مسلمانوں پر جاری مظالم پر اوآئی سی، اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اپنا کردار ادا کریں، وزیراعظم آزاد جموں کشمیر

پاکستان کی اقلیت محفوظ! انڈیا میں آرایس ایس کے ہاتھوں مسلمان مارے جارہے ہیں، سردار عبدالقیوم نیازی وزیراعظم آزاد جموں کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی کی کراچی میں قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ کی رہائشگاہ پر میڈیا سے گفتگو بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشتگردی سے آئے روز کشمیری عوام کے جان و مال کا نقصان ہورہا ہے

اتوار 28 نومبر 2021 20:20

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 نومبر2021ء) وزیراعظم آزاد جموں کشمیرسردارعبدالقیوم نیازی دو روزہ دورے پر کراچی پہنچے ایئرپورٹ پر اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ اراکین اسمبلی راجہ اظہر، شہزاد قریشی ایم این اے لال مالہی اور دیگر نے استقبال کیا ان کے ہمراہ ڈپٹی اسپیکر آزاد کشمیر قانونساز اسمبلی چوہدری ریاض گجر بھی ہمراہ موجود تھے وزیراعظم آزاد جموں کشمیرسردارعبدالقیوم نیازی سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ کی رہائشگاہ پہنچے جہاں پر انہوں نے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنماں سے ملاقات کی بعد ازاں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ اراکین اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد جموں کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشتگردی سے آئے روز کشمیری عوام کے جان و مال کا نقصان ہورہا ہے کشمیری عوام جرئت اور بہادری سے بھارت بربریت کا مقابلہ کر رہے ہیں کشمیر، فلسطین میں جاری مظالم پر او آئی سی ، اقوام متحدہ ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اپنے کردار ادا کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں ہوئی کشمیری قیادت جیلوں میں ہے یا کچھ نظربند ہے میں وہاں کا وزیراعظم ہوں میرا تعلق آزاد جموں کشمیر میں اس علاقے سے ہے جہاں پر روز گولہ باری ہوتی ہے لوگ اپنی زندگی آسانی سے نہیں گزار سکتے میرا گھر بھارتی ٹینکوں سے ایک ہزار گز کی دوری پر ہے میں آج بھی اسی لائین آف کنٹرول پر پھرتا ہوں پوری پاکستان میں اقلیتوں کو ہر قسم کی سہولت میسر ہے اور انہیں ہر چیز میں برابری کا حق ملتا ہے کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے انڈیا میں مودی کے ہاتھوں اقلیت محفوظ نہیں آر ایس ایس کے غنڈے مسلمانوں کو مار رہے ہیں کشمیر کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے مسلم امہ سے میں یہ سوال کرتا ہوں، او آئی سی نے وہ درد محسوس نہیں کیا جو ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے لیے ہونا چاہیے اوآئی سی نے کشمیر، فلسطین، رونھگیا کے لیے کچھ نہیں کیا اوآئی سی سے ہمیں امید تھی جو باور ثابت نہیں وزیراعظم عمران خان نے یونائیٹڈ نیشن میں کشمیر کا مقدمہ دلیری سا لڑے عمران خان نے کہا کہ میں کشمیر کا سفیر ہوں کشمیر کے لیے وزیراعظم نے 5 سوبلین سے زائد کا پیکیج دیکر کشمیریوں کی حوصلہ افزائی کی ہے جس پر ہماری حکومت نے کام شروع کردیا ہے ہمیں جو حکومت ملی تو اس وقت کشمیر کی وہی حالت تھی جو مسلم لیگ نے دوسرے صوبوں اور وفاق کی کئی ہوئی تھی کشمیر میں جانے والی حکومت نے آنے والی حکومت کے لیے کوئی آسانی نہیں چھوڑی ہمارے لیے کچھ زیادہ ہی مشکلات پیدا کی گئی حکومت آزاد کشمیر نے پبلک سروس کمیشن جس میں لوگ قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پر آگے آتے تھے لیکن گذشتہ حکومت نے این ٹی ایس کا سہارا لیا جو اچھا کام ہے لیکن ان دونوں اداروں کو ہٹاکر حکومت نے جانے سے چار دن پہلے 5 ہزار کانٹریکٹ پر بھرتی ملازمین کو پکا کردیا ایک لاکھ پڑھے لکھے نوجوانوں کے ساتھ ظلم کیا گیا ہم نے آتے ہی کابینہ اجلاس میں ایکٹ پاس کیا کہ سب لوگوں کو این ٹی ایس اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی ہونا چاہے میں نے ایک لاکھ کشمیریوں کو میرٹ پر آگے بڑھنے کا موقع دیا ہے پورے پانچ سال مسلم لیگ ن نے 33 وزرا کے ساتھ حکومت کی ہے جاتے جاتے قانون پاس کیا کہ آنے والی حکومت صرف 16 وزرا پر حکومت کرے گی اور آج ہم 16 کی بنیاد پر حکومت کررہے ہیں ہم اس میں نمائندگی بڑھائیں گے اپنے ساتھیوں کو موقع دیں گے مسلم لیگ ن کارستانیاں آزاد کشمیر میں بھی کرکے گئی ہے جس کی وجہ سے 2016 میں ن لیگ کو 33 اور 21 کے الیکشن میں انہیں صرف 5 سیٹیں ملتی ہیں ایسے حالات پیدا کرجائے تو آنے والی حکومت کے لیے کوئی آسانی نہیں ہوتی مسلم لیگ ن نے ڈولپمینٹ کے پیسوں پر اسٹے آرڈر لیے ہوئے تھے وہ ہم نے عدالتوں میں پیش ہوکر ختم کروائے اور اب عوام کی خدمت کررہے ہیں جس پر ہم عدالتوں کے شکرگذار ہیں سندھ میں جو ہماری وفاقی حکومت پیسہ دے رہی ہے اسے خرچ کرنے دیں پھر پتہ چلے گا اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ اپنی ہمت اور استحکامت سے مظلوم طبقے کی جنگ لڑرہے ہیں جس کے لیے خان صاحب کہتے ہیں کہ اس طبقے کو اوپر لانا ہے حلیم عادل شیخ مصنوعی لیڈروں کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہیں ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی نے کہا کہ میری عادتیں نیازیوں والی ہیں چھوٹی موٹی شاعری یاد تھی پہلی دفعہ ہم نے پارٹی تبدیل کی ہے میں نے اپوزیشن کی صرف حکومت میں رہنے والی عادتیں بتائی ہیں وڈیو آڈیو لیکس کے سوال پر انہوں نے کہا کہ جس جس کی باری ہے وہ بچے کا نہیں۔

>