قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی پی آئی اے کوفوری طور پر ملتان-کوئٹہ سمیت دیگر روٹس پر پروازیں شروع کرنے کی سفارش

جمعہ 29 اگست 2025 20:00

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اگست2025ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات نے پی آئی اے کوفوری طور پر ملتان-کوئٹہ سمیت دیگر روٹس پر پروازیں شروع کرنے کی سفارش کی ہے، کمیٹی نے جاری نجکاری عمل کے تناظر میں بیڑے کی توسیع کو اولین ترجیح دینے کی ہدایت کی، کمیٹی نے ملتان میں ایل پی جی دھماکے سے متاثرہ شہریوں کو معاوضہ جات دینے کے طریقہ کار کو سراہا تاہم ہدایت کی کہ فراہم کردہ اعداد و شمار کو درستگی کے لیے ازسرنو جانچا جائے۔

قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کا اجلاس جمعہ کویہاں چیئرمین کمیٹی سید عبدالقادر گیلانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین اوگرا نے ملتان میں ایل پی جی دھماکے کے حوالے سے پیش رفت پر کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی۔

(جاری ہے)

کمیٹی نے متاثرہ شہریوں کو معاوضہ جات دینے کے طریقہ کار کو سراہا تاہم ہدایت کی کہ فراہم کردہ اعداد و شمار کو درستگی کے لیے ازسرنو جانچا جائے۔

کمیٹی نے پی آئی اے کے محدود بیڑے پر تشویش کا اظہار کیا اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت پی آئی کے فضائی بیڑے میں صرف دو اے ٹی آرطیارے فعال ہیں۔ ارکان نے کہا کہ پروازوں کی کمی سے خصوصاً جنوبی روٹس پر عوام کو مشکلات کاسامنا ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ پی آئی اے فوری طور پر ملتان-کوئٹہ سمیت دیگر روٹس پر پروازیں شروع کرے اور بیڑے کی توسیع کو جاری نجکاری عمل کے تناظر میں اولین ترجیح دی جائے۔

اجلاس میں عالمی بینک کے ساتھ جاری منصوبوں پر بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اس وقت 55 فعال منصوبے بینک کی مالی معاونت سے جاری ہیں۔ تاہم کمیٹی نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ ان منصوبوں کی ترجیح بندی میں قومی اسمبلی کے منتخب نمائندوں کو خاطر خواہ شامل نہیں کیا جاتا اور زیادہ تر منصوبے براہِ راست صوبائی حکومتوں کو دے دیئے جاتے ہیں۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ پنجاب اور سندھ کے صوبائی منصوبہ بندی و ترقیاتی محکمے آئندہ اجلاس میں خصوصی بریفنگ دیں گے۔

کمیٹی نے زور دیا کہ ڈونر فنڈڈ منصوبوں کے انتخاب اور نفاذ میں پارلیمانی نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ ارکان نے خاص طور پر اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ شہری شعبوں کو امداد کی تقسیم میں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی نے بلوچستان کے انٹیگریٹڈ فلڈ ایمرجنسی پراجیکٹ کا بھی تفصیلی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کی کارکردگی پر بھی بریفنگ دی گئی جو سابقہ پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے منصوبوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

ارکان نے خدشہ ظاہر کیا کہ بار بار فنڈز مختص ہونے کے باوجود کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو رہی اور فنڈز ضائع ہو جاتے ہیں۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس مکمل ریکارڈ بشمول فنڈز کی تقسیم، اخراجات اور نتائج کمیٹی کے سامنے پیش کرے۔ مزید یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کو ذیلی کمیٹی کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے جبکہ زیر التوا امور دوبارہ مین کمیٹی کو بھیجے جائیں۔اجلاس میں سید عبدالقادر گیلانی، سید سمیع الحسن گیلانی، میجر (ر) طاہر اقبال، اختر بی بی، ناز بلوچ، ازبل زہری اور فرحان چشتی کے علاوہ متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