الیکشن کمیشن نے قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے

عمران خان کے دو حلقوں سمیت27 امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفکیشن روک دیے گئے چیئرمین پی ٹی آئی کے تین حلقوں کا مشروط نوٹیفکیشن جاری ، پرویز خٹک کی کامیابی کانوٹیفکیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیس کے فیصلے سے مشروط این اے 53 سے عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر اور 131 میں سعد رفیق کی جانب سے دوبارہ گنتی کی درخواست کا فیصلہ آنے تک روکا گیا ہے،ترجمان الیکشن کمیشن عابد شیر علی کی دوبارہ ووٹوں کی گنتی کی درخواست دائر مسترد ہو گئی ، پی ٹی آئی کے امیدوار فرخ حبیب کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جلد جاری کیا جائے گا قومی اسمبلی کے 272 حلقوں میں سے دو حلقوں میں انتخابات ملتوی ہوئے تھے

منگل 7 اگست 2018 21:39

الیکشن کمیشن نے قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 07 اگست2018ء) الیکشن کمیشن نے قومی اور صوبائی اسمبلی میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ،عمران خان کے دو حلقوں سمیت27 امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفکیشن روک دیے گئے ، چیئرمین پی ٹی آئی کے تین حلقوں کا مشروط نوٹیفکیشن جاری جبکہ پرویز خٹک کی کامیابی کانوٹیفکیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیس کے فیصلے سے مشروط کردیا ،عابد شیر علی کی دوبارہ ووٹوں کی گنتی کی درخواست دائر مسترد ہو گئی ، پی ٹی آئی کے امیدوار فرخ حبیب کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جلد جاری کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر قومی اسمبلی کے 6 حلقوں کے نوٹیفکیشن روکے ہیں جبکہ سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر قومی اسمبلی کے ایک حلقے کا نوٹیفکیشن روکا گیا ہے۔

(جاری ہے)

انتخابی اخراجات کی تفصیلات نہ دینے پر قومی اسمبلی کے ایک حلقے کا نوٹیفکیشن روکا گیا جبکہ قومی اسمبلی کے 272 حلقوں میں سے دو حلقوں میں انتخابات ملتوی ہوئے تھے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق این اے 25 نوشہرہ سے پرویز خٹک کی کامیابی کا مشروط نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے کیوں کہ ان کے خلاف الیکشن کمیشن میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا کیس ہے۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ این اے 108 فیصل آباد سے تحریک انصاف کے امیدوار فرخ حبیب کی کامیابی کا نوٹیفکیشن ہائیکورٹ کے حکم پر روکا گیا تھاکیونکہ مسلم لیگ ن کے رہنما عابد شیر علی نے لاہور ہائیکورٹ میں دوبارہ ووٹوں کی گنتی کی درخواست دائر کر رکھی تھی جسے مسترد کردیا گیا ہے اور پی ٹی آئی کے امیدوار فرخ حبیب کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جلد جاری کیا جائے گا ۔

الیکشن کمیشن کے مطابق این اے 129 سے ایاز صادق کی کامیابی کا مشروط نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے اور ان کے خلاف بھی الیکشن کمیشن میں ضابطہ اخلاق کی خلاف وزری کا کیس زیر سماعت ہے۔الیکشن کمیشن حکام کے مطابق عام انتخابات میں کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر جاری کر دیئے گئے ہیں اور جن حلقوں میں عدالت کی جانب سے حکم امتناع ہے ان حلقوں کے نتائج روک دیئے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن حکام کا مزید کہنا تھاکہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے دو حلقوں سے کامیابی کے نوٹیفیکیشن بھی رو ک دیا گیا ہے جبکہ دیگر تین حلقو ں کو مشروط قرار دے دیا گیا ہے ۔عمران خان کے پانچ حلقوں میں این ای35، این ای53 ،این اے 243 ،این اے 95اوراین ای131شامل ہیں ۔ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ این اے 53 سے عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر روکا گیا ۔

این اے 131 میں مسلم لیگ (ن)کے سعد رفیق کی جانب سے دوبارہ گنتی کی درخواست کا فیصلہ آنے تک روکا گیا ہے۔ عمران خان کی تین حلقوں سے کامیابی کے مشروط نوٹیفکیشن جاری کر دیئے گئے ہیں۔ عدالتی فیصلوں کے باعث جن حلقوں میں دیگر امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفکیشن روکے گئے ان میں این اے 23، این اے 90 ، این اے 91 ، این اے 106، این اے 108، این اے 112، این اے 140،این اے 215،این اے 230،این اے 239 بھی شامل ہیں۔

