اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کو آزاد کشمیرکے دورے کی اجازت دینے کا پاکستان کا فیصلہ جرات مندانہ ہے‘ سید علی گیلانی

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سربراہ کو بھارتی ہٹ دھرمی اور انکارکانوٹس لیتے ہوئے تحقیقاتی کمیشن کو دورے کی اجازت دینے کے حوالے سے اس پر دبائو بڑھانا چاہیے ‘بیان

ہفتہ جون 16:52

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چییرمین سید علی گیلانی نے اقوامِ متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کو آزاد کشمیر کے دورے کی اجازت دینے کے پاکستان کے فیصلے کو دور رس نتائج کا حامل ایک جر?ت مندانہ قدم قرار دیا ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ اگر بھارت انسانی حقوق کے حوالے سے اپنی پاکدامنی کے دعوے میں سچا ہے تووہ بھی عالمی ادارے کے تحقیقاتی کمیشن کومقبوضہ جموں وکشمیر کے دورے کی اجازت دے۔

انہوںنے کہا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سربراہ کو بھارتی ہٹ دھرمی اور انکارکانوٹس لیتے ہوئے تحقیقاتی کمیشن کو دورے کی اجازت دینے کے حوالے سے اس پر دبائو بڑھانا چاہیے۔

(جاری ہے)

سید علی گیلانی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ گزشتہ70 برس سے حل طلب تنازع کشمیر کے تصفیے کے لیے اپنے آئینی اختیارات اور اخلاقی ذمہ داریوں کو نبھائیں۔

دریں اثنا سید علی گیلانی نے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں اسلام آباد کے علاقے سری گفوارہ میں شہید ہونے والے کشمیریوں کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو وحشیانہ کارروائیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان غلام احمد گلزار نے ایک بیان میں سید علی گیلانی کی گھر میں مسلسل نظر بندی اور انہیں جمعہ کی نماز پڑھنے سے روکنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حریت چیئرمین گزشتہ آٹھ برس سے گھر میں نظر بند ہیں اور انہیں جمعہ کی نماز کی ادائیگی کیلئے مسجد جانے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔

ترجمان نے کہا کہ قابض انتظامیہ نے سرینگر کے علاقے حیدر پورہ میں واقع سید علی گیلانی کی رہائش گاہ کو جیل خانے میں تبدیل کر دیا ہے۔ ادھر حریت رہنمائوں اور کارکنوں بشیر احمد قریشی،،، سید محمد شفیع، امتیاز احمد شاہ، محمد یوسف نقاش، محمد یٰسین عطائی، عمران احمد، آغا سید محمد یعصوف ، پرویز احمد بٹ اور دیگر نے بھارتی فورسز کی طرف سے نہتے کشمیریوں کے قتل اور جبر واستبداد کی دیگر کارروائیوں کے خلاف حیدر پورہ چوک سرینگر میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے لگائے۔ بشیر احمد قریشی نے مظاہرین سے اپنے خطاب میں بھارتی چیرہ دستیوںکی شدید مذمت کرتے ہوئے انسانی حقوق کی پامالیاں فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔یاد رہے کہ بھارتی فوجیوں نے ضلع اسلام آباد کے علاقے سری گفوارہ میں جمعہ کے روز محاصرے او ر تلاشی کی کارروائی کے دوران دائود احمدصوفی، ماجد منظور ڈار، محمد اشرف ایتو اور عادل حسین میرکو شہید جبکہ ایک رہائشی مکان کو تباہ کر دیا تھا۔ فوجیوں کی فائرنگ سے تباہ شدہ مکان کا مالک محمد یوسف راتھر بھی شہیدجبکہ انکی اہلیہ حفیظہ بیگم زخمی ہو گئی تھی۔