آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا بجٹ اجلاس، چودھری یاسین کی قیادت میں اپوزیشن کا شدید احتجاج، اراکین کی سیاہ پٹیاں باندھ کر شرکت

محمد نواز شریف کیخلاف بمبئی حملوں سے متعلق بیان پر پیش کی گئی تحریک التواء سپیکر نے مسترد کردیا اپوزیشن کی شدید نعرے بازی ، وزیر خزانہ کو بجٹ تقریر پڑھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا

پیر مئی 17:18

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے موقع پر اپوزیشن لیڈر چودھری محمدیٰسین کی قیادت میں زبردست احتجاج کیا، اپوزیشن اراکین نے سیاہ پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شرکت کی۔ اپوزیشن نے سابق وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف کے بمبئی حملوں کے متعلق حالیہ بیان پر تحریک التوا پیش کی، جس کو سپیکر نے مسترد کردیا، جس پر اپوزیشن نے اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر زبردست احتجاج کیا۔

ایوان میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ اپوزیشن کی شدید نعرے بازی کے باعث وزیرخزانہ کو بجٹ تقریر پڑھتے ہوئے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔۔اسمبلی میں اپوزیشن نے شدید نعرے بازی کی مودی کا جو یارہے غدارہے غدار ہے، انڈیا کاجو یار ہے غدار ہے غدار ہے، کے نعرے لگاتے رہے، اس موقع پر اپوزیشن لیڈر چودھری محمدیٰسین نے تحریک التوا پیش کی۔

(جاری ہے)

جس میں کہاگیا کہ ہم سابق نااہل وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف کے بمبئی حملوں سے متعلق بیان کی مذمت کرتے ہیں اور اس بیان کو مملکت خداداد پاکستان کے خلاف غداری کے مترادف سمجھتے ہیں۔ نوازشریف کا یہ بیان جہاں پاکستان اور افواج پاکستان کی دشمنی کے مترادف ہے وہاں اس سے تحریک آزادی کشمیر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، تحریک التوا میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف کا یہ بیان عالمی سازش کا حصہ ہے جو پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دے کر تنہا کرناچاہتے ہیں اور ان کے اس بیان سے بھارت نوازی بھی عیاں ہے اس سے بھارت کو کشمیریوں کی نسل کشی اور مسلمانوں کیخلاف پروپگنڈہ کرنے کا بھارت کو جواز مہیا ہوا ہے ،۔

میاں نوازشریف کا یہ بیان شہدائے کشمیر کے خون سے غداری ہے ، اور را کی پاکستان کے اندر دہشتگرد کارروائیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کوممبئی حملوں میں ملوث کر کے ہندوستان کے اکھنڈ بھارت نظریہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا حصہ سمجھتا ہے لہذا ایوان کی کارروائی روک کر اس پر بحث کی جائے ، اور تحریک آزادی کشمیر پر ایک مشترکہ موقف اختیار کرتے ہوئے اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی جائے۔

اپوزیشن رکن اسمبلی شازیہ اکبر نے بھی ایک قرارداد پیش کی ، جس میں کہا گیا کہ آزادجموںوکشمیر قانون سازاسمبلی کایہ اجلاس میاں محمدنوازشریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے، اور اس بیان کو پاکستان ، افواج پاکستان اور تحریک آزادی کشمیر سے غداری سمجھتا ہے، اور اس کو بھارت کیلئے مقبوضہ کشمیر کے اندر ظلم وستم بڑھانے کاجواز مہیا کرنا سمجھتا ہے، ایوان یہ سمجھتا ہے کہ اس ایجنڈے کی تکمیل سے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی سازش تھی ، مشترکہ اپوزیشن نے نوازشریف کے بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

بعد ازاں اپوزیشن لیڈر چودھری محمدیٰسین نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ سپیکر نے جانبداری کا مظاہرہ کیا ، ہماری تحریک التوا اور قرارداد کو مسترد کیا، میاں نوازشریف نے جو بیان دیاتھا وہ غداری کے زمرے میں آتا ہے اور مملکت پاکستان اور پاک افواج کے ساتھ ایک سازش تھی، انہوں نے کہا کہ ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، پاک فوج کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو مسترد کرتے ہیںِ۔

انہوں نے کہا کہ جون میں پیش ہونے والا بجٹ مئی میں پیش کیاجارہاہے، یہ بھی خلاف آئین ہے، اپوزیشن کے زبردست احتجاج نے حکومتی بنچوں کو سخت پریشان کئے رکھا، وزیر خزانہ اپنی بجٹ تقریر بار بار بھولتے رہے، اور اپوزیشن نے پوری بجٹ تقریر کے دوران ایک منٹ بھی خاموشی اختیار نہیں کی، سارا وقت میاں نوازشریف کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