ان حلقوں میں خواجہ آصف اور رانا ثنا اللہ کی کامیابی کے نوٹیفکیشن بھی شامل ہیں۔الیکشن کمیشن حکام کے مطابق این اے 112 ٹوبہ ٹیک سنگھ اور این اے 140 قصور سے کامیاب امیدوار کا نوٹیفکیشن لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر روکا گیا ہے جب کہ این اے 215 سانگھڑ سے کامیاب امیدوار کا نوٹیفکیشن سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر روکا گیا۔الیکشن کمیشن کے مطابق این اے 271 کیچ سے زبیدہ جلال کی کامیابی کانوٹیفکیشن بھی الیکشن اخراجات کے گوشوارے جمع نہ کرانے کے باعث روکا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے بلوچستان اسمبلی کے تین حلقوں سے امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روک لیا ہے۔حلقہ پی بی 26، پی بی 36 اور 41 سے امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکا گیا ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے پی بی 26 سے احمد علی اور پی بی 36 سے نعمت اللہ زہری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکا گیا ہے۔صوبائی الیکشن کمیشن کے مطابق حلقہ پی بی 41 سے زاہد علی کی کامیابی کا نوٹی فیکیشن روکا گیا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے پی بی 26 اور پی بی 41 سے امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق میر نعمت اللہ کی کامیابی کا نوٹی فیکیشن الیکشن اخراجات کے گوشوارے جمع نہ کرانے پر روکا گیا جب کہ احمد علی کی شہریت سے متعلق معاملہ وزارت داخلہ کے پاس ہے۔بلوچستان اسمبلی کے ایک حلقہ پی بی 35 پر الیکشن ملتوی کر دیے گئے تھے۔

الیکشن کمیشن نے سندھ کی 123 نشستوں پر کامیاب امیدواروں کے نوٹفکیشن جاری کر دیے ہیں جب کہ 6 نشستوں پر معاملات عدالت میں ہونے کی وجہ سے نوٹفکیشن روک لیے ہیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق پی ایس 29، 36، 48، 54، 73، 82 اور87 کے نتائج روکے گئے ہیں۔پی ایس 87 ملیر پر امیدوار کے انتقال کے باعث الیکشن روک دیا گیا تھا جب کہ باقی حلقوں پر کامیابی کے نوٹیفکیشن عدالت کے حکم پر روکے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کے نومنتخب 290 اراکین کی کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے۔الیکشن کمشنر پنجاب ظفر اقبال کے مطابق پنجاب اسمبلی کی 297 جنرل نشستوں میں سے 295 پر انتخابات ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ پی پی 103 فیصل آباد اور پی پی 89 میانوالی کے امیدوار وفات پا گئے تھے۔صوبائی الیکشن کمشنر کے مطابق پنجاب اسمبلی کے 4 حلقوں پر کامیابی کے نوٹیفکیشن عدالتی حکم سے روکے گئے جب کہ حلقہ پی پی 296 راجن پور کے کامیاب امیدوار جیت کر وفات پا گئے تھے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق خیبر پختون خوا اسمبلی کے 6 امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکا گیا ہے۔خیبر پختونخوا میں 91 امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفیکشن جاری ہوا جب کہ 2حلقوں پر انتخابات منسوخ ہوئے۔ای سی پی کے مطابق پی کے 4 سوات سے پی ٹی آئی کے عزیزاللہ کی کامیابی کا نوٹیفیکشن روکا گیا۔عزیز اللہ کی کامیابی کا نوٹفیکشن دوبارہ گنتی کے باعث روکا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پی کے 23 شانگلہ سے شوکت یوسفزئی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن بھی روکا گیا ہے۔شوکت یوسفزئی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن حلقے میں خواتین ووٹرز کی کم شرح پر روکا گیا۔پی کے 38 ایبٹ آباد پر پی ٹی آئی کے حاجی قلندر خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن بھی روک دیا گیا، حاجی قلندر خان کیخلاف مخالف امیدوار نے ہائی کورٹ سے حکم امتناعی لیا ہے۔

پی کے 61 نوشہرہ اور پی کے 64 نوشہرہ سے پرویز خٹک کی کامیابی کے نوٹیفیکشن بھی روکے گئے ہیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق پرویز خٹک کی کامیابی کے نوٹیفکیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر روکے گئے ہیں۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق 4 اگست تک انتخابی اخراجات کی تفصیلات موصول ہونے کے بعد امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری کیے گئے۔

کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن کے بعد آزاد امیدواروں کو 3 دن کے اندر کسی بھی سیاسی جماعت کا حصہ بننا ہوگا۔8 اگست کو سیاسی جماعتوں کی ترجیحی فہرستوں کے مطابق خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔شیڈول کے مطابق 9 اگست تک قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے تمام کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری کردیئے جائیں گے۔بعدازاں صدر پاکستان قومی اور چاروں صوبوں کے گورنر صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس طلب کریں گے۔پہلے اجلاس میں منتخب اراکین خود حلف اٹھانیکے علاوہ اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور قائدِ ایوان کا چنا ئوبھی کریں گے۔