ْامریکی صدر ثالثی کے ذریعے تنازعہ کشمیر حل کرانے میں اپنا کردار ادا کریں، صدر آزادکشمیر

صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کمالہ ہریس کے اقتدار میں آنے کے بعد کشمیریوں کے اندر نئی امید پیدا ہوئی ہے،مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ہی خطہ کو جنگ سے بچا سکتا ہے، صدر مسعود کا امریکہ، کنیڈا، لندن، اوسلو، ڈنمارک اور سویڈن میں ویبی نار سے خطاب

ہفتہ فروری 17:17

ْامریکی صدر ثالثی کے ذریعے تنازعہ کشمیر حل کرانے میں اپنا کردار ادا ..
سلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 فروری2021ء) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ امریکہ میں صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کمالہ ہریس کے اقتدار میں آنے کے بعد کشمیریوں میں مسئلہ کشمیر کے حل کی امید پیدا ہوئی ہے کیونکہ نئے امریکی صدر اور نائب صدر نے اپنی انتخابی مہم کے دوران مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف کھل کر اظہار خیال کیا تھا۔

مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے واشنگٹن میں پاکستان کے سفارتخانے اور امریکہ-پاکستان ویلفیئر ایسوسی ایشن، پاکستانی ہائی کمیشن لندن، تحریک کشمیر ڈنمارک، کشمیر کونسل سویڈن، پاکستان ہائی کمیشن اوٹاوہ کنیڈا اور اوسلو ناروے میں پاکستان کے سفارتخانے کے زیر اہتمام علیحدہ علیحدہ ویبی نار سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن سیاسی حل کے لئے پاکستان اور جموں وکشمیر کے عوام کسی بھی تیسرے فریق کی ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کریں گے بشرطیکہ ثالثی کے عمل میں جموں وکشمیر کے عوام کو بنیادی فریق کے طور پر شامل کیا جائے۔

(جاری ہے)

اس مقصد کیلئے امریکہ کے صدر عالمی اثر و رسوخ رکھنے والی کسی بھی معتبر شخصیت کو ثالث نامزد کر سکتے ہیں۔ صدر آزادکشمیر نے امریکی صدر سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ اقوام متحدہ میں اپنے مستقل نمائندے کو ہدایت کریں کہ وہ سلامتی کونسل کی جموں وکشمیر کے حوالے سے قراردادوں پر عملدرآمد کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر اسلام مخالف سرگرمیوں (اسلامو فوبیا) کا سب سے بڑا مرکز بن گیا ہے جہاں ہندو بنیاد پرست بھارتی حکومت کے ہاتھوں مسلمانوں کو تباہی و بربادی اور بدترین نسل کشی کا سامنا ہے۔

لندن میں پاکستان کے سفارتخانے کے زیر اہتمام ویبی نار جس میں برطانوی پارلیمنٹ کے پچاس سے زیادہ ارکان نے واشگاف الفاظ میں آزادی اور حق خودارادیت کے لئے جدوجہد کرنے والے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے یکجہتی کا کھل کر اظہارکیا سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کی ایک ملین فوج بے گناہ غیر مسلح کشمیریوں کے خلاف ایسا بد ترین غیر انسانی سلوک کر رہی ہے جس کی مثال حالیہ انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔

غیر ملکی قابض فوج کے مظالم اور منظم نسل کشی اور نسلی تطہیر نے ہٹلر کے مظالم اور یہودیوں کی نسل کشی کے بھیانک واقعات کو بھی شرما دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں آزادی اور حق خودارادیت کا جمہوری مطالبہ کرنے والے نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کیا جارہا ہے، خواتین پر جنسی تشدد کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جار ہا ہے نوجوانوں کو گرفتار کر کے غائب کیا جا رہا ہے، کشمیریوں سے اُن کی زمین چھینی جا رہی ہے اور مختلف حیلوں بہانوں سے کشمیریوں سے کاروبار اور روزگار چھین کر انہیں فاقہ کشی کے ذریعے مارنے کا ایک منظم سلسلہ جاری ہے۔

