کے ایچ آئی ایوارڈ کے ذریعے فلاحی اداروں کے مثبت اقدامات کو سراہا گیا

کراچی ڈاؤن سنڈروم پروگرام (کے ڈی ایس پی) کے شریک بانی علی اللہ والا کا کہنا ہے کہ ”ہر زندگی جینے کے قابل ہے، جب سب نے اُس کا ساتھ چھوڑ دیا تو اُس نے حالات کا بہادری سے مقابلہ کیا۔“

منگل 27 فروری 2024 15:24

کے ایچ آئی ایوارڈ کے ذریعے فلاحی اداروں کے مثبت اقدامات کو سراہا گیا
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 فروری2024ء) کراچی ڈاؤن سنڈروم پروگرام (کے ڈی ایس پی) کے شریک بانی علی اللہ والا کا کہنا ہے کہ ”ہر زندگی جینے کے قابل ہے، جب سب نے اُس کا ساتھ چھوڑ دیا تو اُس نے حالات کا بہادری سے مقابلہ کیا۔“ علی اللہ والا اپنی اہلیہ فرزین علی کے ساتھ سنڈروم کے شکار افراد اور اُن کے خاندانوں کے لیے فلاحی ادارہ چلاتے ہیں۔

کے ڈی ایس پی کی شریک بانی کی بیٹی الّایہ جب ڈاؤن سنڈروم کے مرض کے ساتھ چھ ہفتے قبل پیدا ہوئی تو اسے نرسری میں رکھا گیا، لیکن وہاں ضرورت کے مطابق مناسب دیکھ بھال کی سہولت نہ تھی۔ 9 گھنٹے بعد بچی کو دل کا دورہ پڑا اور اگلے 10 دنوں تک الّایہ کو وینٹی لیٹر پر رکھنا پڑا۔ الّایہ کے والدین کو اسپتال ہی میں نہیں بلکہ اسپتال کے باہر بھی مشکلات کا سامنا تھا۔

(جاری ہے)

پریشان حال الّایہ کے نوجوان والدین صورتحال کو سنبھالنے کے لیے وسائل اور تعاون کے متلاشی تھے، لیکن انہیں ضرورت کے مطابق سہارا نہ مل سکا۔ انہوں نے بہادری سے حالات کا مقابلہ کیا اور جب تک اُن کی بیٹی مکمل طور پر صحت مند نہیں ہوگئی اسے دنیا بھر سے بہترین علاج معالجے کی سہولت فراہم کی۔ عالیہ کے والدین نے عزم کیا کہ وہ ایک ایسا ادارہ بنائیں گے جہاں علاج معالجے کی وہ تمام سہولتیں میسر ہوں جو انہیں مقامی طور پر نہیں مل سکی تھیں۔



کے ڈی ایس پی کے فیملی نیٹ ورک میں 2,000سے زیادہ افراد رجسٹرڈ ہیں اور رواں سال اپنی 10 ویں سالگرہ منارہا ہے۔اسلام آباد میں ایک چیپڑ قائم کرکے اس کا دائرہ ملک بھر میں پھیلانا چاہتے ہیں۔

کے ڈی ایس پی ایک کشتی کی طرح کام کرتا ہے۔ ادارہ خاندانوں کو سہارا دینے، آگاہی اور واقفیت فراہم کرنے، صحت اور علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قابلیت، اسکل ڈیولپمنٹ، تعلیم، ابتدائی تعلیم اور کم عمری میں درکارتھراپی کی خدمات فراہم کرتا ہے۔

کے ڈی ایس پی اپنے دو بنیادی اصولوں پر قائم ہے، جو شریک بانیوں نے ادارے کے قیام کے وقت متعین کیے تھے۔ خدمات کے معیار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا اور کسی بھی خاندان کو بھلے وہ قیمت ادا نہ کرسکے علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنا۔

علی اللہ والا کا کہنا ہے کہ ہم مختلف نہیں بلکہ ایک جیسے لوگ ہیں۔ آج کی دنیا میں لوگوں کو مایوسی سے بچانا اور امید دلانا ضروری ہے۔

ہر مشکل میں مواقع ہوتے ہیں۔ فرد ہو یا گروپ انہیں بھلائی کے کاموں کے لیے آگے آنا چاہیے۔ ابتدا میں چاہے وہ چھوٹے پیمانے پر ہی کام کیوں نہ شروع کریں۔

لیٹن رحمت اللہ بینوویلنٹ ٹرسٹ (ایل آر بی ٹی) مختلف افراد کا مل کر ایک ادارہ بنانے کی کہانی ہے۔ دسمبر 1984 میں گراہم لیٹن اور ذکا رحمت اللہ نے ٹنڈوباگو میں موبائل آئی اسپتال قائم کرنے کے لیے 10 لاکھ روپے جمع کیے۔

