وزیراعلیٰ سندھ کی لوڈشیڈنگ کے خلاف سب پارٹیو ںکواسلام آبادمیں وزیراعظم ہائوس کے سامنے دھرنادینے کی دعوت

وزیراعلی ہائوس کے سامنے دھرنادینے سے کیاہوگا۔دو تین اہم مسئلے ہیں جس میں بڑا مسئلہ طویل لوڈشیڈنگ کا ہے، سید مراد علی شاہ ٹیکس کم جمع کرنا وفاق کی نااہلی ہے، احتساب کی بات کرنے والے اپنے لوگوں کا احتساب کریں، بجلی کی وجہ سے سندھ کے عوام پریشان ہیں وفاقی حکومت کو کوئی پرواہ نہیں ہے، سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس

جمعرات اپریل 14:08

وزیراعلیٰ سندھ کی لوڈشیڈنگ کے خلاف سب پارٹیو ںکواسلام آبادمیں وزیراعظم ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے لوڈشیڈنگ کے خلاف سب پارٹیوں کو دعوت دیتے ہوئے کہاہے کہ چلواسلام آبادمیں وزیراعظم ہائوس کے سامنے دھرنادیتی ہیں،دھرنے میں آپ کے ساتھ ہوں،وزیراعلی ہائوس کے سامنے دھرنادینے سے کیاہوگا۔دو تین اہم مسئلے ہیں جس میں بڑا مسئلہ طویل لوڈشیڈنگ کا ہے، جس سے متعلق وزیراعظم پاکستان کو 2 خطوط لکھے اور 6 مرتبہ فون پر بات بھی کی، ٹیکس کم جمع کرنا وفاق کی نااہلی ہے، احتساب کی بات کرنے والے اپنے لوگوں کا احتساب کریں، بجلی کی وجہ سے سندھ کے عوام پریشان ہیں، لیکن وفاقی حکومت کو کوئی پرواہ نہیں،عدالت کا فیصلہ ہے سوئی سدرن کمپنی کے الیکٹرک کو گیس دے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو سندھ اسمبلی میں اپنے پرانے چیمبرمیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ہے، جب میں وزیر خزانہ تھا تب بھی لوڈشیڈنگ کی شکایتیں تھی ، سوئی سدرن گیس کمپنی اور کے الیکٹرک کا مسئلہ ہے، کے الیکٹرک کو 90 ایم ایم ایف سی گیس مل رہی ہے اور وفاقی حکومت سوئی سدرن گیس کمپنی کو 73 فیصد اون کرتی ہے جبکہ کے الیکٹرک میں ان کے 24 فیصد شیئرز ہیں، لیکن وفاقی حکومت کو کوئی پرواہ نہیں، سوئی سدرن گیس کمپنی کو 270 ایم جی ڈی ایف گیس کے الیکٹرک کو دینا ہے اور 110 ارب روپے نادہندہ بھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے دونوں اداروں کی مشترکہ اجلاس وزیراعلی ہائوس میں بلایا اورکوشش کی مسئلہ حل کیا جاسکے پتہ چلا کہ مسئلہ سوئی سدرن گیس کمپنی کا ہے،تحققات کرنے پر معلوم ہوا کہ13 ارب روپے پرنسپل امائونٹ ان پر بنتی ہے۔ انھوں نے کہ کہا کہ متعلقہ مسئلہ میں ایف آئی اے بھی ملوث ہے ، ایف آئی اے سے معلوم کیا تو انھوں نے بتایا کہ ان دونوں ((کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کمپنی)) کی ملی بھگت ہے، لیکن افسوس ہے کہ دونوں کی لڑائی میں سندھ کی عوام مشکلات سے دوچار ہے،،کراچی سے بدلہ لیاجارہاہے۔

