افغانستان میں استحکام اور امن کے قیام کے لیے وزیراعظم عمران خان کی کوششیں قابل ستائش ہیں ،

موجودہ حکومت کو عبوری تصور کیا جائے، افغانستان میں داعش تنظیم کی شکل میں موجود نہیں ، افغانستان کےنائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد کی پریس کانفرنس

منگل 21 ستمبر 2021 13:58

افغانستان میں استحکام اور امن کے قیام کے لیے وزیراعظم عمران خان کی ..
کابل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 ستمبر2021ء) افغانستان کےنائب  وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کر رہا اور افغانستان میں استحکام اور امن کے قیام کے لیے وزیراعظم پاکستان  عمران خان کی کوششیں قابل ستائش ہیں اسے مداخلت کی نظر سے نہ دیکھا جائے، افغانستان میں داعش تنظیم کی شکل میں موجود نہیں ۔

منگل کوافغانستان کے دارالحکومت کابل میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے  کہا کہ  موجودہ حکومت کو عبوری حکومت تصور کیا جائے، کابینہ کی تشکیل    مکمل نہیں ہوئی ہے ، ابھی اس میں مزید لوگوں کو شامل کریں گے،  ہم ایک مشترکہ اور جامع حکومت کی تشکیل کی جانب بڑھ رہے ہیں، خواتین کو بھی جلد اہم عہدے ملیں گے،بچیوں کے  لئے بہت جلد سکول کھول دیئے جائیں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ عبوری کابینہ میں  مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے افرادکو شامل کیا گیا ہے جن میں ہزارہ اور دیگر اقوام سے تعلق رکھنے والے لوگ، ٹیکنو کریٹس اور تعلیم یافتہ افراد شامل ہیں۔  انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری افغانستان کی حکومت کو تسلیم کرے، افغان حکومت کو تسلیم کیے بغیر محض تنقید کرنا یکطرفہ نقطہ نظر ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ افغانستان میں   استحکام اور امن کے قیام کے لیے وزیراعظم عمران خان کی کوششیں قابل ستائش ہیں جو اہم پیش رفت ہے اسے مداخلت کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ قطر، پاکستان اور چین جیسے مالک افغانستان میں استحکام  کی کوششوں کے لیے سرگرم ہیں،طالبان چاہتے ہیں کہ افغانستان میں کوئی بیرونی مداخلت نہ  ہو مگر تعاون کا خیرمقدم کریں گے۔ انہوں نے افغانستان میں حکومت کے حوالے سے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، قطر اور جو بھی ممالک افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں وہ  افغانستان میں جاری سیاسی پیش رفت کی  کی تائید کرتے ہیں اور ہم  قطر اور دیگر ممالک کے   ساتھ رابطے  میں ہیں ،جو ممالک افغانستان میں استحکام میں مدد کرنا چاہتے ہیں  اس   کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جلد اقتصادی سرگرمیاں بحال ہو جائیں گی ، مشکلات ہیں لیکن جلد ان پر قابو پالیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ  افغانستان میں داعش تنظیم کی شکل میں موجود نہیں ہے لیکن دہشت گردی اور بدامنی کے جو واقعات ہورہے ہیں وہ منتشر دہشت گرد کر رہے ہیں ان کے تدارک کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں  اور  ان پرجلد قابو پالیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ افغان عوام میں داعش کےخلاف نفرت پائی جاتی ہے ، وہ خطرہ ثابت نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہاکہ ننگرہار اور جلال آباد میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں  اور اس سلسلے میں 2 گروپوں کو گرفتار کیاگیا ہے جبکہ ماضی میں طالبان  کی داعش کے خلاف کارروائیاں کامیاب  رہیں۔انہوں نے کہا کہ نئے وزرا اور معاونین کا تعلق افغانستان کے مختلف صوبوں سے ہے۔

خواتین کو بھی جلد اہم عہدے ملیں گے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کے تحفظات دور کرنے کے لئے حکومت کو وقت درکار ہے۔ خواتین اور بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے اقدامات کر رہے ہیں۔ بچیوں کے  لئے بہت جلد سکول کھول دیئے جائیں گے۔ انہوں  نے اس موقع پر عبوری کابینہ کے ارکان کے ناموں اوران کو دیئے گئے قلمدانوں کا اعلان کیا۔