انہوںنے کہا کہ مسلم اکثریتی ریاست جموں وکشمیر کو ایک غیر ریاستی لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا چلا رہا ہے جو ایک منصوبہ بندی کے تحت پورے بھارت سے ہندو شہریوں کو لا کر مقبوضہ ریاست میں آباد کر رہا ہے تاکہ مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر دیا جائے۔ ایک متنازعہ ریاست میں بھارت کے یہ اقدامات ایک نئے نو آبادیاتی نظام کی نشاندہی کر رہے ہیں اور تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین خاص طور پر جنیوا کنونشن کی رو سے غیر قانونی اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے ان تمام تر جرائم کے باوجود بین الاقوامی برادری اور بااثر ممالک کی حکومتیں ان جرائم سے چشم پوشی کر رہی ہیں اور بھارت کا محاسبہ کرنے کے لئے آمادہ نظر نہیں آتیں۔ صدر آزادکشمیر نے برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان اینڈریو گوائن، جیمز ڈیلی اور پال بریسٹو کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا جو اپنی جماعتوں کے پارلیمانی گروپوں میں فرینڈز آف کشمیر گروپ قائم کر کے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم اور نا انصافیوں کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔

صدر سردار مسعود خان نے اپنے خطاب میں تجویز پیش کی کہ کشمیریوں کے حمایتی برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان دنیا کی دیگر پارلیمانز میں اپنے ہم منصب پارلیمنٹرین سے رابطہ کریں ، برطانیہ کی حکومت سے کہا جائے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو متحرک کرے، اور جنیوا میں کثیر الاقوامی اداروں سے روابط کو موثر بنایا جائے اور بین الاقوامی لابی کو منظم کر کے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف عوام کو سڑکوں پر لایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بین الاقوامی پارلیمانی کمیونٹی کی حمایت حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اوسلو ناروے میں پاکستان کے سفارتخانے کے زیر اہتمام ویبی نار سے خطاب کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اوسلو نے ہمیشہ عالمی امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے تاریخی کوششیں کیں ہیں اور اس مقصد کے لئے تنازعات میں الجھے فریقین کو باہم قریب لانے اور ان کے درمیان بات چیت کا راستہ ہموار کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

ہمیں توقع ہے کہ وہ یہ کردار تنازعہ کشمیر کے حل کے لئے بھی ادا کرے گا۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال سے ویبی نار کے شرکاء کو آگاہ کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ مقبوضہ ریاست میں انسانی حقوق کی پامالی اور نسل کشی کے اقدامات عروج پر ہیں۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے عمل اور کشمیریوں کی اس کے خلاف مزاحمت سے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی سے جنگ کے خطرات گہرے ہو گے ہیں۔

اس صورتحال میں بین الاقوامی برادی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان متوقع جنگ کو ٹالنے کے لئے کشیدگی کا سبب بننے والے تنازعہ کشمیر کو سیاسی و سفارتی ذرائع سے حل کرنے کیلئے اپنی کوششوں کو تیز تر کرے اور بھارت کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں غیر انسانی اور وحشیانہ مظالم سے روکے۔ تحریک کشمیر ڈنمارک اور کشمیر کونسل سویڈن کے زیر اہتمام دو مختلف ویبی نار سے خطاب کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت دنیا کو بتا رہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہا ہے اور اسی طرح وہ آزادی اور حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے والے پرامن کشمیریوں کو دہشت گرد اور اُن کی سیاسی و سفارتی حمایت کرنے والے پاکستان کو دہشت گردوں کی مدد کرنے والا ملک بنا کر پیش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنے اس جھوٹے پروپیگنڈے کو پھیلانے کے لئے ڈس انفارمیشن سیل قائم کر رکھے ہیں جن میں ایک نیٹ ورک کو حال ہی میں ڈس انفو لیب یورپ نے بے نقاب کیا ہے۔