے جبکہ لاک ڈاون کی وجہ سے اوورسیز پاکستانیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

۔۔ ایک اندازے کے مطابق بیس ہزار سے زائد اوورسیز پاکستانی بیروز گار ہو چکے ہیں پچاس ہزار سے زائد ایسے پاکستانی جن کے ویزے کی معیاد ختم ہو چکی ہے ایسے میں اوورسیز پاکستانیوں سے کرونا ریلیف فنڈ میں توقعات لگا کر ہدف پورا کرنا کسی بھی لحاظ سے ٹھیک نہیں عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ہو سکتا ہے کہ کرونا وائرس کبھی ختم بھی نہ ہو تو کیا ہماری عوام بھوک افلاس سے مرنے کے لیے تیار ہو جائے پاکستان کی غریب عوام جس کے روزگار مکمل بند ہو چکے ہیں عوام بھیک مانگنے پر مجبور ہو چکی ہے ملک میں امن وامان کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ لڑائی جھگڑوں اور چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہو چکا ہے پاکستان کے سیکیورٹی ادارے لاک ڈاون پر عمل درآمد کرانے میں مصروف ہیں اور اسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چور ڈاکو بے لگام نظر آ رہے ہیں حکومت پاکستان کو بیرون ممالک سے امداد مل رہی ہے سوشل میڈیا یو ٹیوب کی جانب سے پاکستان کو پچاس لاکھ ڈالر امداد ملی کرونا ریلیف فنڈ میں مائیکرو فنانس بنک کی جانب سے دو ملین کی امداد وصول ہو چکی ہے مخیر حضرات اپنے طور پا پاکستانی عوام کی مدد کر رہے ہیں کرونا وائرس ختم نہیں ہو رہا امداد کا سلسلہ جاری ہے کوئی اس وائرس کی تحقیق نہیں کر رہا کہ اس کی حقیقت کیا ہے کیا یہ ایک اچھے رائٹر کا اسکرپٹ تو نہیں جس کی وجہ سے پوری دنیا کے اندر گول گپے بیچنے والے شخص کا ڈرامہ چل رہا ہے تھوڑے وقت کی ایکٹنگ ہے دل کے مریض،ٹائیفیڈ بخار میں مبتلا مریض کو کرونا وائرس کا مریض ثابت کرتے ہوئے اسکی زندگی کے سورج کو غروب کیا جا رہا ہے تاکہ کرونا وائرس کا خوف پھیلا کر تمام کاروبار،مارکیٹس بند کر دیئے جائیں جس سے ہر لحاظ سے امداد خود بخود مل جائے گی سب کا بھلا سب کی خیر جب تک ڈرامہ چلے چلاتے جاو ۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Gole Gapay, Sab Ka Bhala Sab Ki Kher Column By H.M Fayyaz, the column was published on 22 May 2020. H.M Fayyaz has written 1 columns on Urdu Point. Read all columns written by H.M Fayyaz on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.