چینی بحران پر کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ،شفاف تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیشن قائم کیا جائے‘ (ن) لیگ کا مطالبہ

عمران خان ،عثمان بزدار مقدس گائے بنے ہوئے ہیں یہی رپورٹ مستقبل میں نیب کیسز کی بنیاد بنے گی ،رپورٹ نظر کے دھوکے کے سوا کچھ نہیں، عظمیٰ بخاری، ملک محمد احمد خان، رانا مشہود ، اور دیگر کی پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹائون میں پریس کانفرنس

جمعہ مئی 14:31

چینی بحران پر کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ،شفاف تحقیقات کیلئے ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 مئی2020ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) نے چینی بحران پر کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کر دیا،(ن) لیگ نے رپورٹ پر عدالت جانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان اور عثمان بزدار مقدس گائے بنے ہوئے ہیں یہی رپورٹ مستقبل میں نیب کیسز کی بنیاد بنے گی،حکومتی رپورٹ نظر کے دھوکے کے سوا کچھ نہیں، رپورٹ میں کیوں نہیں تعین کیا گیا کہ پنجاب میں چینی پر سبسڈی کیوں دی گئی ،ایکسپورٹ کے فیصلے سے چینی کی قیمت بڑھی اور عوام کی جیبوں پر اربوں روپے کا ڈاکہ ڈالا گیا ،کیاچینی ایکسپورٹ کی اجازت دینے والا بر ی الذمہ ہے، کیا وزیراعظم کو شوگر کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہونا چاہیے تھا ،عبد رزاق دائود، خسرو بختیار و دیگر کو کچھ نہیں کہا گیا، اصل معاملہ چینی کی قلت پیدا کرنے والوں کو بے نقاب کرنا تھا، دیکھنا چاہیے تھا ای سی سی کے فیصلوں میں کون کون شامل تھا، شریف خاندان کی شوگر ملز نے ایک کلو چینی بھی برآمد نہیں کی۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک محمد احمد خان، رانا مشہود ، عظمیٰ بخاری اور دیگر نے پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹائون میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ ملک محمد احمد خان نے کہا کہ خسرو بختیار نے جلد بازی میں چینی ایکسپورٹ کی اجازت دی، آپ نے 1.1 ملین ٹن چینی ایکسپورٹ کی، قلت تو پیدا ہونی تھی، جب عثمان بزدار کی ذمہ داری پوچھی گئی تو مراد علی شاہ پر سوال اٹھائے گئے، وزیراعظم نے چینی کی مصنوعی قلت، قیمتوں کا کوئی نوٹس نہیں لیا، صوبوں سے اجازت لیے بغیر چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی، ملک میں چینی کی مصنوعی قلت صاف نظر آ رہی تھی ، نیب کابینہ کی ذمہ داری کو کیوں نہیں دیکھ سکتا، وزیراعظم کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا کہا ہی نہیں گیا، چینی برآمد کی اجازت دے کر قلت پیدا کرنیوالے سے کوئی نہیں پوچھے گا چینی کی قلت 2018 میں پیدا ہوئی، 2015 سے تحقیقات سکینڈل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے،کیا وزیراعظم مشترکہ ذمہ داری کے اصول سے آگاہ نہیں رپورٹ میں وزیراعظم، وزیراعلی پنجاب سے متعلق کوئی بات نہیں۔

انہوں نے کہاکہ عبد الرزاق دائود اور خسرو بختیار کا اپنا اسٹیک ہے، بیوروکریسی نے انہیںبتایا بھی کہ اگر ایکسپورٹ ہوتی ہے تو قلت پیدا ہوگی،کچھ لوگوں کو نوازنے کے لیے مصنوعی قلت پیدا کی گئی،حکومت نے کسی ذمیہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ انہوںنے کہا کہ ای سی سی کے فیصلوں میں کن لوگوں نے رائے دی تھی کہ ایکسپورٹ کی اجازت نہیں دینی چاہیے،یہ کیسا اصول ہے کہ جس نے ایکسپورٹ کی اجازت دی اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں،جس نے یہ فیصلہ کیا اس پر تمام زمہ داری عائد ہوتی ہے،فی کلو20 سے 25 روپے فائدہ اٹھایا گیا ۔

