بھارت کا ترک صدر کے پاکستانی پارلیمنٹ میں خطاب پر رد عمل

ہم ترک قیادت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہندوستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے اور حقائق کو سمجھے۔ بھارتی وزارت خارجہ

Kamran Haider Ashar کامران حیدر اشعر ہفتہ فروری 10:10

بھارت کا ترک صدر کے پاکستانی پارلیمنٹ میں خطاب پر رد عمل
نئی دلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 فروری 2020ء) بھارت کا ترک صدر کے پاکستانی پارلیمنٹ میں خطاب پر رد عمل۔ ترک قیادت سے ہندوستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے اور حقائق کو سمجھے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ نے ترک صدر کے پاکستانی پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے پر رد عمل دیتے ہوئے ترک قیادت کو بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے سے باز رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارت خارجہ نے ترک قیادت کو خبردار کیا ہے کہ وہ بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے۔ بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ترکی ان سنگین خطرات کو سمجھے جو دہشتگردی کی صورت میں پاکستان سے بھارت اور خطے کو لاحق ہیں۔

(جاری ہے)

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی وزارت خارجہ نے ترک صدر رجب طیب کی جانب سے جموں و کشمیر کے مسئلے پر حوالوں سے متعلق اور پاکستان اور ترکی کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے سے متعلق میڈیا کے سوالات کے جوابات دیے ہیں، ان کا کہنا ہے بھارت ترک صدر کے جموں و کشمیر سے متعلقہ تمام حوالوں کو مسترد کرتا ہے، کشمیر بھارت کا ذاتی مسئلہ ہے اور اٹوٹ انگ ہے۔

واضح رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان کے دورہ پاکستان کے اختتام پر جمعہ کو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ تعلقات میں باہمی فائدہ مند شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا اور ان کو وسعت دی جائے گی۔ دونوں ممالک کے لازوال تعلقات کا تحفظ کیا جائے گا۔ اعلامیہ میں ایک دوسرے کی مدد اور حمایت کے جذبے کی بھی یاد دہانی کی گئی ہے۔

دونوں ممالک کے مشترکہ اعلامیے میں پاک ترک اعلی سطحی سٹریٹجک تعاون کونسل کے میکنزم پر زور دیا گیا اور دہشتگردی کے خلاف لڑائی کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کو کسی مذہب، قومیت اور تہذیب سے نہیں جوڑا جا سکتا، دونوں ممالک نے دہشتگردی اور نسل پرستانہ حملوں پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔ دونوں ممالک نے یہ واضح کیا کہ 5 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے یکطرفہ اقدامات سے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی صورت حال مزید خراب ہو گی اور علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہو گا اس لیے ضروری ہے کہ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے صورت حال کو حل کیا جائے۔

اعلامیے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل مربوط مذاکراتی عمل اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قرار دادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اسی کے ساتھ کشمیر ایشو پر پاکستان نے ترکی کے اصولی مؤقف اور اس کی ثالثی کی پیشکش کی گہری تعریف بھی کی۔ علاوہ ازیں ترک صدر نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران بھارت پر واضح کر دیا کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور ترکی کا مؤقف ایک ہے، جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی دو ٹوک جواب دیا تھا۔

ترک صدر نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ میں ترکی نے بھرپور مؤقف اپنایا، بھارت کے یکطرفہ اقدام سے کشمیری بھائیوں کی تکالیف میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ مسئلہ کشمیر کا حل جبری پالیسیوں سے نہیں بلکہ انصاف سے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی حیثیت ہمارے لیے وہی ہے جو ترک عوام کے لیے چنا قلعے کی تھی۔

ترک صدر نے کہا کہ کشمیر ہمارے لیے وہی ہے جو پاکستان کے لیے ہے، مسئلہ کشمیر کا حل انصاف ہے۔ طیب اردوان نے پارلیمنٹ سے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں مزید کہا کہ ٹرمپ کی طرف سے صدی کے منصوبے سے تباہی کا منصوبہ پیش کرنے کی سب سے زیادہ مخالفت ہم نے کی۔ فلسطین، قبرص، کشمیر اور دیگر مسائل حل طلب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کا منصوبہ امن کا منصوبہ نہیں، ہم 40 لاکھ شامیوں کی میزبانی کر رہے ہیں اور 40 ملین ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کر رہے ہیں۔ لیبیا سے لے کر یمن تک ترکی کا اولین مقصد خون اور آنسو کا سدباب کرنا ہے۔