وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کا منی لانڈرنگ کی عفریت سے نجات کیلئے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور ، پاکستان اور برطانیہ کے درمیان اچھے تعلقات ہیں ، انسداد منی لانڈرنگ قوانین کی مضبوطی سے دونوں دوست ممالک مستفید ہوں گے، پاکستان اور بھارت کشمیر پر تین جنگیں کر چکے ہیں تاہم کوئی حل نہیں نکلااس لئے جنگ حل نہیں ہے،حکومت مختلف اقتصادی شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، وزیراعظم آفس میں سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے علیحدہ یونٹ بنایا گیا ہے، حکومت کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری آ رہی ہے

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کاویسٹ منسٹر پیلس میں برطانوی ممبران پارلیمنٹ سے ملاقات میں اظہار خیالات

جمعہ دسمبر 00:30

لندن ۔ 6 دسمبر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 دسمبر2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے منی لانڈرنگ کی عفریت سے نجات کیلئے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان اچھے تعلقات ہیں اور انسداد منی لانڈرنگ قوانین کی مضبوطی سے دونوں دوست ممالک مستفید ہوں گے، پاکستان اور بھارت کشمیر پر تین جنگیں کر چکے ہیں تاہم کوئی حل نہیں نکلا اس لئے جنگ حل نہیں ہے،حکومت مختلف اقتصادی شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، وزیراعظم آفس میں سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے علیحدہ یونٹ بنایا گیا ہے، حکومت کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری آ رہی ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ویسٹ منسٹر پیلس میں برطانوی ممبران پارلیمنٹ سے ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے برطانوی پارلیمنٹیرینز کو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات اور وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں معیشت کے استحکام، قانون کی حکمرانی اور گڈ گورننس کے فروغ، عوام سے تعلق رکھنے والی پالیسیوں بالخصوص غریب عوام کو غربت سے نکالنے کیلئے اقدامات کے حوالہ سے آگاہ کیا۔

