مارک زکربرگ نے ہوائی میں گھر کی تعمیر کے ساتھ دنیا کی تباہی سے بچنے کے لیے زیرزمین پناہ گاہ بھی بنائی ہے. امریکی میگزین

امریکا کی کئی نجی کمپنیا ں دوردرازعلاقوں میں زیرزمین بنکروں کا کاروبار کررہی ہیں‘ ایک کمپنی دنیا بھر کے امیرلوگوں سے سالانہ کروڑوں ڈالر ممبرشپ فیس وصول رہی ہے‘ کمپنی کا دعوی ہے دنیا کی تباہی کی صورت میں وہ ممبران کو خلائی جہازوں کے ذریعے زمین کے مدار سے باہر لے جائے گی.رپورٹ‘یہ خوف اور ذہنی مرض ہے جس سے خوف کا کاروبار کرنے والے دہائیوں سے فائدہ اٹھارہے ہیں.ماہرین

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات 30 اکتوبر 2025 14:45

مارک زکربرگ نے ہوائی میں گھر کی تعمیر کے ساتھ دنیا کی تباہی سے بچنے ..
نیویارک(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔30 اکتوبر ۔2025 ) معروف سوشل میڈیا کمپنی فیس بک کے بانی مارک زکربرگ امریکی ریاست ہوائی میں اپنے 1400 ایکٹر رقبے پر پھیلے فارم میں گھر کی تعمیر کر رہے ہیں وائر میگزین کے مطابق اس عمارت کے ساتھ ممکنہ عالمی ایٹمی جنگ سے بچنے کے لیے پناہ گاہ بھی بنائی گئی ہے جو بجلی کی رسد اور خوراک کی فراہمی کے معاملے میں خودکفیل ہو گی یعنی اس کمپاﺅنڈ کا خوراک اور بجلی کے حوالے سے بیرونی دنیا پر دارومدار نہیں ہو گا.

(جاری ہے)

امریکی جریدے کے مطابق مارک زکربرگ کی عمارت کے گرد چھ فٹ اونچی دیواربنائی گئی ہے تاکہ قریب موجود سٹرک سے اس کمپاﺅنڈ کے اندر کچھ دکھائی نہ دے یہ کمپاﺅنڈ گذشتہ کچھ عرصے سے خبروں میں ہے اور مقامی لوگوں نے اتنے بڑے رقبے پر تعمیرات کو جزیرے کے لیے خطرناک قراردیا تھا اسی طرح علاقے میں زمین کی خریداری کے طریقہ کار حوالے سے بھی وہ تنقید کی زدمیں رہے ہیں گزشتہ سال انہوں نے وضاحت کی کہ اس کمپاﺅنڈ میں 5000 ہزار مربع فٹ پر پھیلا زیر زمین رقبہ ایک چھوٹی سی پناہ گاہ ہے بالکل ایک بیسمنٹ کی طرح زکربرگ کی اس وضاحت کے باوجود افواہوں کا سلسلہ تھما نہیں اس کو ہوا اس وقت بھی ملی جب انہوں نے ریاست کیلیفورنیا کے شہر پاﺅلو آلٹو کے مضافات میں 11 جائیدادیں خریدیں جن میں 7000 مربع فٹ زیر زمین جگہ بھی ہے اس جگہ کے بلڈنگ پرمٹ میں اس مقام کو بیسمنٹ یا تہہ خانہ کہا گیا ہے لیکن ”نیویارک ٹائمز “کا کہنا ہے کہ ان کے ہمسائے اسے بنکر یا ارب پتی شخص کی غار قرار دیتے ہیں اطلاعات ہیں کہ مارک زکربرگ کے علاوہ دیگر ٹیکنالوجی کپمنیوں کے مالکان بھی ایسی زمینوں کی خریداری میں مصروف ہیں جن کے ساتھ باقاعدہ تہہ خانے یا مشکل صورتحال میں پناہ لینے کی غرض سے بنائی گئی جگہیں ہیں جن میں لنکڈ ان کمپنی کے شریک بانی ریڈ ہیفمن‘ اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین‘ٹیسلا اور ایکس کے مالک ایلون مسک اور دیگر امریکی ارب پتی شامل ہیں.

