ْمودی سرکار ہٹلر، نیتن یاہو اور گوبلز کے فلسفے اور نقش قدم پر چل رہی ہے ،سردار مسعود خان

طاقت کا بے جا استعمال کر کے اس نے جموں وکشمیر کے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے،پورے کشمیر کو قید زنداں میں تبدیل کر کے رکھ دیا گیا ہے، نوجوان اُٹھیں ،جدید ذرائع ابلاغ ،سوشل میڈیا کا استعمال کر کے ہندوستانی مظالم کو پوری دنیا میں آشکار کریں،صدر آزاد جموں وکشمیر

منگل اکتوبر 16:34

ْمودی سرکار ہٹلر، نیتن یاہو اور گوبلز کے فلسفے اور نقش قدم پر چل رہی ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 اکتوبر2020ء) صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مودی سرکار ہٹلر، نیتن یاہو اور گوبلز کے فلسفے اور نقش قدم پر چل رہی ہے اور طاقت کا بے جا استعمال کرتے ہوئے اُس نے جموں وکشمیر کے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ پورا کشمیر ہندوستانی افواج کے محاصرے کی لپیٹ میں ہے اور پورے کشمیر کو ایک قید زنداں میں تبدیل کر کے رکھ دیا گیا ہے۔

نوجوان اُٹھیں اور جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ہندوستانی مظالم کو پوری دنیا میں آشکار کریں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح 1947سے قبل یہاں برطانوی سامراج کے دور میں لوگوں کو سزا دینے کے لئے کالا پانی بھیجا جاتا تھا آج مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے تیرہ ہزار نوجوانوں کو اغواء کر کے انہیں بدنام زمانہ ہندوستانی جیلوں میں مقید کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آزادجموں وکشمیر سٹیٹ اسمبلی کے عہدیداران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس اجلاس سے سٹیٹ اسمبلی کے چیئرمین عمران خان، جنرل سیکرٹری شفیق احمد کیانی، اسمبلی کے سپیکر سہراب رازق ، اسمبلی کے قائد ایوان عمران علی چوہدری، اسمبلی کے قائد حزب اختلاف ذیشان دانش اور اسمبلی کے ترجمان عبدالعزیز اعوان ، عشاء اعجاز، سعود اعجاز، عدنان بیضاداور زوہیہ چوہدری نے بھی خطاب کیا۔

مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ ہم گلگت بلتستان کے لوگوں کو اُن کے حقوق دینے کے حق میں ہیں اور آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے لوگ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں وہ دین، ثقافت اور معاشرتی رشتوں میں ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ جغرافیائی طور پر شونٹر اور استور کا زمینی راستہ کھلنے کے بعد یہ لوگ مزید ایک دوسرے کے قریب آجائیں گے۔

صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بحیثیت چانسلر انہوں نے آزادکشمیر کی سرکاری جامعات میں گلگت بلتستان کے طلبا و طالبات کے لئے مختص نشستوں میں دوگنا اضافہ کیا ہے۔صدر نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ حکومت پاکستان گلگت بلتستان کے سلسلے میں ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گی جس سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچے اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے موقف کی نفی ہو اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو زک پہنچے۔

صدر نے کہا کہ آزادکشمیر کی سیاسی جماعتیں، حریت کانفرنس GBکے سلسلے میں یکساں موقف ہے جبکہ گلگت بلتستان کی جماعتوں کا ایک دوسرا موقف ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے تمام سٹیک ہولڈر باہمی مشاورت کو مزید مستحکم اور مضبوط بنائیں تاکہ ایک متفقہ حل نکالا جا سکے۔ صدر آزادکشمیر نے ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان اور بلوچستان کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا، گوادر پورٹ بننے کے بعد اور گزشتہ چند برسوں میں حکومت پاکستان نے بلوچستان کی ترقی کے حوالے سے جو اقدامات اٹھائے ہیں اُس سے بلوچستان میں خوشحالی آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ بیرونی طاقتیں بلوچستان میں دہشت گردی اور انتہاء پسندی اور علیحدگی پسندی کو ہوا دے رہی تھیں لیکن اُن کے ناپاک عزائم خاک میں مل چکے ہیں۔ اسی طرح ان شاء اللہ گلگت بلتستان میں بھی لوگوں کو جائز حقوق ملیں گے اور وہاں بھی تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہو گا۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیر پر پاکستان اور آزادکشمیر کی تمام جماعتیں متحد و متفق ہیں اور وہ کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہیں۔