انہوں نے پاکستان اور امریکہ کے ساتھ ساتھ ہمسایوں بشمول چین، بھارت، افغانستان، ایران اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر بھی روشنی ڈالی۔ وزیر اطلاعات نے برطانوی ممبران پارلیمنٹ سے استدعا کی کہ وہ اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کی مضبوطی کیلئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ پاکستان سے عوام کے پیسہ سے منی لانڈرنگ کے ذریعے برطانیہ میں سرمایہ کاری نہ ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ 26 ممالک میں سے پاکستان، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات کا حصہ بہت زیادہ ہے اسی لئے برطانیہ میں اینٹی منی لانڈرنگ قوانین مضبوط ہونے سے دونوں ملکوں کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں بھی اینٹی منی لانڈرنگ قوانین لا رہے ہیں۔ قومی معیشت کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کی نمایاں معاشی پالیسیوں کی وجہ سے اس میں بہتری آ رہی ہے، برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، حکومت خسارے اور مالیاتی توازن برقرار رکھنے کیلئے درآمدات میں کمی چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ایکسپورٹ کے شعبہ میں مراعات دے رہی ہے تاکہ ملک کی معاشی خوشحالی کیلئے برآمدات میں اضافہ ہو۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ حکومت مختلف اقتصادی شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، وزیراعظم آفس میں سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے علیحدہ یونٹ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری آ رہی ہے، پنجاب میں گیس کے ٹیرف کو دیگر صوبوں کے برابر لانے سے 200 ٹیکسٹائل یونٹس نے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی طرف سے ترسیلات زر 20 ارب ڈالر تھیں جبکہ حکومت انہیں 35 ارب ڈالر تک لے جانا چاہتی ہے، اس مقصد کے حصول کیلئے حکومت نے ہنڈی اور حوالہ کے ذریعے منی ٹرانسفر کی روک تھام کیلئے کریک ڈائون کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بینکوں اور دیگر قانونی ذرائع سے اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے پیسے بھجوانے کی حوصلہ افزائی چاہتے ہیں تاکہ اس سے ملک کو فائدہ حاصل ہو سکے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیرکا پرامن حل چاہتا ہے، وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آتے ہی تمام تنازعات کے پرامن حل کیلئے بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کی تاہم پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی پیشکش کو بھارت کی جانب سے ہمیشہ کی طرح مسترد کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت، آرمی اور ملک کے عوام وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں اٹھائے گئے تزویراتی اقدامات کی مدد کیلئے ایک پیج پر ہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ تحریک انصاف کا حکومت میں آنا متوسط طبقہ کا سٹیٹس کو اور کرپٹ نظام کے خلاف انقلاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نمایاں تبدیلیاں لائی ہے اور طاقتور افراد اور تحریک لبیک پاکستان جیسی تنظیموں کو قانون کے کٹہرے میں لائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار طاقتور کلاس قانون کے دبائو کو محسوس کر رہی ہے، پاکستان کے سول اور فوجی اداروں کے درمیان قریبی سمجھ بوجھ کی وجہ سے 70 سال پرانا نمونہ تبدیل ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرتارپور راہداری کھولنے کا اقدام ایک تاریخی کام ہے، انہوں نے کہا کہ کشمیری بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے، یہ کوئی علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ یہ انسانی معاملہ ہے۔ امریکہ کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ وہ ایک سپر پاور ہے اور ہم اس کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں، وزیراعظم عمران خان نے افغانستان میں امن و استحکام لانے کیلئے ہر ممکن کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے، جب سے نئی حکومت اقتدار میں آئی ہے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری آ رہی ہے، امریکی صدر ٹرمپ کے وزیراعظم عمران خان کو خط اور افغانستان کے بارے میں امریکی خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کی وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات تعلقات میں بہتری کی گواہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین۔پاکستان اقتصادی راہداری پاکستان کیلئے انتہائی اہم ارضیاتی اقتصادی منصوبہ ہے، سی پیک سے یورپی یونین سمیت دیگر ممالک بھی اقتصادی مواقع سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب سے عمران خان نے اقتدار سنبھالا ہے سعودی عرب اور چین کے ساتھ ہمارے تعلقات نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی ترجیح غربت سے عوام کو نکالنا ہے اور ہماری پالیسیاں غربت کے خاتمہ کیلئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مثبت اقدامات کے ساتھ آگے بڑھا ہے، یہ پاکستان ہی ہے جس نے بھارتی سکھ یاتریوں کیلئے کرتارپور راہداری کھولی ہے اور پاکستان بھارتی سرحد کے ساتھ ہندو یاتریوں کیلئے اپنے مذہبی مقامات کی زیارت کیلئے مزید راہداریاں کھولنا چاہتا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے پاس تین آپشن ہیں یا تو دونوں ممالک جنگ کریں، جارحیت سے دفاع یا مل بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا پرامن حل نکالیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کشمیر پر تین جنگیں کر چکے ہیں تاہم کوئی حل نہیں نکلا اس لئے جنگ حل نہیں ہے، کشمیر کے تنازعہ کا بہترین حل مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اس کا پرامن حل تلاش کرنا ہے، یہ اب بھارت پر ہے کہ وہ کونسا آپشن چاہتا ہے کہ اس مسئلہ کو حل کرے۔ انہوں نے کہا کہ امن اقدامات کے طور پر پاکستان بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کیلئے میلوں آگے چلا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دوہری شہریت کے حامل افراد کو ملک میں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تاہم پی ٹی آئی کی حکومت پاکستانی تارکین وطن بشمول برطانوی پاکستانیوں کے مسائل کے حل میں گہری دلچسپی رکھتی ہے، یہ تحریک انصاف کی ہی حکومت ہے جس نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں تعیناتیوں کیلئے صرف میرٹ معیار ہے۔

انہوں نے برطانوی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں معیشت کے مختلف شعبوں میں بالخصوص چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ لارڈ قربان حسین سمیت برطانوی پارلیمنٹیرینز نے ملک کی ترقی کیلئے تحریک انصاف کی حکومت کی پالیسیوں کو سراہا۔ انہوں نے سکھ یاتریوں کیلئے پاکستان کی جانب سے کرتارپور راہداری کھولے جانے کے اقدام کو بھی سراہا۔ انہوں نے تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے آبی ذخائر کی تعمیر اور ملک کو پانی کے بحران سے نکالنے کیلئے حکومتی فیصلوں کو سراہا۔