آل پاکستان مسلم لیگ اس بار الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کرے گی ،پرویز مشرف 25 جولائی سے پہلے کسی بھی وقت پاکستان آ سکتے ہیں، سپریم کورٹ کا پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کا حکم نامہ واضح نہیں تھا ، عدالت نے ہماری استدعا پر فیصلے کی وضاحت کی نہ ہمیں مہلت دی، پرویز مشرف کے سپاہی پورے پاکستان میں مل کر مقابلہ کریں گے

آل پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر امجد کی این اے 52 اور 53 سے کاغذات منظوری کے بعد میڈیا سے گفتگو

منگل جون 23:40

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) آل پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد امجد نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا سید پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کا حکم نامہ واضح نہیں تھا ، عدالت نے ہماری استدعا پر فیصلے کی وضاحت کی نہ ہمیں مہلت دی۔ ہم جنرل پرویز مشرف کے سپاہی پورے پاکستان میں مل کر مقابلہ کریں گے۔ آل پاکستان مسلم لیگ اس بار الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کرے گی۔

پرویز مشرف 25 جولائی سے پہلے کسی بھی وقت پاکستان آ سکتے ہیں۔ وہ منگل کویہاں این اے 52 اور 53 سے کاغذات منظوری کے بعد میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے ۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر محمد امجد کے حلقہ این اے 1 چترال ، این اے 98 بھکر ، این اے 112 ٹوبہ ٹیک سنگھ اور این اے 148 ساہیوال سے بھی کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے ہیں۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر محمد امجد نے کہا کہ این اے 52 اور 53 سے کاغذات منظور ہو گئے ہیں۔

ہمارے مقابلے میں بڑے بڑے جن آ رہے ہیں۔ پہلے تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کو اس حلقے میں امیدوار نہیں مل رہے تھے۔ جب ہم نے اعلان کیا تو ان جماعتوں کے سربراہان آ گئے۔ ہم دونوں کا مقابلہ کریں گے۔ ہم اس حلقے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہاں خصوصاً دیہی علاقوں میں گلیاں ،نالیاں پکی کرانے اور سکولوں کی تعمیر سمیت بہت سے کام کرائے ہیں۔ 2006ئ میں اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز سے 8.2 ارب روپے فنڈ منظور کرایا تھا جس میں سے 4 ارب سی ڈی اے اور 4.2 ارب روپے رورل ایریا میں خرچ کئے جس سے ساری ترقی ہوئی۔

لوگ ہمیں ان کاموں کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ماضی میں بہارہ کہو سے چار لوگ سینیٹر اور رکن قومی اسمبلی بنے لیکن کسی نے یہاں گیس نہیں دی۔ میں نے وزیر اعظم کے ترقیاتی فنڈ سے سملی ڈیم سے 95 کروڑ روپے سے بہارہ کہو میں گیس پائپ لائن بچھوائی جس کا افتتاح وزیر اعظم نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے دونوں حلقوں میں پرویز مشرف کے کاغذات جمع نہیں کروائے تھے ، ان کا نااہلی کا پرانا کیس چل رہا تھا جس پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ، سپریم کورٹ نے مشروط طور پر کاغذات جمع کرانے کا حکم دیا اور کہا کہ پرویز مشرف آ جائیں اس کے بعد دیکھیں گے۔

یہ حکم نامہ مشکوک تھا۔ بعد میں سپریم کورٹ نے اس حکم نامے کی وضاحت کرنے یا ایک ہفتے کی مہلت دینے کی ہماری استدعا بھی مسترد کر دی اور پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی واپس لینے کا حکم جاری کر دیا۔ جب اعلیٰ عدلیہ نے ہی کاغذات نامزدگی کی منظوری کا حکم نہیں دیا تو جنرل پرویز مشرف الیکشن میں کیسے حصہ لیتے۔ ہم جنرل پرویز مشرف کے سپاہی ہیں اور پورے پاکستان میں سب مل کر مقابلہ کریں گے۔

آل پاکستان مسلم لیگ اس بار الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کرے گی۔ ڈاکٹر امجد کا کہنا تھا کہ سید پرویز مشرف نے الیکشن میں حصہ لینے کے لئے فوری طور پر آنا تھا ، اب معمول کے مطابق عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنے کے لئے کسی بھی وقت پاکستان آ سکتے ہیں۔ سیاسی نظام میں تبدیلی ، قوم اور پارٹی قیادت کے لئے وہ ضرور واپس آئیں گے۔ وکلائ کا پینل تشکیل دیدیا ہے ، ثابت کریں گے کہ سید پرویز مشرف کے خلاف تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے واپس نہ آنا ہوتا تو سپریم کورٹ میں واپسی کے لئے کبھی درخواست نہ دیتے۔ نگران حکومت اور سیاسی عوامی ان چیزوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں اور مجبور کیا جا رہا ہے پرویز مشرف واپس نہ آئیں۔ جس روز سپریم کورٹ نے 13 جون کو عدالت طلب کیا اسی شام نگران حکومت نے ان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کر دیا۔ 15 جون کو بھی حکومت نے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بحال نہیں کئے حالانکہ پرویز مشرف نے واپس آنے کے انتظامات کر لئے تھے۔

ڈاکٹر امجد نے کہا کہ اب پرویز مشرف بیرون ملک سے الیکشن میں پارٹی کو سپروائز کریں گے لیکن 25 جولائی سے پہلے کسی وقت بھی آ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پرویز مشرف نہیں آتے تو باتیں کی جاتی ہیں اور جب آنا چاہتے ہیں تو رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے خواجہ آصف اور شیخ رشید کی نااہلیت کو بھی ختم کیا ، سید پرویز مشرف کا کیا قصور تھا کہ انہیں اجازت نہیں ملی۔

2013ئ میں پرویز مشرف کے خلاف تین مقدمات تھے ، میں نے خود ان کی سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کی اور وہ 17 مرتبہ مختلف عدالتوں میں پیش ہوئے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان پر دہشت گردی کی دفعات لگا کر ضمانت منسوخ کی اور انہیں جیل میں ڈال دیا۔ پرویز مشرف ملک کے صدر ، آرمی چیف رہا ہو ، ملک کو ترقی دی ہو ، پورے دور میں 60 روپے کا ڈالر رہا ، قرضے کم کئے ، جو ملک کو تباہ کر رہے ہیں انہیں پروٹوکول دیا جا رہا ہے ، جس نے کوئی جرم نہیں کیا اسے روکا جا رہا ہے۔

ہر آرمی چیف اور صدر کے دور میں کوئی نہ کوئی آپریشن ہوا ہے ، اگر پکڑنا ہے تو سب کو پکڑیں۔ جنرل کیانی ، جنرل راحیل کے ادوار میں بھی آپریشن ہوئے اور آج کل بھی ہو رہا ہے۔ نواز شریف نے دشمنی کی بنائ پر سید پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کیا۔ کیا ملک توڑنا ، اسے لوٹنا ، قرضوں کے بوجھ تلے دبانا ، مہنگائی سے عوام کو بے حال کرنا اور بھارت کو حملے کی دعوت دینا غداری نہیں ہے۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین کے بچوں کی قومیت غیر ملکی ہے ، سب کے بچے باہر رہتے ہیں۔ یہ کیسا انصاف ہے۔