جی ڈی اے نے گورنرکی جانب سے صوبے کی تقسیم سے متعلق بیان کو سختی سے مسترد کردیا

جمعرات 26 فروری 2026 19:30

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 فروری2026ء) گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی ای)کے مرکزی رہنماؤں صفدر عباسی ، لیاقت علی خان جتوئی، سید زین شاہ اور سردار عبدالرحیم نے اپنے مشترکہ بیان میں سندھ کے گورنر کی جانب سے صوبے کی تقسیم سے متعلق بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ ایک تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی اکائی ہے جس کی تقسیم کسی صورت قابل قبول نہیں ۔

رہنماؤں نے کہا کہ آئینِ پاکستان کے مطابق کسی بھی صوبے کی تقسیم کا عمل نہایت پیچیدہ اور مشکل ہے ، کیونکہ اس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی اور پارلیمنٹ دونوں میں دو تہائی اکثریت کی منظوری درکار ہوتی ہے ، جو عملا ممکن نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے بیانات محض سیاسی مقاصد کے حصول اور سستی شہرت کے لیے دیے جا رہے ہیں ۔

(جاری ہے)

جی ڈی اے کے رہنماں نے مزید کہا کہ وہ تقسیم اور نفاق کی سیاست کے سخت خلاف ہیں ۔

انہوں نے واضح کیا کہ جی ڈی اے کے سربراہ پیر صاحب پگارا کا نعرہ متحد سندھ ، مضبوط پاکستان ان کی سیاسی جدوجہد کا محور ہے ۔ رہنماں نے کہا کہ ان کی سیاست کا مقصد عوام کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا اور اتحاد کے ذریعے سندھ کے عوام کو کرپٹ حکمرانی سے نجات دلا کر دیرینہ مسائل کا حل نکالنا ہے ۔مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ سندھ کی تقسیم یا نئے صوبے بنانے کی باتیں دراصل عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہیں۔

رہنماں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے لسانی بنیادوں پر سیاست کر کے عوام میں نفرت کو ہوا دی ، جس کے باعث ان کی مقبولیت میں واضح کمی آئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ اٹھارہ برسوں میں پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ کے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ تعلیم اور صحت کے شعبے زوال کا شکار ہوئے جبکہ کرپشن کے ذریعے اربوں روپے ضائع کیے گئے ۔

اسی طرح ایم کیو ایم پاکستان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس جماعت نے کراچی اور حیدرآباد کے عوام کو مایوس کیا اور شہری مسائل کے حل میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ۔جی ڈی اے رہنماں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ کی تقسیم کی کسی بھی کوشش کی ہر سطح پر بھرپور مخالفت کریں گے اور اس معاملے پر ہر آئینی ، قانونی اور عوامی فورم پر خلاف آواز اٹھانے کا عزم رکھتی ہے۔