نہ وفاق نہ صوبہ، کراچی کے مسائل کا حل صرف با اختیارمیگاسٹی حکومت ہے ،منعم ظفر خان

کراچی کے حق کی جدو جہد جاری رہے گی ، پولیس تشدد، گرفتاریاں اور دہشت گردی کے مقدمات ہمارا راستہ نہیں روک سکتے ،پریس کانفرنس

پیر 23 فروری 2026 18:55

!کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 فروری2026ء) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے پیر کوادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر واضح اور دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ نہ وفاق نہ صوبہ، کراچی کے مسائل کا حل صرف اور صرف بااختیارمیگاسٹی حکومت ہے ، کراچی کے حق اور عوامی مسائل کے حل کی جدو جہد جاری رہے گی ، پولیس تشدد، زہریلی آنسوگیس ، گرفتاریاں اور دہشت گردی کے مقدمات ہمارا راستہ نہیں روک سکتے ، 27فروری سے جینے دوکراچی جلسوں کا آغاز ہو رہا ہے ،27فروری کو اورنگی ٹائون ، 28فروری کو لیاقت آباد اور یکم مارچ کو آر سی ڈی گرائونڈ ملیر میں جلسے ہوں گے جن سے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن خصوصی خطاب کریں گے ، رمضان المبارک میں 13مقامات پر جلسے کریں گے جبکہ عید الفطر کے بعد جینے دو کراچی تحریک مزید تیز کی جائے گی ۔

(جاری ہے)

جماعت اسلامی پرامن ،آئینی اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے لیکن احتجاج گھربیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا ،احتجاج تو سڑکوں پر ہی ہوتا ہے ، ہمارے پرامن احتجاج کو کوئی نہیں روک سکتا، 18اکتوبر کو ہر سال شاہراہ فیصل پر سانحہ کارساز کی یادمنائی جاتی ہے، پیپلز پارٹی بتائے کہ جب اسے وہاں لوگوں کو جمع کرنے کا حق ہے تو ہر سیاسی جماعت کو شاہراہ فیصل پر جمع ہونے کا حق حاصل ہے ، آج شہر کراچی کی ضرورت بااختیار بلدیاتی نظام ہے ، کراچی کے منتخب نمائندوں کو اختیارات اور وسائل دیے جائیں، اٹھارہویں ترمیم کی اصل روح یہ ہے کہ جمہوریت کو نچلی سطح تک لے جایا جائے اور بلدیاتی ادارے توجمہوریت کی نرسری ہوتے ہیں لیکن پیپلز پارٹی اختیارات دینے کو تیار نہیں ، ایم کیوایم 1986سے آج تک ہر حکومت کا حصہ رہی اور مفادات سمیٹتی رہی ہے ، اسی طرح پیپلز پارٹی بھی18 برس سے صوبے اور شہر کے تمام اداروں پر قابض ہے اورشہر تباہی کے دہانے تک پہنچادیا ہے، یہ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کو سپورٹ کرتی رہی ہیں،ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کراچی کے وسائل اور اختیارات کو قبضہ کرنے میں ایک دوسرے کے ہم پیالہ اور ہم نوالہ ہیں، جب کے بی سی اے کو ایس بی سی اے میں تبدیل کیا گیا ،سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بنایا گیا تو یہ دونوں جماعتیں اتحادی تھیں ،جب 1997میں کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن ‘جس کا کراچی ٹرانسپورٹ میں کلیدی کردار تھاکو ختم کردیا گیاتو اس وقت بھی وزیر ٹرانسپورٹ ایم کیو ایم کے بشیر فاروقی تھے ۔

کراچی کا شمار دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے شہروں میں ہوتا ہے لیکن یہاں کے شہریوں کو بنیادی سہولتیں بھی حاصل نہیں ہیں، نعمت اللہ خان کو دور میں کراچی میں بے مثال ترقیاتی کام ہوئے لیکن افسوس اس کے بعد اس شہر کو کسی نے اون نہیں کیا ، ایم کیوایم کی صورتحال تو یہ ہے کہ چوک پر بیٹھے ہیں ،کوئی بھی آئے ،قیمت لگائے اور لے جائے ، پچھلے الیکشن میں ایم کیو ایم پورے شہر سے ایک پولنگ اسٹیشن بھی نہ جیت سکی لیکن اس ے فارم 47کے ذریعے جتوا دیا گیا ،منعم ظفر نے کہا کہ کراچی دنیا کے ناقابل رہائش173 شہروں میں 170پر ہے ، جب اہل کراچی جینے کا حق مانگنے سڑکوں پر نکلتے ہیںاور شہر کے وسائل کو شہر پر خرچ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو انہیں لاٹھی ،گولی ، شیلنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان پر انسداد ہشت گردی کی دفعات لگائی جاتی ہیں، انہوںنے کہا کہ صورتحال یہ ہے کہ رمضان کے مہینے میں بھی شہر کے 50فیصد سے زائد علاقوں میں پینے کا پانی میسر نہیں ہے ،اب تو عدالت بھی یہ بات کہتی ہے کہ ٹینکرز کے ذریعے پانی کی فراہمی ختم کی اور نلکوں کے ذریعے پانی فراہم کیا جائے ، 21سال گزرچکے ہیں لیکن کے فور منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہوسکا ،ٹینکر مافیا اربوں روپے کما رہی ہے ،اس وقت شہر کا انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہے ،سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں، جگہ جگہ گٹر بہہ رہے ہیں ، جہانگیر روڈ ،ایم ایم عالم روڈ ، کریم آباد انڈر پاس، منور چورنگی انڈر پاس تباہ حال ہے ، ایسے حالات میں وزیر ٹرانسپورٹ فرماتے ہیںکہ ریڈ لائن منصوبہ اگلی نسلوں کے کام آئے گا ، یعنی ان کامنصوبہ صرف یہ ہے کہ کرپشن کرتے رہیں ، اہل کراچی کب تک اذیت کا شکار رہیں گے ،79بلین روپے کا یہ پروجیکٹ آج 103ارب روپے پر پہنچ گیا ہے ، آج بھی آپ یہ کہتے ہیں کہ اس منصوبے کے دائیں اور بائیں سڑکوں کوعید تک موٹرایبل کردیا جائے گا، یہ کیسا مذاق ہے عوام کے ساتھ، یہ کام تو ہر پروجیکٹ کا حصہ ہوتا ہے کہ سہولت کے لیے کم ازکم متبادل سڑکیں موٹرایبل کی جائیں ،منعم ظفر خان نے کہا کہ گل پلازہ کے سانحے کے بعد یہ متعدد واقعات پیش آچکے ہیں، گزشتہ دنوں سولجربازار میں گیس لیکیج و عمارت گرنے سے 17اموات ہوئیں، گزشتہ روز نارتھ ناظم آباد گیس دھماکے سے ایک شخص جاں بحق اور پانچ افراد زخمی ہوئے ، گل پلازہ سانحے کے ایک مہینہ گزرجانے کے باوجود ابھی تک یہ حتمی طور پر طے نہیں ہوسکا کہ سانحے میں کتنے لوگ جاں بحق ہوئے ہیں، آج بھی کچھ لوگ اپنے پیاروں کی لاشوں کے منتظر ہیں، حکومت و انتظامیہ نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی جو ان واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کرے۔

پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ، پبلک ایڈ کمیٹی کے سکریٹری نجیب ایوبی ، سینئر ڈپٹی سکریٹری اطلاعا ت صہیب احمدبھی موجود تھے ۔