سابق وزیر اعظم نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دیا گیا توہم نے انہیں اپنا تاحیات قائدبنالیا، نواز شریف کا بیانیہ مقبول عام ہوا ہے،

مسلم لیگ (ن) کو اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ ملے گا، سندھ میں بھی حیرت انگیز رزلٹ دیں گے ،وفاق نے سندھ میں جو کام کرائے ہیں وہ پیپلز پارٹی کی سابق وفاقی حکومت نے نہیں کرائے، سندھ میں مسلم لیگ (ن) نے اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں، شہباز شریف نے کراچی کا دو مرتبہ دورہ کیا ہے، مئی کے شروع میں وہ حیدرآباد ، میر پور خاص، نوابشاہ ، سکھر اور لاڑکانہ کا دورہ کریں گے، جمہوری ، سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے ہر ادارے کو اپنی حدود میں کام کرنا ہو گا، 12مئی سانحہ کراچی پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں آیا پاکستان مسلم لیگ (ن) سندھ کے صدر سید شاہ محمد شاہ کا اے پی پی کو انٹرویو

بدھ اپریل 18:19

حیدرآباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) سندھ کے صدر سید شاہ محمد شاہ نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دیا گیا توہم نے انہیں اپنا تاحیات قائدبنالیا ہے، نواز شریف کا بیانیہ مقبول عام ہوا ہے، مسلم لیگ (ن) کو اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ ملے گا، سندھ میں بھی حیرت انگیز رزلٹ دیں گے ،وفاق نے سندھ میں جو کام کرائے ہیں وہ پیپلز پارٹی کی سابق وفاقی حکومت نے نہیں کرائے، سندھ میں مسلم لیگ (ن) نے اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں، شہباز شریف نے کراچی کا دو مرتبہ دورہ کیا ہے، مئی کے شروع میں وہ حیدرآباد ، میر پور خاص، نوابشاہ ، سکھر اور لاڑکانہ کا دورہ کریں گے، جمہوری ، سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے ہر ادارے کو اپنی حدود میں کام کرنا ہو گا، 12مئی سانحہ کراچی پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں آیا۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے پی پی کو دیئے گئے پینل انٹرویو میں کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ مسلم لیگ (ن) اقلیتی ونگ کے رہنما کھیئل داس کوہستانی اور خالد شیخ بھی موجود تھے۔ سید شاہ محمد شاہ نے کہاکہ سب کو نظر آرہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو توڑنے کی کوشش ہو رہی ہے، اس طرح کے ہتھکنڈوں سے نواز شریف کی مقبولیت کو ختم کیا جاسکتا ہے نہ انہیں عوام کے دلوں سے نکالا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دیا گیا توہم نے انہیں اپنا تاحیات قائدبنالیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں جمہوری ، سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا ہو گا، اس میں کوئی شک نہیں کہ آئین بلا دست ہے لیکن آئین بنانے والی پارلیمنٹ اس سے زیادہ محترم ہے، عدلیہ کو آئین کی تشریح کا اختیار ہے لیکن اسے مقننہ اور انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیئے۔

انہوں نے کہاکہ خواجہ سعد رفیق کے خلاف کیا کچھ ہو رہا ہے جبکہ وفاقی وزارتوں میں ریلوے کی کارکردگی سب سے اچھی ہے، گذشتہ حکومتوں میں ریلوے کے وزراء نے جو کچھ کیا تھا اس کی وجہ سے مال بردار گاڑیوں کی تعداد انتہائی محدود ہو گئی تھی، مسافروں ٹرینوں کے روٹ کم ہو گئے تھے، سہولیات کا فقدان تھا جبکہ وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق نے ڈوبتی ہو ئی ریلوے کو بچایا ہے، وہ اسے خسارے سے نکال کر منافع کی طرف لائے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مال بردار گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہو اہے، سڑکوں پر ٹرالر کم ہو رہے ہیں، ریلوے کے پرانے روٹس بھی بحال ہو رہے ہیں، مسافر خود اعتراف کررہے ہیں کہ سفر آسان ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں مقدمات کی بھر مار ہے، سائلین پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں پوچھتا ہوں کہ سانحہ 12مئی کے مقدمہ کا کیا بنا، جب سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کراچی آئے تھے اور دہشت گردوں نے انہیں نہیں آنے دیا تھا، اس سانحہ کے شہداء کا لہو کب رنگ لائے گا۔

