بھارتی حکمرانوں کی ہماری سرزمین پر آکر جنگ لڑنے کی دھمکی ہمارے کان ،آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہونی چاہیے ، سردار مسعود خان

یہ دھمکیاں عام آدمی نہیں بھارتی وزیر اعظم، وزیر دفاع اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر دے رہا ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے،وقت آگیا ہم ہوشیار ،بیدار ہوں ،دشمن کے عزائم کو بھانپ کر آنیوالے خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے تیاری کریں،صدر آزاد کشمیر کا جمعیت اہلحدیث کے زیر اہتمام کشمیر کانفرنس سے خطاب

ہفتہ اکتوبر 15:44

بھارتی حکمرانوں کی ہماری سرزمین پر آکر جنگ لڑنے کی دھمکی ہمارے کان ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 31 اکتوبر2020ء) صدر آزاد جمو ں کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارتی حکمرانوں نے پاکستان اور آزادکشمیر کی سرزمین پر آکر جنگ لڑنے کی جو تازہ دھمکی دی ہے وہ ہمارے کان اور آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہونی چاہیے کیونکہ یہ دھمکیاں کوئی عام آدمی نہیں بلکہ بھارت کا وزیر اعظم، وزیر دفاع اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر دے رہا ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

لاہور میں مرکزی جمعیت اہلحدیث کے زیر اہتمام کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت دنیا بھر سے اسلحہ اور جنگی سازوسامان حاصل کر رہا ہے اور اُس کے سارے اسلحے کا رُخ پاکستان کی طرف ہے اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ ہم ہوشیار اور بیدار ہوں اور دشمن کے عزائم کو بھانپ کر آنے والے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیاری کریں۔

(جاری ہے)

کشمیر کانفرنس سے مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر پروفیسر ساجد میر، علامہ ابتسام الہی ظہیر، علامہ متعصم الہی ظہیر، سید عتیق الرحمان شاہ، جمعیت اہلحدیث آزادکشمیر کے سیکرٹری جنرل دانیال شہاب مدنی اور حافظ بابر فاروق رحیمی نے بھی خطاب کیا۔ صدر آزادکشمیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ بین الاقوامی نظام غیر موثر ہو چکا ہے کیونکہ وہ کمزوروں کے بجائے طاقتور کا ساتھ دے رہا ہے ۔

اس وقت دنیا کے بڑے طاقتور ممالک مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر یا تو خاموش ہیں یا بھارت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ ہمیں ان حالات میں خود بھی جاگنا ہو گا اور پوری امت مسلمہ کو بھی جگانا ہو گا۔ دشمن ایک طرف تو اپنی فوجی طاقت سے ہمیں کچلنا چاہتا ہے اور دوسری جانب ہماری صفوں میں دراڑیں ڈال کر ہماری طاقت کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹی چھوٹی کانفرنسیں اور ہلکے پھلکے بیانات دینے سے کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ ہمیں عوامی تحریک کا ایک سیلاب لانا ہو گا اور اس تحریک کو پوری دنیا میں پھیلانا ہو گا اور اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گے تو پھر اقوام متحدہ بھی آپ کی طرف متوجہ ہو گی اور دنیا کے بااثر ممالک بھی اپنی خاموشی توڑنے پر مجبور ہونگے۔

صدر آزادکشمیر نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگ محصور اور مجبور ہیں لیکن ہم آزاد اور خودمختارہیں اس لئے یہ آزادکشمیر اور اہل پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی آواز کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلائیں اور اس آواز کی بازگشت پیرس، نیویارک، لندن، برسلز، جنیوا،ویانا، ڈھاکہ اور کوالالمپور میں بھی گونجنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لئے بیرون ملک آباد ایک کروڑ سے زیادہ کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ وہ اپنا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن بدلے ہوئے حالات میں ان کوششوں کو مزید تیز تر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے ویتنام جنگ اور جنونی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف تحریک کا ماڈل موجود ہے جہاں عوامی طاقت کے دبائو سے امریکہ کو ویتنام میں جنگ بند کرنے اور جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کو ختم کرنے پر مجبور کردیا گیا تھا۔

صدر آزادکشمیر نے کہا کہ اس وقت کشمیر انسانیت کا مسئلہ بن چکا ہے اور انسانیت پر یقین رکھنے والی دنیا تک رسائی حاصل کر کے اُسے اس انسانی بحران کو حل میں کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ بارہ ربیع الاول کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ حضو ر نبی اکرمﷺ کی ذات بابرکت مسلمانان عالم کے لئے حتمی قائد کی حیثیت رکھتی ہے جن سے بڑھ کر متبرک اور محترم ہستی اور کوئی نہیں ہو سکتی۔

ہم اپنے والدین، قوم اور قبیلہ کی توہین شاید برداشت کر لیں لیکن حضور نبی مہربانﷺ کی شان میں معمولی گستاخی بھی کبھی برداشت نہیں کرسکتے کیونکہ ہم پوری طرح یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف مسلمانوں کے نہیں بلکہ پوری عالم انسانیت کے محسن اور مربی تھے۔ انہوں نے کہا کہ فرانس میں حضور نبی اکرمﷺ کی شان مبارک میں گستاخی سے جہاں ہمارے دل زخمی ہوئے ہیں وہاں اس بات پر اطمینان بھی ہے کہ پہلی بار پورے عالم اسلام نے اتحاد و اتفاق سے اس پر اپنا شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

اس وقت فرانس کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی ایک جاندار مہم ٹوکیو سے واشنگٹن تک چل رہی ہے اور اس مہم کی تپش پیرس میں پوری طرح محسوس کی جا رہی ہے۔ اس طرح کی ایک مہم بھارت کے خلاف چلانے کی ضرورت ہے کیونکہ وہاں بھی کشمیریوں کو محمد عربی ﷺ کے غلام ہونے کی سزا دی جارہی ہے۔