کراچی، عباسی شہید اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کوجدید ترین سہولیات سے آراستہ کر رہے ہیں، وسیم اختر

ایمرجنسی وارڈ کے 13 بیڈز پر مشتمل فیزI کا آج افتتاح ہوگیا ہے،یہ پہلا مرحلہ تھا اسپتال کی مکمل تزئین و آرائش کی جائے گی، کراچی کے عوام کی طرف سے ملک ریاض کا شکریہ ادا کرتا ہوں ،میئر کراچی

پیر جون 20:35

کراچی، عباسی شہید اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کوجدید ترین سہولیات سے آراستہ ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2018ء) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ عباسی شہید اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کوجدید ترین سہولیات سے آراستہ کر رہے ہیں، ایمرجنسی وارڈ کے 13 بیڈز پر مشتمل فیزI کا آج افتتاح ہوگیا ہے،یہ پہلا مرحلہ تھا اسپتال کی مکمل تزئین و آرائش کی جائے گی، کراچی کے عوام کی طرف سے ملک ریاض کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت بلدیاتی اختیارات کے حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان نے نوٹس لے لیا ہے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم ختم ہوچکی وہ ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں، ایم کیو ایم پاکستان زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی،کوشش ہوگی کہ متحد ہو کر الیکشن میں جائیں، یہ بات انہوں نے پیر کی صبح عباسی شہید اسپتال کے نو تزئین شدہ ایمرجنسی ٹراما سینٹر ، فیزI کے افتتاح کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر بحریہ ٹائون کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ملک عبدالحفیظ، وائس چیئرمین بلدیہ وسطی سید شاکر علی، چیئرپرسن معالجات کمیٹی ناہید فاطمہ، سینئر ڈائریکٹر میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز ڈاکٹر بیربل ، ایم ایس عباسی شہید اسپتال ڈاکٹر ندیم راجپوت اور دیگر افسران بھی موجود تھے، میئر کراچی نے کہا کہ ماضی میں بھی کسی حکومت کو احساس نہیں تھا کہ شہریوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے کوئی کام کرے ،ماضی میں ان اسپتالوں کی مینٹی نینس کے لئے کچھ نہیں کیا گیا، ایڈمنسٹریٹرز کو احساس ہی نہیں تھا کہ اسپتال کی ضروریات کے لئے ٹینڈر کیا جائے، یہ کاروبار نہیں یہاں مفت میں علاج ہوتا ہے ، ہمارے 6 ارب روپے حکومت رکھ لیتی ہے وہ ہمیں مل جائیں تو شہریوں کے لئے طبی سہولیات کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں،،کراچی کے عوام مشکل میں ہیں، اسپتال تباہ حال ہیں، عوام کو جو ملنا چاہئے وہ نہیں مل رہا، پیسہ نہیں ہوگا تو تنخواہیں کہاں سے دیں گے،یہ تمام ذمہ داریاں سندھ حکومت کی ہیں، سندھ حکومت نے ریونیو کے محکمے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں،انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پرائیویٹ سیکٹر ملک کی ترقی میں کردار ادا کرتا ہے، تین ماہ قبل عباسی شہید اسپتال کی صورتحال کے حوالے سے ملک ریاض سے بات ہوئی تھی،یہاں کا ایمر جنسی وارڈ بہت بری حالت میں تھا ، اب ہمیں اس وارڈ کی خاص طور پر دیکھ بھال رکھنی ہے تاکہ یہاں کئے جانے والے کام ضائع نہ ہوں، میں عباسی شہید اسپتال کی انتظامیہ سے بھی کہوں گا کہ یہ پہلا مرحلہ ہے اور ہمیں ابھی اسے مزید آگے لے کر چلنا ہے، بحریہ ٹائون کے چیئرمین ملک ریاض حسین نے اس موقع پر ٹیلیفون لائن پر اپنے خطاب میں میئر کراچی وسیم اختر کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے عوامی سہولیات کی فراہمی کے لئے پرائیویٹ سیکٹر کو آگے بڑھ کر کام کرنے کا موقع فراہم کیا ، انہوں نے کہا کہ عباسی شہید اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کو اسٹیٹ آف آرٹ بنایا ہے، اسپتال کی تزئین و آرائش ہمارے حوالے کی تو اور بھی بہتر اقدامات کریں گے،،بحریہ ٹائون کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ملک عبدالحفیظ نے کہا کہ کراچی کے تیسرے بڑے اسپتال عباسی شہید اسپتال کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے دو ماہ قبل اس کی بحالی کے کام کا آغاز ایمرجنسی وارڈ کے ایک حصہ سے کیا گیا جو 13 بستروں پر مشتمل ہے یہ کام دو ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کرکے ایمرجنسی وارڈ اسپتال انتظامیہ کے حوالے کردیا ہے ، اسپتال کو آکسیجن کی فراہمی کے اخراجات بھی برداشت کریں گے، انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی وارڈ کی تعمیراتی ساخت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے ایک حصے پر کام شروع کیا گیا اور باقی وارڈ کو معمول کے امور کے لئے کھلا رکھا گیا تاکہ اسپتال کا انتظام اور مریضوں کی آمدورفت متاثر ہوئے بغیر بحالی کا کام کیا جاسکے اور دو ماہ کی قلیل مدت میں مکمل ہونے والے ایمرجنسی وارڈ کے اس حصے کو مکمل پلاننگ کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچایا، عباسی شہید اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کی مکمل گنجائش 40 بیڈز ہے جبکہ یہ حصہ سینٹرلی ایئرکنڈیشنڈ ہے اور ایمرجنسی وارڈ کی ہر ضرورت سے لیس ہے، چھت سے لے کر فرش تک ہر کام میں کوالٹی کا خیال رکھا گیا ہے، انہوں نے بتایا کہ ایمرجنسی وارڈ میں لگائے گئے بیڈز مکمل طور پر بجلی سے کنٹرول ہوتے ہیں، پرائیویسی کا خاص خیال رکھتے ہوئے ہر بیڈ کے ساتھ پردے بھی لگائے گئے ہیں جبکہ ہر بیڈ کے ساتھ پینڈنٹ بھی لگائے ہیں جو مریض کے وائٹل سائنز کو مکمل مانیٹر کریں گے ، مریض کے سامان کی حفاظت کے لئے ہر بیڈ کے ساتھ لاکر کی سہولت بھی دی گئی ہے صفائی کو یقینی بنانے کے لئے ہر بیڈ کے ساتھ سینی ٹائزڈ گلوز کے ڈسپنسرز بھی موجود ہیں، وارڈ کے ساتھ چار واش روم بھی بنائے گئے ہیں جو ہر سہولت سے لیس ہیں، ان واش روم میں مریضوں کے لئے خاص طور پر گریب بارز بھی لگائے گئے ہیں جو عام طور پر پاکستان میں موجود اسپتالوں میں دستیاب نہیں ہوتے، اس موقع پر میئر کراچی نے ایمرجنسی وارڈ میں موجود مریضوں اور ان کے تیمارداروں سے ملاقات کی اور ٹراما سینٹر کے احاطے میں پودا بھی لگایا۔

#