آج ایل آر بی ٹی میں آنکھوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے، یہاں آنکھوں کے عام امراض کا علاج کرنے کے ساتھ ساتھ ریٹینا کی سرجری اور قرنیہ کی پیوند کاری بھی کی جاتی ہے۔ یہ ادارہ دیہی اور شہری علاقوں میں خدمات فراہم کرتا ہے اور جلد ہی مکمل سہولتوں سے آراستہ اپنے بیسویں اسپتال کے افتتاح کی راہ پر گامزن ہے۔ ایل آر بی ٹی کے پاس 49 پرائمری آئی کیئر سینٹرز اور 5 آؤٹ ریچ کلینکس کے ساتھ 16 سیکنڈری آئی کیئر ہسپتال اور 3 مخصوص آئی ہسپتال ہیں۔

حال ہی میں ادارہ نے ساڑھے 5کروڑ مریضوں کا علاج مکمل کیا۔ میرپور ساکرو سے تعلق رکھنے والی 13 سالہ بختاور کا کراچی میں موتیا کا کامیاب آپریشن کیا گیا۔ بختاور کی دونوں آنکھوں میں پیدائشی طور پر موتیا تھا۔
بختاور کی بیماری کی ابتدائی تشخیص ایل آر بی ٹی گھارو کے پرائمری آئی کیئر کلینک میں کی گئی تھی۔

ایل آر بی ٹی کے چیف ایگزیکٹو عمر غفور نے بتایا کہ پاکستان میں بصارت سے محروم اور نابینا افراد کی بڑی تعداد ہے اور 26 ملین بصارت سے محروم اور نابینا افراد کے ساتھ پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔

آنکھوں سے متعلق بیماریاں کُل آبادی کا 12 فیصد ہیں اور حیرت انگیز طور پر 90 فیصد یہ بیماریاں اندھے پن کا باعث بنتی ہیں۔ اگر اس بیماری کا بروقت علاج کیا جائے تو یہ قابل علاج بھی ہے۔ ہمارے بانیوں کا وژن ایک ایسا ادارہ بنانا تھا جہاں پورے ملک کے غریب اور پسماندہ افراد کا آنکھوں کا مفت علاج کیا جاسکے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی فرد علاج معالجے کی استطاعت نہ رکھنے کے باعث نابینا نہ ہوجائے۔

ہم اپنے عطیہ دہندگان کے شکر گزار ہیں جن کے تعاون سے ایل آر بی ٹی اسپتال 200 کلومیٹر کے اندر کے رہائشی افراد کو مفت علاج معالجہ فراہم کرتے ہیں۔

صدقہ اور خیرات پاکستان میں جی ڈی پی کا تقریباً ایک فیصد ہے، جس کا باآسانی ترقی یافتہ ممالک سے موازانہ کیا جاسکتا ہے۔ 2018 میں یہ بات سامنے آئی کہ قوم نے فلاحی کاموں میں دل کھول کر حصہ لیا اور تقریباً 240 ارب روپے کے عطیات دیئے۔



عمر غفور نے کہا کہ آنکھوں کے مفت علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے میں تعاون پر ہم مخیر حضرات اور اداروں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں، جو ہمارے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ اس مشکل وقت میں ہم مخیر حضرات سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مجموعی فلاح و بہبود کے کاموں میں آنکھوں کے علاج معالجے کو بھی اہمیت دیں، کیونکہ آپ کے تعاون سے ہمیں پسماندہ کمیونیٹیز تک پہنچنے، نابینا پن کی روک تھام اور بینائی کی بحالی میں مدد ملتی ہے، جس سے معیار زندگی میں بہتری آتی ہے۔



ڈوئنگ گڈ انڈیکس رپورٹ 2022 کے مطابق سماجی ترقی کے اداروں کے خیال میں انفرادی عطیات میں 83 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ دیگر رپورٹس اور خبروں کے مطابق انفرادی اور کارپوریٹ عطیات میں مجموعی طور پر 50 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ ایک ہی وقت میں ملک میں امداد کے طلبگار افراد تعداد میں حیرت انگیز طور پر 50 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ان اعداد و شمار کا تعلق 2020 کے بعد سے پاکستان کو درپیش مسلسل بحرانوں سے ہے۔

ایک جانب عالمی وبا نے روزمرہ کی زندگی کو متاثر کیا تو دوسری جانب دوران موسلا دھار بارش سیلاب کی تباہ کاریاں تھیں۔ میکرو اکنامک اور جیو پولیٹیکل حالات نے مئی 2023 میں مہنگائی کی شرح کو 37.97 فیصد تک پہنچادیا۔ ان حالات نے لوگوں کے فلاحی کاموں میں حصہ لینے کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ صورتحال ایسے وقت پیش آئی ہے جب لوگوں کو امداد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

آج فلاحی اداروں کو اُن بے شمار افراد کے لیے امید کی کرن بننے کے لیے عطیات کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

 ڈیویلپمنٹس ان لٹریسی (ڈی آئی ایل)کی پروگرام ڈائریکٹر زیبا شفیع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف 14 فیصد طالب علم ہائی اسکول جاتے ہیں اور 60 فیصد سے زائد خواتین ناخواندہ ہیں۔ ڈی آئی ایل مالی حیثیت سے قطع نظر تعلیم ہر بچے کا حق سمجھتا ہے۔

اسی لیے'Educating Children - Empowering Communities'  کے ٹیگ لائن کے ساتھ ہمارا مشن جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں زندگی گزارنے کی لاگت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث مخیر حضرات کی جانب سے عطیات میں کمی دیکھی گئی ہے۔ خاص طور پر کووڈ کے بعد جب کاروبار بند ہوگئے، لوگوں کی ملازمتیں ختم ہوگئیں اور ان کے خرچ کرنے کی صلاحیت میں کمی آئی۔

ہمیں کام جاری رکھنے کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کے اہداف کو پورا کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ آپریشنل اخراجات بڑھنے سے ہمارے بجٹ میں اضافہ بھی ناگزیر ہوگیا ہے۔

پسماندہ علاقوں میں تعلیم فراہم کرنے کے لیے 1997 میں فضا شاہ نے ڈی آئی ایل قائم کیا، جو پاکستان بھر کے 168 اسکولوں میں تقریبا60,000 طلباء کو سستی اور معیاری تعلیم فراہم کر رہا ہے، جس میں خواتین کے داخلے کی شرح 72 فیصد ہے۔

سندھ، پنجاب اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) میں تقریباً 80 فیصد سرکاری اسکولوں کو اپنایا گیا ہے۔ ادارے کے سابق طالب علم طب، انجینئرنگ اور عوامی خدمات سے لے کر مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ تعلیم کو بڑے پیمانے پر فروغ دینے کے لیے ڈی آئی ایل مزید 100 سرکاری اسکولوں کو اپنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

کراچی اور پاکستان بھر میں کمیونیٹیز کی خدمت کرنے والے اداروں نے دستیاب فنڈز کی کمی کے باوجود اپنی کوششیں جاری رکھی ہیں۔

ایسے افراد اور اداروں کے کردار کو سراہنے کے لیے کے۔ الیکٹرک نے کے ایچ آئی ایوارڈز شروع کیا ہے۔ یہ ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں کراچی کے لوگوں کے فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والوں کی ستائش کی جاتی ہے۔ 2021 میں کمپنی نے سوشل، انفرااسٹرکچر اور انوائرمنٹ کے شعبوں میں کام کرنے والے اداروں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم تشکیل دیا۔

اپنے آغاز سے اب تک کے ایچ آئی ایوارڈز نے 14 مختلف زمروں میں 74 اداروں سے تعاون کیا ہے، جس سے مجموعی طور پر 17.8 ملین افراد کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

کے ایچ آئی ایوارڈز کو منصفانہ اور شفاف بنانے کے لیے ایک آزاد جیوری اور آڈیٹر کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ تیسرے ایڈیشن میں 154 درخواستوں کا آنا کے ایچ آئی ایوارڈ کی ساکھ کا منہ بولتا ثبوت ہے، جو مشکل معاشی دور میں بھی لوگوں کو فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

کے ڈی ایس پی کی طرح گزشتہ برسوں میں کے ایچ آئی ایوارڈ جیتنے والوں کی کہانیاں مزاحمت، خلوص اور معاشرے کے فلاح کے لیے کام کرنے والوں کے غیر متزلزل یقین کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہمیں امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اور جو لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں وہ اس مشکل صورتحال میں بھی فلاح و بہبود کے کام کرسکتے ہیں۔

چائلڈ لائف فاؤنڈیشن ایک غیر منافع بخش تنظیم (این جی او) ہے، جو 2010 میں اُس وقت منظر عام پر آئی جب چائلڈ لائف نے پاکستان میں سیلاب کے بعد بچوں کو ہنگامی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے اور اُن کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے بروقت اقدامات کیے۔



چائلڈ لائف فاؤنڈیشن نے اپنے افتتاحی پروگرام میں سول ہسپتال کراچی میں بچوں کے ایمرجنسی روم (ای آر) کو بہتر بنایا اور اسپتال میں موجودہ سہولتوں کو ہنگامی دیکھ بھال کے عالمی معیارات کے مطابق ترقی دی۔ ٹیچنگ اسپتالوں میں موجودہ سرکاری شعبے کے بچوں کے ایمرجنسی رومز کو بہتر بنایا گیا اور انتہائی موثر ٹیلی میڈیسن ماڈل کے ذریعے دیہی علاقوں کے بچوں کے لیے تحصیل اور ضلعی سطح پر اسپتالوں میں معیاری ہنگامی علاج معالجے کی سہولت فراہم کی گئی۔

اس طرح چائلڈ لائف نے اپنے وژن کے مطابق پاکستان میں پیڈیاٹرک ہیلتھ کیئر سروسز کی تنظیم نو کرنے کے اپنے مشن کا آغاز کیا۔ اپنے قیام سے لے کر اب تک ادارے نے سرکاری ٹیچنگ اسپتالوں میں بچوں کے 13ایمرجنسی رومز کا اضافہ کیا ہے اور پاکستان بھر میں ٹیلی میڈیسن سیٹلائٹ سینٹرز (TSCs) سمیت 300 سے زائد اسپتالوں میں اپنے نیٹ ورک کو وسعت دی ہے۔

چائلڈ لائف کے جنرل منیجر کمیو نی کیشن شہزاد ذکی کا کہنا ہے کہ چائلڈ لائف فاؤنڈیشن رواں سال 300 سے زائد اسپتالوں میں 20 لاکھ بچوں کو مفت علاج معالجے کی سہولت فراہم کرے گی۔

ادارے کے ایمرجنسی رومز میں شدید بیمار بچوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کی شرح میں غیرمعمولی طور پر چار گنا اضافہ دیکھا گیا ہے، جو پاکستان کو بچوں کے لیے محفوظ جگہ بنانے کے ہمارے مشن کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔

شہزاد ذکی کا کہنا ہے کہ ہماری کوششوں سے 6 ملین بچوں کو فائدہ پہنچا ہے، جو ملک بھر میں قابل رسائی اور جامع پیڈیاٹرک ایمرجنسی کیئر کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

ہم اپنے حامیوں اور عطیہ دہندگان کے تعاون سے پاکستان کے دور دراز علاقوں تک اپنی رسائی بڑھا رہے ہیں اور حکومت کے اشتراک سے پاکستان کے سیکنڈری کیئر اسپتالوں میں ٹیلی میڈیسن سیٹلائٹ مراکز کے ذریعے مریضوں کو گھروں کے قریب معیاری ہنگامی علاج معالجے کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔

ایک ایسے ملک میں جہاں پانچ سال سے کم عمر کے ایک ہزار بچے علاج معالجے کی معیاری سہولتیں نہ ملنے کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور ساڑھے پانچ کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں، وہاں بہت سے خاندان اپنے بچوں کے لیے بنیادی علاج معالجے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

چائلڈ لائف فاؤنڈیشن نے اس خلا کو پُر کرنے کے لیے قدم بڑھایا ہے اور اب تک علاج معالجے کی سہولت فراہم کرکے 6 لاکھ بچوں کی زندگیوں کو بچایا ہے۔پاکستان میں بچوں کی آبادی 100 ملین ہے، جس میں سے 80 فیصد کوآج24/7معیاری ہنگامی علاج معالجے کی سہولت 30 منٹ کے اندر میسر ہے۔ اس اقدام سے بچوں کی شرح اموات میں نمایاں کمی آئی ہے اور بچوں کو جینے کا ایک اور موقع فراہم کیا ہے۔

یہ ادارہ بچوں کی بیماریوں کا مکمل علاج کرکے پسماندہ گھرانوں کے مالی بوجھ میں کمی اور مفت ہنگامی علاج معالجے کی سہولت فراہم کرکے غریب لوگوں کو قرضوں کے جال میں پھنسنے سے بچاتا ہے۔

تبدیلی کو فروغ دینے اور متوازن معاشروں کی تشکیل کے لیے انفرادی نہیں مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات میں بڑے انسانی مقصد کے حصول کے لیے ہمیں مل کر فلاح و بہبود کے کام کرنے والے اداروں اور پلیٹ فارمز سے تعاون کرنا چاہیے۔ آزمائش کی اس گھڑی میں یہ کہانیاں ہمیں فلاح و بہبود کے کاموں کے لیے دل مزید بڑا کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