لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 اگست2025ء) پاکستان ٹیلی ویژن کے معروف ادکار راشد محمود نے کہا ہے کہ 14 اگست آزادی، قربانی، خودی اور قومی تشخص کی علامت ہے، یہ پاک وطن ہمارے بزرگوں نے اپنا خون دے کر حاصل کیا اورفنکاروں نے اپنے فن کے ذریعے ہندوستان کے مسلمانوں میں آزادی کی تڑپ پیدا کی،علامہ اقبال کی شاعری نے خوابِ پاکستان کو لفظوں کا جامہ پہنایا،پاک فوج کی قربانیاں اس وطن کی حفاظت، سلامتی اور بقا کی ضمانت ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم آزادی کے حوالے سے اے پی پی سے خصوصی گفتگو کر تے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ یومِ آزادی صرف ایک تاریخ نہیں، یہ ہماری قوم کی قربانیوں، جدوجہد اور عزم کی یادگار ہے، یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ ملک کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیااور اس کی بنیاد 'لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ' پر رکھی گئی، 14 اگست پاکستان کے لیے صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ یہ آزادی، قربانی، خودی اور قومی تشخص کی علامت ہے، یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کس طرح لاکھوں لوگوں نے اپنی جان، مال، گھر بار اور سب کچھ قربان کر کے ایک آزاد ملک کے خواب کو حقیقت میں بدلا، یو م آزادی صرف جشن منانے کا دن نہیں، بلکہ یہ خود احتسابی، شکر گزاری اور عزمِ نو کا دن ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم اس دن کو محض جھنڈیوں، روشنیوں یا ترانوں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ خود سے سوال کریں کہ ہم نے پاکستان کے لیے کیا کیا؟ ہم اسے بہتر بنانے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ایک لمحہ ان کے نام کرو،جو اپنی زندگی قربان کر گئے تاکہ ہمارا آج محفوظ ہو، سلام ان شہیدوں کو، سلام ان غازیوں کواور سلام پاک فوج کو جن کی لازوال قربانیوں کے باعث پاکستان قائم و دائم ہے،اس دن ہم سب کو عہد کرنا چاہیے کہ پاکستان کو ایک ایسا ملک بنائیں گے جس پر ہم سب فخر کر سکیں۔
(جاری ہے)
قیام پاکستان میں فنکاروں کے کردار کے حوالے سے کئے گئے ایک سوا ل کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان صرف ایک سیاسی تحریک نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ہمہ جہت جدوجہد تھی جس میں ہر طبقہ فکر نے اپنے اپنے انداز میں حصہ لیا جہاں ایک طرف سیاسی رہنما، علما، طلبہ اور صحافی اس تحریک کا حصہ بنے، وہیں فنکاروں کا کردار بھی نہایت اہم اور قابلِ ستائش رہا، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا،فنکاروں، خاص طور پر شعرا، ادبا اور مصوروں نے نظریہ پاکستان کو عام کرنے اور مسلمانوں کے جذبہ حریت کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا،حفیظ جالندھری، جوش ملیح آبادی، فیض احمد فیض اور دیگر شعرا نے انقلابی اور حریت سے بھرپور اشعار کے ذریعے تحریک کو جِلا بخشی۔
انہوں نے کہا کہ اس دور میں ریڈیو اور اسٹیج ڈرامے عوامی شعور بیدار کرنے کے موثر ذرائع تھے، فنکاروں نے اپنے فن کے ذریعے ہندوستان کے مسلمانوں کو بیدار کیا اور ان میں آزادی کی تڑپ پیدا کی،ملی نغمے اور تقریریں مسلمانوں کو متحد کرنے میں مددگار ثابت ہوئیں،ان نغمات میں اسلام، اتحاد اور قربانی کا پیغام ہوتا جو دلوں کو جوش و جذبہ سے بھر دیتا۔