امریکیوں میں یہ رجحان نیا نہیں ہے بلکہ پہلی جنگ عظیم سے امریکا اور مغربی دنیا میں یہ رجحان موجود ہے جسے ماہرین ارب پتی کمپنیوں کا ”بزنس ماڈل“قراردیتے ہیں کیونکہ امریکا اور مغربی ممالک میں بہت ساری نجی کمپنیوں نے بھی زیرزمین بنکرتعمیر کررکھے ہیں جن میں سالوں کے حساب سے خوراک‘آکسیجن اورتوانائی کے ذخائرموجود ہیں یہ کمپنیاں عالمی ایٹمی جنگ اوردنیا کے ختم ہوجانے کے خوف کا شکارلوگوں سے سالانہ ہزاروں ڈالر ان پناہ گاہوں کا کرایہ ‘دیکھ بھال‘خوراک کے ذخائرکو مستحکم رکھنے کے وصول کرتی ہیں اور سال میں انہیں ایک بار ان بنکروں کا دورہ کروادیا جاتا ہے تاہم یہ یقینی نہیں کہ کسی عالمی ایٹمی جنگ کی صورت میں یہ بنکر بچ جائیں گے یا نہیں.

اسی طرح امریکا میں ایک کمپنی دنیا بھر کے امیرلوگوں سے ممبرشپ وصول کرتی ہے اس کمپنی کا دعوی ہے کہ وہ دنیا کی تباہی کی صورت میں اپنے ممبران کو خلائی جہازوں کے ذریعے زمین کے مدار سے باہر لے جائے گی ‘ان خلائی جہازوں میں بھی لمبے عرصے تک کی خوراک اور دیگر ضروریات کا سامان فراہم کرنے کا دعوی کیا جاتا ہے. امریکا متعددماہرین اسے ایک ذہنی بیماری قراردیتے ہیں ان کا کہنا ہے پہلی عالمی جنگ سے امراءمیں خوف کی اس بیماری نے جنم لیا اور بعض کمپنیوں اور افرا دنے اسے بڑھاوادے کر کمائی کا آسان ذریعہ بنالیا روس کے ساتھ سرد جنگ کے زمانے میں خوف کا یہ کاروبار اپنے عروج تک جاپہنچا‘ماہرین کا کہنا ہے چونکہ ایسے نظریات بااثرلوگوں کی جانب سے پیش کیئے جاتے ہیں تو ان کا اثرپورے معاشرے پر ہوتا ہے .

انہوں نے مثال دی کہ صدر ٹرمپ کے دوسری مرتبہ عہدہ صدارت سنبھالنے اور روس‘یوکرین‘ایران‘اسرائیل جنگ ‘مشرق وسطی میں کشیدگی اور چین کے ساتھ امریکا کے تعلقات میں تناﺅ پر سوشل میڈیا پر ایسی متنازعہ تھیوریزکو بڑھاوا دیا گیا ‘اسی طرح عام شہریوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ بنکوں اور دیگر جگہوں پراپنی سرمایہ کاری کو نکال کر سونا یا چاندی خریدکررکھ لیں جس کے نتیجے میں امریکا اور یورپ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ ہوگیاانہوں نے اسے خوف کا کاروبار کرنے والوں کی کارستانی قراردیتے ہوئے کہا کہ افواہیں‘سازشی تھیوریزامریکا اور مغربی اقوام کے شعور کا حصہ بنادی گئی ہیں ایسے میں جب کوئی مشہور انسان گھر میں پناہ گاہ بنادے تو ایسی خبر سازشی تھیوریزکو مزید تقویت دیتی ہے.

انہوں نے کہاکہ چند سالوں کی سوشل میڈیا فیڈنکال کرجائزہ لیا جائے تو ممکنہ عالمی ایٹمی جنگ‘دنیا کی مکمل تباہی‘مصنوعی ذہانت کا دنیا پر کنٹرول جیسے موضوعات امریکا اور مغربی دنیا کے شہریوں کا پسندیدہ اور سب سے زیادہ دیکھا اور پڑھا جانے والا موضوع رہے ہیں‘آج بھی امریکا اور مغربی دنیا میں خلائی مخلوق‘اڑن تشتریاں‘عالمی ایٹمی جنگ‘دنیا کی مکمل تباہی ‘دنیا میں آخری انسانی نسل اور مصنوعی ذہانت کے دنیا پر مکمل کنٹرول جیسے موضوعات روایتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر یقینی کامیابی کی گارنٹی ہیں کیونکہ امریکا اور مغرب کی کئی ارب کی آبادی ان پربغیر کسی ٹھوس ثبوت کے یقین رکھتی ہے.