بھارتی فوج نے پلوامہ میں مزید تین کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا

پیر اپریل 17:30

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں ضلع پلوامہ میں ایک لڑکے سمیت مزید تین کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج کی 55راشٹریہ رائفلز اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں نے ان نوجوانوں کو ضلع کے علاقے دربگام میں محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی اور احتجاجی مظاہرین پر فائرنگ کے دوران شہیدکیا۔

فوجیوں نے مظاہرین پر گولیاں ، پیلٹ اور آنسوگیس کابے دریغ استعمال کر کے 50سے زائد نوجوانوں کو زخمی بھی کردیا۔ قابض انتظامیہ نے آپریشن کے دوران ہیلی کاپٹر بھی استعمال کئے۔ شاہد اشرف ڈار نامی لڑکااحتجاجی مظاہرین پر فائرنگ سے جبکہ سمیر احمد اور عاقب مشتاق بھارتی فوجیوں کی طرف سے دربگام میں ایک مکان تباہ کئے جانے سے شہید ہوئے۔

(جاری ہے)

نوجوانوں کی شہادت پر ضلع میں ہڑتال کی گئی اور بھارتی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

قابض انتظامیہ نے نوجوانوں کی شہادت کے فوراً بعدجنوبی کشمیر میں انٹرنیٹ اور ٹرین سروسز معطل کردیں۔ اس سے پہلے ضلع پلوامہ کے اسی علاقے میں ایک حملے میں ایک میجر سمیت بھارتی فوج کے دو اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ سید علی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں تین نوجوانوں کے قتل اوردرجنوں کے زخمی ہونے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کل مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔

حریت رہنمائوں شبیر احمد ڈار ،مختار احمد وازہ ، ظفر اکبربٹ اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنے الگ الگ بیانات میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل پر زوردیا ہے ۔بار ایسوسی ایشن نے سرینگر کے علاقے خانیار میں بھارتی پولیس کی طرف سے جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک پر تشدد کی بھی مذمت کی ہے۔

ادھر سول سوسائٹی کے مختلف گروپوں،صحافیوںکی تنظیموں اور سماجی اداروں کے نمائندوںنے جموں میں ایک سیمینار میں منظور کی گئی قرارداد کے ذریعے کٹھوعہ کی ننھی بچی کی بے حرمتی اور قتل میںملوث عناصر کیخلاف مقدمے کی فوری سماعت پر زوردیا ہے ۔ سیمینار کا اہتمام جموںوکشمیر یونائیٹڈ پیس موومنٹ نے کیاتھا ۔ سیمینار سے محمد شریف سرتاج ، محمد راشدقریشی ، ایس نریندر سنگھ خالصہ، دپیکا سنگھ اور طالب حسین ایڈووکیٹ نے خطاب کیا۔

دریں اثناء بھارتی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کی غرض سے بھارتی فوج اور پیرا ملٹری فورسز کی مدد کیلئے نیشنل سکیورٹی گارڈ کے بلیک کیٹ کمانڈوز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی وزارت داخلہ کے ایک عہدے دار نے نئی دلی میں صحافیوں کو بتایا کہ بھارتی حکومت کشمیر میں این ایس جی کے کمانڈوز بلیک کیٹس تعینات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