راشد محمود نے کہا کہ مصوروں اور خطاطوں نے پوسٹرز، بینرز اور تصویری خاکوں کے ذریعے تحریکِ پاکستان کے نظریات کو عام کیا۔انہوں نے قائداعظم اور دیگر رہنمائوں کی تصویریں اور پیغامات عوام تک پہنچائے، جو تحریک کے لیے علامتی اہمیت رکھتے تھے،اگرچہ 1947 سے پہلے فلمی صنعت بہت محدود تھی، لیکن بہت سے فلمی شخصیات نے اپنے کام کے ذریعے مسلمانوں کی شناخت اور جدوجہد کو اجاگر کیا،بعد ازاں، آزادی کے بعد ان فنکاروں نے پاکستان کی فلمی دنیا کی بنیاد رکھنے میں بھی کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان میں فنکاروں کا کردار خاموش لیکن طاقتور تھا۔ انہوں نے الفاظ، آواز، رنگ، تصویر اور جذبات کے ذریعے اس تحریک کو زبان دی، جو دلوں تک پہنچی اور ذہنوں میں انمٹ نقوش چھوڑ گئی، آج بھی ہمیں ان عظیم فنکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے جنہوں نے اپنے فن کے ذریعے ایک آزاد وطن کے خواب کو حقیقت بنانے میں مدد دی۔
انفرادی ذمہ داری کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک فنکار کی حیثیت سے میرا فرض بنتا ہے کہ میں اپنے فن کے ذریعے اس ملک کے مثبت تشخص کو اجاگر کروں، نئی نسل کو حب الوطنی، اتحاد، قربانی اور ایثار کا پیغام دوں۔ انہو ں نے کہاکہ میں نے ہمیشہ اسٹیج، ٹی وی اور ریڈیو پر اپنے کرداروں کے ذریعے قومی شعور کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔
یوم آزادی کے موقع پر میرا پیغام یہی ہے کہ ہر شہری اپنے حصے کا چراغ جلائے، ملک کو سنوارنے اور فلاحی اسلامی ریاست بنانے کے لیے خلوص نیت سے کام کرے،میں ان تمام شہدا کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے وطن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا، لہذا ہر شہری کا یہ دینی، اخلاقی اور قومی فریضہ ہے کہ وہ اس اسلامی ریاست کو سنوارنے، اس کی ترقی میں حصہ ڈالنے اور اسے ایک مثالی فلاحی مملکت بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
نوجوانوں کو پیغام کے حوالے سے ایک سوال کے جواب دیتے ہوئے راشد محمدد نے کہاکہ، آج کی نسل کو چاہیے کہ وہ اس آزادی کی قدر کرے اور ملک کے لیے ایمانداری سے اپنا کردار ادا کرے، یہ وطن ہمیں تحفے میں نہیں ملا، یہ بے شمار قربانیوں کا نتیجہ ہے،آزادی کی قیمت وہی جان سکتا ہے جس نے غلامی دیکھی ہو ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کی حفاظت کریں، ایمانداری سے کام کریں اور نفرت کی بجائے محبت اور یکجہتی کو فروغ دیں،یاد رکھیں آزادی محض ایک دن منانے کا نام نہیں، یہ ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے، اس ملک کی قدر کریں، یہ نعمت بار بار نہیں ملا کرتی۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج کی قربانیاں اس وطن کی حفاظت، سلامتی اور بقا کی ضمانت ہیں، آج جو آزادی سے سانس لے رہے ہو،یہ پرچم جو لہرا رہا ہے،یہ سرحدیں جو محفوظ ہیں،ان کے پیچھے کوئی ہے تو وہ جو جاگا ہے، لڑا اور قربان ہوا ہے،سلام ہے ان شہیدوں کو جن کی وجہ سے آج ہم زندہ ہیں،پاک فوج کی وطن کے لیے دی گئی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی, ان قربانیوں کو الفاظ میں سمیٹنا ممکن نہیں، لیکن ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ انہیں یاد رکھیں، بیان کریں اور نسلِ نو تک پہنچائیں۔
راشد محمود نے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام سے اظہارِ ہمدردی اور یکجہتی کرتے ہوئے کہایومِ آزادی ہمیں نہ صرف اپنے وطن کی آزادی کی یاد دلاتا ہے، بلکہ یہ اس عہد کی بھی تجدید ہے کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے، کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور اس کی آزادی تک پاکستان ان کی ہر سطح پر حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مظلوم عوام کئی دہائیوں سے ظلم، جبر اور ناانصافی کا سامنا کر رہے ہیں، مگر ان کے حوصلے آج بھی بلند ہیں،کشمیر جلد آزاد ہوگا، یہ وقت کی آواز اور حق کی جیت ہمیشہ ہوتی ہے۔راشد محمود نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کا رشتہ صرف زمین کا نہیں، دلوں کا ہے،یقین ہے، وہ دن ضرور آئے گا جب سری نگر میں بھی آزادی کا پرچم لہرائے گا۔