انہوں نے کہاکہ میاں محمد نواز شریف عوام کے منتخب وزیر اعظم تھے، انہیںگھر بھیج دیا گیا لیکن عوام کے دلوں سے اسے نہیں نکالا جاسکتا، نواز شریف کا بیانیہ مقبول ِعام ہے، اس بیانیہ اور حکومتی کارکردگی کی بنیاد پر مسلم لیگ (ن) چاروں صوبوں میں آئندہ الیکشن میںکامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ اگرچہ ماضی میں سندھ میں مسلم لیگ (ن) کمزور رہی ہے لیکن بلدیاتی الیکشن کے نتائج میں وہ کراچی میں دوسری بڑی پارٹی بن کر ابھری اور اندرونِ سندھ بھی نمایاں کامیابی حاصل کی، مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت نے سندھ میں موٹر وے بنائی، کراچی تا حیدرآباد موٹر وے تیار ہو چکی ہے، ملتان سے سکھر اور سکھر سے حیدرآباد موٹر وے بنائی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف زرداری بھی سپرہائی وے کو موٹر وے بناسکتے تھے لیکن مرکز و صوبہ میں حکومتیں ہو نے کے باوجود انہوں نے سندھ کو کچھ نہیں دیا، موجودہ وفاقی حکومت نے ایم نائن کے علاوہ لیاری ایکسپریس وے کو مکمل کیا، کراچی میں گرین لائن منصوبہ ، کے فور واٹر سپلائی ،تھرکول اور دوسرے کام ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ملک کو دیوالیہ ہو نے سے بچایا ہے، امن و امان قائم ہو اہے، کراچی میں امن نواز شریف کے فیصلوں سے قائم ہوا ہے، پی پی کی دس سالہ حکومت نے کراچی کو صرف دس بسیں دیں۔

انہوں نے کہاکہ چارٹر آف ڈیموکریسی کی وجہ سے میاں نواز شریف نے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت میں مداخلت نہیں کی جبکہ پیپلز پارٹی تو پنجاب میں گورنر راج لگارہی تھی، 18ویں ترمیم کی وجہ سے صوبوں کے معاملات میں وفاق مداخلت بھی نہیں کررہا ہے لیکن کس طرح بلوچستان میں نواز لیگ کی حکومت ختم کرکے وہاں 524 ووٹ لینے والے کو وزیر اعلیٰ بنادیا گیا، سینیٹ کے انتخابات میں کس طرح بولیاں لگیں، سب کو پتہ ہے کے پی کے میں کیا ہوا۔

انہوں نے کہاکہ انتخابات نزدیک ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ یہ شفاف ، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ ہو ناچاہئیں ورنہ پھر ایسی تحریک اٹھے گی کہ لوگ سابقہ تحریکوں کو بھول جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ نگراں حکومت آئین کے مطابق بننی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں مسلم لیگ (ن) نے اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں، اگرچہ سندھ میں وڈیرہ شاہی ہے لیکن فیوڈل ازم کے مقابلہ میں ہم نے عام آدمی کو لاکھڑا کیا ہے، سندھ میں مسلم لیگ (ن) حیرت انگیز نتائج دے گی، پارٹی کے سربراہ میاں محمد شہباز شریف نے کراچی کا دو مرتبہ دورہ کیا ہے، مئی کے شروع میں وہ حیدرآباد ، میر پور خاص، نوابشاہ ، سکھر اور لاڑکانہ کا دورہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال کسی سیاسی جماعت سے اتحاد کی بات نہیں ہو ئی تاہم مفاہمت ہو سکتی ہے، میاں شہباز شریف نے کراچی میں اے این پی اور ایم کیو ایم بہادر آباد کی قیادت سے ملاقات کی ہے اور آئندہ بھی وہ مزید جماعتوں سے ملاقات کریں گے۔