پنجاب کے سرکاری افسران نے پنجاب حکومت کو بتایا بھی سبسڈی خالصتاً وفاقی معاملہ ہے مگر ان کی کسی نے نہ سنی۔ انہوںنے کہا کہ کمیشن وزیر اعظم کی ذمہ داری سے متعلق خاموش ہے،وزیراعظم اور وزیراعلی مقدس گائے ہیں ،ان کے فیصلوں کی وجہ سے چینی کی قلت پیدا ہو تو کوئی نہیں پوچھے گا،شریف فیملی کی کسی ملز نے چینی ایکسپورٹ کی اور نہ ہی سبسڈی لی،مسلم لیگ ن کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کرتی ہے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ نیا پاکستان اور تحریک انصاف کا یہ معیار ہے کہ جو چینی ایکسپورٹ کا فیصلہ کرے اس کا کوئی قصور نہیں،جس جس شخص سے عمران کا کام پورا ہوگیا ہے ان سے چھٹکارے کے لیے یہ رپورٹ تیار کی گئی،خسرو بختیار کو بھی پیغام دیا گیا ہے کہ جنوبی پنجاب کے صوبے کی بات نہیں کرنی،چوہدری برادران سے بھی ان کے تعلقات ٹھیک نہیں،سبسڈی جو نہیں بنتی وہ عمران نے زبانی احکامات دے کر دی ،سبسڈی دینا کیا اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں۔

ا نہوںنے کہاکہ کمیشن کی رپورٹ کہتی ہے کہ وہ رزاق دائود ،اسد عمر اور وزیراعلی پنجاب کے جوابات سے مطمئن نہیں،یہ تمام کے تمام مستقبل کے نیب کیسسز ہیں،اگر آپ کو تھوڑی سے بھی شرم ہوتی تو کمیشن کی رپورٹ کے بعد استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔ا نہوںنے کہا کہ ملک میں چینی کی قلت جان بوجھ کر پیدا کی گئی،(ن) لیگ کے دور حکومت میں چینی 55 روپے فی کلو سے زائد فروخت نہیں ہوئی،صادق اور امین کی حکومت میں چینی کی قیمت 55 روپے سے بڑھ کر 85 روپے تک گئی،اس رپورٹ کے آنے کے بعد عمران خاں بچ نہیں سکتے،چینی کے معاملے پر سٹہ بھی کھیلا گیا،ایک سٹے باز ہمیشہ سٹے باز ہی رہتا ہے۔

رانا مشہود نے کہا کہ یہ اٹھائی گیروں کا ٹولہ ہے جو پاکستان کو لوٹنے آئے ہیں،ان ڈکیتوں کا راستہ روکنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے اپنے دور حکومت میں چینی کی قیمت نہیں بڑھنے دی ،فوڈ سکیورٹی کی وزارت کا نوٹ موجود ہے کہ ایکسپورٹ کی اجازت نہ دی جائے لیکن اس کے باوجود اپنے لوگوں کو نوازنے کے لیے اجازت دی گئی۔ انہوں نے کہاکہ عامر کیانی کا کیس ختم نہیں ہوا کہ ایک اور کیس آگیا ہے،بھارت سے ادویات غیر قانونی طور پر پاکستان لائی گئیں،مودی کا دوست نواز شریف نہیں آپ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پانامہ میں نواز شریف کا نام نہیں تھا لیکن اس کے باوجود بھی طلب کیا گیا،کیا عمران خاں کو کمیشن میں پیش نہیں ہونا چاہیے تھا،عمران خان استعفیٰ دو اورکمیشن کے سامنے پیش ہو،عمران خان کو نواز شریف کے فارمولے کے تحت کمیشن میں پیش ہونا چاہیے۔ا نہوںنے کہا کہ ہم واجد ضیا ء کے اس کمیشن کو مسترد کرتے ہیں،کمیشن نے عمران کو بچانے کے لیے کام کیا۔