ضمنی الیکشن میں کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری، طلال چوہدری کے بھائی کو نوٹیفائی نہیں کیا گیا

این اے 96 فیصل آباد سے کامیاب بلال چوہدری کا نوٹیفکیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پروکا گیا ہے؛ الیکشن کمیشن

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 27 نومبر 2025 11:43

ضمنی الیکشن میں کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری، طلال چوہدری کے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 نومبر2025ء) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کی 5 اور صوبائی اسمبلی کی7 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے بھائی کو نوٹیفائی نہیں کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے این اے 18 ہری پور سے بابر نواز خان، این اے 104 فیصل آباد سے دانیال احمد، این اے 129 لاہور سے محمد نعمان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا، این اے 143 سے محمد طفیل، این اے 185 سے محمود قادر خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا تاہم ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر این اے 96 فیصل آباد کا نوٹیفکیشن روک دیا گیا جہاں سے طلال چوہدری کے بھائی بلال بدر کامیاب ہوئے تھے۔

بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے پی پی 73 سرگودھا سے میاں سلطان علی رانجھا، پی پی 87 میانوالی سے علی حیدر نور اور پی پی 98 فیصل آباد سے آزاد علی تبسم کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا، پی پی 115 سے محمد طاہر پرویز، پی پی 203 ساہیوال سے محمد حنیف، پی پی 116 فیصل آباد سے احمد شہریار اور پی پی 269 مظفر گڑھ سے میاں علمدار عباس قریشی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی 6 اور صوبائی اسمبلی کی 7 نشستوں پر ہوئے ضمنی انتخابات کے ووٹر ٹرن آؤٹ کے بارے میں اعداد و شمار بھی جاری کیے ہیں، ضمنی انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ مجموعی طور پر 28.58 فیصد رہا، این اے 18 ہری پور میں ووٹر ٹرن آؤٹ 42.09 فیصد رہا، این اے 185 پر ووٹر ٹرن آؤٹ 32.61 فیصد، این اے 96 فیصل آباد میں 26.46 فیصد، این اے 143 ساہیوال میں 21.43 فیصد رہا ہے۔

الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ این اے 129 لاہور میں ووٹر ٹرن آؤٹ 18.67 فیصد، این اے 104 فیصل آباد میں 13.23 فیصد، پی پی 269 مظفر گڑھ میں 50.82 فیصد، پی پی 98 فیصل آباد میں 36.82 فیصد رہا، پی پی 73 سرگودھا میں ووٹر ٹرن آؤٹ 34.45 فیصد، پی پی 87 میانوالی میں 27 فیصد، پی پی 116 فیصل آباد میں 22.94 فیصد اور پی پی 203 ساہیوال میں 22.4 فیصد رہا۔