Live Updates

ًمصنوعی ذہانت میڈیکل ، جنگوں سمیت ہر شعبہ میں انقلاب برپا کررہی ہے،سپیکر پنجاب اسمبلی

۷نوجوانوں کو بڑے بڑے خواب دیکھنے چاہیے کیونکہ یہ خواب ہی قوم کا مقدرہیں اوران کے خواب شرمندہ تعبیرہونے چاہیے ؒوزیر اعلیٰ پنجاب کا انٹرنشپ پروگرام بہترین انداز میں آگے بڑھ رہا ہے، ملک محمد احمد خان کا پنجاب یونیورسٹی میں خطاب

بدھ 29 اپریل 2026 20:35

1لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 29 اپریل2026ء) سپیکرپنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور سوشل ویلفیئر سنجیدہ موضوع ہے ،ایران اورامریکہ جنگ میں تباہی کے بعدیہ سوال پیدا ہوا کہ کیا مصنوعی ذہانت کوئی ایسی تخلیق بھی کرسکتی ہے جس سے تباہی روکی جاسکے اور کونسے لوگ ہیں جو قدم اٹھائیں گے اور دنیا میں امن قائم ہوگا۔

وہ پنجاب یونیورسٹی شعبہ سوشل ورک کے زیر اہتمام ریسرچ کنسلٹنسی آن سوشل اینڈمینجمنٹ ڈیولپمنٹ کے اشتراک سے ’مصنوعی ذہانت، سماجی تبدیلی، اور سائنسی ترقی‘ کے عنوان پرتیسری بین الاقوامی کانفرنس سے الرازی ہال میں خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر سینیٹر بشریٰ انجم بٹ، وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر محمد علی، ڈی جی پیمراپنجاب عائشہ منظور وٹو ،آئی جی جیل خانہ جات میا ں فاروق نذیر، چیئرپرسن شعبہ سوشل ورک پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ عاشق ، این جی اوز کے نمائندگان، پنجاب یونیورسٹی سمیت دیگر جامعات سے اساتذہ اور طلبائوطالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

(جاری ہے)

اپنے خطاب میں ملک محمد احمد خان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت میڈیکل اور جنگوں سمیت ہر شعبہ زندگی میں انقلاب برپا کررہی ہے ،مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی جنگوں میں وار مشین بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بڑے بڑے خواب دیکھنے چاہیے کیونکہ یہ خواب ہی قوم کا مقدرہیں اوران کے خواب شرمندہ تعبیرہونے چاہیے۔ انہوں نے طلبہ سے کہا کہ طے کریں کہ انہیں مستقبل میں کیا کرنا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا انٹرنشپ پروگرام نوجوان طلبہ میں بہت مقبول ہے اور بہترین انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انٹرنشپ پروگرام میں سوشل ورک کے طلبہ کو بھی شامل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آئی جی جیل خانہ جات کے اصلاحتی اقدامات پر انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری ملنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ہم وہ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ دنیا میں امن قائم ہو۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ معاشرہ میں توازن کیلئے سوشل سائنسز سمیت تمام علوم کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں تقریباً نوے ڈگریاں ایسی ہیں جو سوشل سائنسز کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرہ میں ایسی ڈگریوں کی بہت ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت سب کو آتی ہوگی کیونکہ یہ کوئی ڈگری نہیں ،سب سیکھ سکتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں اصلاحات کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔ انہوں نے بہترین کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین کی کاوشوں کوسراہا۔سینیٹر بشری انجم بٹ نے کہا کہ نوجوانوں کا اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے آگے بڑھنا معاشرے کے لئے نیک شگون ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نوجوان ہی مستقل کے لیڈر ہیں کیونکہ نوجوانوں کی آواز اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بند کمروں میں قوانین تو بن سکتے مگر ان پر عملدرآمد کے لئے آپکی مدد ضروری ہے۔

انہوں نے کہا نوجوانوں سے ہی بات کرکے پتہ چلے گا کہ خامیاں کہا ں ہیں تاکہ بہتری لائی جاسکے۔عائشہ منظور وٹو نے کہاکہ آج دنیا میں اقوام غور کررہی ہیں کہ مصنوعی ذہانت سے کتنا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ،تاہم ہم اس سہولت کو حاصل کرنے میں تاخیر کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک مربوط پالیسی بنائی ہے جو مثبت انداز میں مصنوعی ذہانت کے منفی محرکات پرگہری نظر رکھ پائے گی۔

انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے موقع پر بھارت نے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے پاکستان کے خلاف جو پراپیگنڈا کیا اس کاہماری عسکری قیادت نے منہ توڑ جواب دیا۔انہوں نے کہا کہ انسانوں کی جگہ اس ٹیکنالوجی نے لے لی ہے ،ڈاکٹرز اور نرسز کی جگہ اے آئی روبوٹ لے چکے ہیں اور امراض کی جدید انداز میں تشخیص ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم وتحقیق کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کا استعمال انتہائی سود مند ہے ،اب طے یہ کرنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو ہم نے کنٹرول کرنا ہے یا اس نے ہمیں کنٹرول کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ،پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو ایک پیج پر لانا ہوگا ان کی ایک ہی ریگولیٹری باڈی ہونی چاہیے تاکہ ان کو ریگولیٹ کرنے کی پالیسی بھی ایک ہی بن جائے، اس حوالے سے پیمرا ہر تعاون کے لیے تیار ہے۔ آئی جی جیل خانہ جات فاروق نذیرنے کہا کہ میں خود بھی سوشل ورک کا طالب علم رہا ہوں اور اس تعلیم نے میری پوری سروس میں فائدہ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس شعبہ کا مستقبل روشن ہے اور نوکریوں کے مواقع بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپنے شعبہ کے حوالے سے آپ لوگوں کوسمارٹ ہونا ہوگا کیونکہ ٹیکنالوجی سے اب چزیں مہنیوں یا ہفتوں کی بجائے سیکنڈز میں تبدیل ہورہی ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ عاشق نے معزز مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ معاشرے کی فلاح و بہبو د کیلئے پنجاب یونیورسٹی کاشعبہ سوشل ورک بھرپور کردار ادا رکرتا رہے گا
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات