اگر بھارت نے ہمیں اکسایا یا حملہ کیا تو ہمارا ردعمل تیز اور وحشیانہ ہوگا، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری
نا تو بھارت اسرائیل ہے اور نا ہی پاکستان فلسطین، اگر دریائے سندھ کا پانی روگا گیا تو دہائیوں تک محسوس کئے جائیں گے، امید کرتا ہوں ایسا وقت کبھی نہ آئے تاہم اگرایسے اقدامات کئے گئے تودنیا دیکھے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر کا ترکیہ کی خبررساں ایجنسی انادولو کو انٹرویو
فیصل علوی
پیر 19 مئی 2025
10:48
(جاری ہے)
جنوری 2024 سے اب تک ملک میں 3700 سے زائد دہشتگردی کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔اس ساری دہشت گردی کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی بھارت کر رہا ہے۔ 17 ماہ میں دہشتگردی کے واقعات میں 3896 افراد شہید ہوئے۔
3896 شہدا میں سے 2582 سویلین اور سکیورٹی اہلکار ہیں۔کشمیر میں یا بھارت میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ بھارتی جبر کی وجہ سے اندرونی مسئلہ ہے۔ کشمیر ایک بین الاقوامی تسلیم شدہ تنازعہ ہے۔ بھارت کشمیر کو حل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ وہ جبر سے اسے اندرونی مسئلہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔کوئی بھی پاکستان کا پانی روکنے کی ہمت نہ کرے، کوئی پاگل شخص ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ وہ 24 کروڑ سے زائد لوگوں کا پانی روک سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر انڈیا نے دریائے سندھ کا پانی روکا تو نتائج دہائیوں تک محسوس کئے جائیں گے۔ ہم ایک امن پسند قوم ہیں لیکن اگر بھارت نے ہمیں اکسایا یا حملہ کیا تو ہمارا ردعمل تیز اور وحشیانہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت امریکہ نہیں اور پاکستان افغانستان نہیں، بھارت اسرائیل نہیں اور پاکستان فلسطین نہیں ہے۔ پاکستان، بھارتی تسلط کے سامنے نہیں جھکے گا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ امید کرتا ہوں ایسا وقت کبھی نہ آئے تاہم اگرایسے اقدامات کئے گئے تودنیا دیکھے گی۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کوئی بھی پاکستان کا پانی روکنے کی ہمت نہ کرے۔پاکستان کی افواج پیشہ ورہیں۔ ہم اپنے کئے گئے وعدوں کی مکمل پاسداری کرتے ہیں اور سیاسی حکومت کی ہدایات حرف بہ حرف مانتے ہوئے ان کے عزم کاپاس رکھتے ہیں۔بھارت پہلگام واقعے میں پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا کر کوئی بھی ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہا، نئی دہلی حکومت ان واقعات کو دہشت گردی کے بہانے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔بھارت جتنی جلدی یہ بات سمجھ جائے گا یہ علاقائی اور عالمی امن کیلئے اچھا ہوگا۔ نئی دہلی حکومت ان واقعات کو دہشت گردی کے بہانے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ترجمان پاک فوج نے جعفر ایکسپریس پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حملہ کرنے والی بی ایل اے نے کھلے عام بھارت سے فوجی مدد کی درخواست کی تھی۔ نئی دہلی میں کچھ رہنماوں، سیاست دانوں اور ریٹائرڈ جنرلوں نے بی ایل اے کی حمایت میں بیانات دئیے تھے۔ترجمان پاک فوج کایہ بھی کہنا تھا حالیہ کشیدگی میں بھارت کے 5 جنگی طیارے مار گرائے جن میں سے 3 رافیل تھے۔ دنیا جانتی ہے پاکستان نے بھارتی طیارے گرائے لیکن نئی دہلی اسے ماننے کو تیار نہیں۔جہاں تک پاک آرمی کاتعلق ہے یہ جنگ بندی آسانی سے برقراررہے گی۔ فریقین کے درمیان رابطے میں اعتماد سازی کے اقدامات کئے گئے ہیں تاہم اگر خلاف ورزی ہوتی ہے توہمارا جواب ہمیشہ اورموقع پرہوگا۔مزید اہم خبریں
-
جرمنی کا امریکہ سے ٹوماہاک کروز میزائل خریدنے کا فیصلہ
-
پاکستان میں مہنگائی میں اضافہ، معاشی شرح نمو بھی ٹارگٹ سے کم رہے گی، ایشیائی ترقیاتی بینک کا انتباہ
-
ترقیاتی فنڈز کی فراہمی مالیاتی گنجائش سے مشروط ،پی ایس ڈی پی کے تحت فنڈز 4 سہ ماہی اقساط میں جاری ہوں گے ،نوٹیفکیشن جاری
-
دنیا کی تقریبا 80 فیصد تجارت سمندری راستوں سے ہوتی ہے،پاکستان کی سمندری معیشت کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے. افتخار را ﺅ
-
ہماری سفارتی کامیابیاں اور پاکستان کی ترقی دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہی، وزیراعظم
-
جھیل سیف اللہ کشتی حادثے میں 7افراد کی ہلاکت کے باوجود کے پی کے میں غیرمحفوظ ایڈونچرسرگرمیاں دوبارہ شروع ہو گئیں
-
پروٹیکٹڈ بجلی صارفین کی پالیسی میں تبدیلی کی خبریں، پاور ڈویژن نے وضاحت جاری کردی
-
علی خامنہ ای کے جسد خاکی کو مشہد میں روضہ امام رضا کے احاطے میں سپرد خاک کردیا گیا
-
بھارت نے آبی گزر گاہوں میں پانی چھوڑ دیا ،اپر چناب میں شگاف پڑنے سے کئی دیہات کا رابطہ پل ٹوٹ گیا
-
امریکی حملوں میں چین اور روس کے تجارتی راستوں کے لیے استعمال ہونے والے ریلولے پل کو تباہ کرنے کی کوشش
-
سینئر صوبائی وزیر سندھ ناصر حسین شاہ کی طبیعت ناساز، ہنگامی حالت میں ابوظہبی منتقل
-
تہران میں برطانوی سفیر کی طلبی ‘ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی سفیر کو احتجاجی مراسلہ دیا
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.