صدر نے کہا کہ حالیہ چند ہی مہینوں میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے قائدین نے مظفرآباد کا دورہ کیا جس میں وزیر اعظم پاکستان، مسلم لیگ (ن) کے سربراہ شہباز شریف اور اُن کے دیگر مرکزی قائدین، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ، جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق، پیپلز پارٹی کی قیادت نے بھی کشمیر کاز کے حوالے سے آزادکشمیر کی قیادت اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

صدر مسعود خان نے مزید کہا کہ پانچ اگست 2019کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں صرف لاک ڈائون نہیں بلکہ کشمیر کا محاصرہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بیس لاکھ کے قریب غیر ریاستی باشندوں کو مقبوضہ کشمیر میں لاکر آباد کیا جا چکا ہے اور انہیں سٹیٹ سبجیکٹ اور ڈومیسائل جاری کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سولہ لاکھ سابقہ ہندوستانی فوجی، اُن کے سینیٹری ورکر اور 1947ء کے ہندو مہاجرین شامل ہیں اور اسی طریقے سے 1.4لاکھ سول سرونٹ اور طلبا و طالبات بھی شامل ہیں۔

صدر نے کہا کہ ہندوستان نے 31اکتوبر 2019کو مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کو تقسیم کرتے ہوئے دو یونین ٹریٹریز میں تبدیل کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ لداخ اور جموں وکشمیر کو براہ راست دہلی سرکار کنٹرول کرے گی اسی طرح یکم نومبر 2019کو ہندوستان نے ایسے نقشہ جات جاری کیے جس کے تحت انہوں نے پورے آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی ہندوستان کا حصہ ظاہر کیا ، اوران نقشوں کو انہوں نے گوگل اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو ارسال کیا۔

انہوںنے کہا کہ یہ ہندوستانی اقدامات نہ صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ انسانی حقوق کے جنیوا کنونشن کی بھی صریحاً خلاف ورزی ہے جس پر بین الاقوامی برادری کو نوٹس لینا چاہیے اور ہندوستان پر دبائو ڈالنا چاہیے کہ وہ ان تمام اُٹھائے گئے اقدامات کو واپس لے۔ صدر نے ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو جس میں جنسی تشدد، ریپ، جبراً گمشدگیاں، نوجوانوں اور بچوں کا اغواء شامل ہے انہیں دنیا کے سامنے اٹھائیں۔

صدر نے کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطا ف وانی اور اُن کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا کہ وہ ہر سال جنیوا میں جا کر مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کے مسئلے کو انتہائی جاندار اور موثر طریقے سے اُٹھاتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ KIIRاور KLCاور ایوان صدر آزادکشمیر کے ساتھ رابطے میں رہیں اور مختلف Statisticalڈیٹا لے کر کشمیر کاز کے لئے کام کریں۔

تقریب کے آغاز میں ایک متفقہ قرار داد بھی منظور کی گئی جس میں مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی قبضے کی مذمت ، کشمیریوں کو حق خودارادیت دئیے جانے ، کشمیر میں ایک سال سے جاری ہندوستانی محاصرے کو ختم کرنے ، وہاں انسانی حقوق کی بحالی، حریت رہنمائوں اور تیرہ ہزار نوجوان بچوں کی رہائی اور گلگت بلتستان کا آئینی تشخص تبدیل کیے بغیر وہاں کے لوگوں کو سیاسی اور دیگر تمام حقوق دئیے جانے پر زور دیا گیا۔ تقریب کے آخر میں سٹیٹ اسمبلی کے عہدیداران کو اُن کی بہترین کارکردگی پر شیلڈز تقسیم کی گئیں۔