انھوں نے کہا کہ مسئلہ کے الیکٹرک اور سوئی گیس کے درمیان ہے، اس وقت 90 ایم ایم سی ایف گیس مل رہی ہے، ہمیں کہاجاتاہے کہ ایل این جی لے لیں، کیوں لے لیں،،سندھ کے عوام کا پہلاحق گیس پر ہے اور عدالت کا فیصلہ ہے سوئی سدرن کے الیکٹرک کو گیس دیگا۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم سے بات ہوئی پتہ چلا کہ وزیراعظم نے فریقین کو طلب کیا ہے، وزیراعظم نے پھر معاملہ مفتاح اسماعیل کے حوالے کردیا میں نے مفتاح اسماعیل کو فون کیا تو پتہ چلا کہ وہ ملک سے باہر ہیں، بجلی معاملے پرآج بھی مفتاح اسماعیل سے بات کرنیکی کوشش کی،نہیں ہوسکی۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ کراچی اور پورے سندھ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو رہا ہے، سندھ کے شہروں میں اوسطا 15گھنٹے سے زائدکی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے جس میں حیدرآبادمیں 14،کوٹری میں 16، میرپورخاص،لاڑکانہ میں 16، سیہون اورشہیدبینظیرآبادمیں 18گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی کے صنعتکار پریشان ہیں، انڈسٹریز بند کرنے کی دھمکی دی ہے اورن لیگ سندھ دشمنی پر تلی ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے نوری آباد پاور پلانٹ لگایا جو فل کیپسٹی دے رہا ہے، جکیہ گنجائش 100 میگاواٹ ہے اور کے الیکٹرک کو فراہم کررہی ہے،،سندھ 900 میگاواٹ ونڈ سے بجلی پیدا کررہا ہے۔انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو94ارب روپے وفاق سے کم مل رہے ہیں،پیساکم ملے توکیا اپنے ملازمین کی تنخواہیں روک دیں انھوں نے کہ کہا کہ بجلی کے مسئلے کی وجہ سے پانی بھی کم مل رہاہے، سندھ حکومت کے ڈبلیو ایس بی کو 500 ملین روپے گرانٹ دیتی ہے، شہر میں پانی کیلیے دومنصوبوں پر کام چل رہاہے،،پانی کے دونوں منصوبے مکمل ہوجائیں توکراچی میں پانی کی فراہمی کا مسئلہ ختم ہوجائیگا۔

انھوں نے ارسا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ربیع کاسیزن ختم ہوگیا،ارسانے بتایاکہ فصل میں24فیصدکمی ہوگی،لیکن 36 فیصد کمی کا سامنا ہوا اسکے باوجود فصل بہتر ہوئی،،سندھ کے لوگوں کو چور کہنے والوں کو اللہ سزا دیگا۔ انھوں نے سب پارٹیوں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ چلواسلام آبادمیں دھرنادیتے ہیں،دھرنادیناہے تو وزیراعظم ہائوس کے سامنے دھرنادیں،دھرنے میں آپ کے ساتھ ہوں،وزیراعلی ہائوس کے سامنے دھرنادینے سے کیاہوگا،سارے معاملات سامنے رکھ دیے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ تمام ہتھکنڈے صوبائی خودمختاری ختم کرنے کی سازش ہے۔ بعد ازاں وزیراعلی سندھ نے سوالوں کے جواب میں نیب کی کاروائیوں پر سیخ پا ہوتے ہوئے کہا کہ نیب صحیح کارروائی نہیں کررہا، نیب کی کارروائیوں پر ابھی بھی اعتراض ہے،نیب کی گزشتہ روز کی کارروائی بھی ٹھیک نہیں، نیب سے ہمیشہ کہا ہے کہ ہم تعاون کیلیے تیار ہیں لیکن بدتمیزی برداشت نہیں کریں گے، انھوں نے کہا کہ کوئی کرپٹ ہوا اس کیخلاف ہم رکاوٹ نہیں، نیب نے سیکرٹری بلدیات کے دفتر میں بدتمیزی کی، نیب حکام نے سیکرٹری بلدیات کا موبائل اور ذاتی کاغذات اٹھائے امید ہے چیئرمین نیب نوٹس لیں گے کل کے واقعے پر ڈی جی نیب نے معافی مانگنے کا کہا ہے۔

ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گیس،، بجلی یا پانی کی قلت و فراہمی آئینی خلاف ورزی ہے اسکے متعلق ہم نے مشترکہ مفادات کونسل(سی سی آئی)کے اجلاس میں اٹھائے ہیں، وفاق نے 94 ارب روپے سندھ کو کم دیئے ہیں، ترقیاتی منصوبوں پر کم خرچ کرنا وفاق کی جانب سے 94 ارب روپے کم ملنا ہے ، محکمہ ایکسائز و سندھ ریونیو بورڈ کی کلیکشن اچھی ہے،حیسکو کو تمام بقایاجات ادا کردیے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ بجلی کی بحران سے پانی کا مسئلہ بھی بڑھ رہا ہے۔کے فور منصوبہ بن جائے گا تو پانی کی سپلائی صحیح ہوجائے گی۔ ایک دوسرے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم ییلو لائین مقررہ وقت پر مکمل کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ نیب نواز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے پروفاقی حکومت انکار کرتی ہے اورشرجیل میمن جوکہ ملک سے باہر تھا اسکا نام ای سی ایل میں ڈال دیتی ہے یہ دوہرا معیار نہیں تو کیا ہے۔